برطانوی حکام کے مطابق تقریباً 10 ہزار افغان شہری اب بھی برطانیہ منتقلی کے منتظر ہیں، جن میں سے بڑی تعداد ایسے افراد پر مشتمل ہے جنہوں نے ماضی میں برطانوی افواج اور سرکاری اداروں کے ساتھ خدمات انجام دی تھیں۔
طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد ان افراد کو ممکنہ انتقامی کارروائیوں کا سامنا ہے، جس کے باعث ان کی حفاظت ایک سنجیدہ بین الاقوامی مسئلہ بن چکی ہے۔
حکومتی اندازوں کے مطابق ان افغان شہریوں کی مکمل آبادکاری کے عمل میں مزید 3 سال لگ سکتے ہیں، جبکہ اس منصوبے پر مجموعی لاگت تقریباً 5.7 ارب پاؤنڈ تک پہنچنے کا امکان ہے۔
اس رقم میں رہائش، صحت، تعلیم اور دیگر بنیادی سہولتوں کی فراہمی شامل ہے۔ تاہم اس عمل میں تاخیر پر انسانی حقوق کی تنظیموں اور بعض سیاسی حلقوں کی جانب سے شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ برطانیہ پر اخلاقی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ان افراد کو فوری تحفظ فراہم کرے جنہوں نے اس کے ساتھ تعاون کیا۔
دوسری جانب برطانوی حکومت کا مؤقف ہے کہ منتقلی اور آبادکاری کا عمل سیکیورٹی خدشات، دستاویزی تقاضوں اور رہائشی سہولتوں کی کمی جیسے مسائل کی وجہ سے پیچیدہ ہو چکا ہے، تاہم اس عمل کو مرحلہ وار مکمل کیا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ معاملہ ناصرف انسانی ہمدردی بلکہ عالمی ذمہ داری کا بھی اہم امتحان ہے اور اس کی پیش رفت آنے والے عرصے میں عالمی توجہ کا مرکز بنی رہے گی۔