آپ آف لائن ہیں
اتوار20؍ذیقعد 1441ھ 12؍جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

امریکی سپریم کورٹ نے اسقاط حمل کیخلاف قانون کالعدم قراردیدیا

کراچی (جنگ نیوز)امریکی سپریم کورٹ نے ریاست لوزیانا کے اسقاط حمل سے متعلق ایک قانون کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔اسقاط حمل کے حق کے لیے جدوجہد کرنے والوں نے اس پر خوشی کا اظہار کیا ہے جبکہ وائٹ ہاؤس نے سپریم کورٹ کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔کنزرویٹو سمجھے جانے والے چیف جسٹس جان رابرٹس کا اقدام کچھ لوگوں کے لیے حیران کن تھا جنھوں نے چار لبرل ججوں کے ساتھ مل کر کثرت رائے سے یہ فیصلہ دیا۔صدر براک اوباما کے دور میں ریاست ٹیکساس کے ایسے ہی ایک قانون کو اس وقت کی سپریم کورٹ نے کالعدم قرار دیا تھا۔ سپریم کورٹ کے موجودہ چیف جسٹس جان رابرٹس کا کہنا ہے کہ وہ فیصلہ غلط تھا لیکن ایک نظیر قائم ہو چکی ہے۔قانون کے مطابق اپنے کلینک میں اسقاط حمل کرنے والے ڈاکٹرز کے لیے ضروری تھا کہ وہ قریبی اسپتالوں میں اپنے مریضوں کو داخل کرنے کی اجازت حاصل کریں۔ ایکٹوسٹس کو اعتراض تھا کہ خواتین کو اس عمل کے بعد کبھی کبھار ہی اسپتال میں داخلے کی ضرورت پڑتی ہے اور اسے لازم قرار دینے سے اخراجات بڑھ جائیں گے۔ چیف جسٹس نے فیصلے میں کہا کہ سابقہ فیصلوں کی عدالتی نظیر کی روشنی میں ہمارے لیے ضروری ہے کہ اگر خصوصی صورت حال نہ ہو تو تمام مقدمات کو ایک طرح سے دیکھیں۔ لوزیانا کا قانون اسقاط حمل کروانے والوں پر اسی طرح بوجھ بڑھاتا ہے جیسے ٹیکساس کا قانون کرتا تھا۔ چنانچہ لوزیانا کا قانون ہماری نظیروں کے مطابق قائم نہیں رہ سکتا۔یہ فیصلہ اس اعتبار سے اہم ہے کہ قدامت پرست امریکا میں اسقاط حمل کے حق کو ختم کروانا چاہتے ہیں۔ سپریم کورٹ کے جج اسٹیفن برائر نے لکھا کہ ججوں کی اکثریت سمجھتی ہے کہ لوزیانا کا قانون غیر آئینی ہے۔

اہم خبریں سے مزید