آپ آف لائن ہیں
پیر21؍ذیقعد 1441ھ 13؍جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

میر شکیل الرحمٰن کی گرفتاری کیخلاف پی پی سی یوکے، کے زیراہتمام احتجاجی مظاہرہ اور اجلاس

لندن(ودود مشتاق) ایڈیٹر انچیف جنگ وجیو میر شکیل الرحمٰنکی گرفتاری کے خلاف پاکستان پریس کلب یوکے، کے زیرِ اہتمام احتجاجی مظاہرہ اور اجلاس ہوا جس میں پاکستان جرنلسٹس ایسوسی ایشن ، انٹرنیشنل پاکستانی جرنلسٹس آرگنائزیشن کے علاوہ سیاسی ،سماجی رہنمائوں، وکلا طلبا اور کمیونٹی افراد شریک ہوئے۔ مظاہرین نے کتبے اٹھا رکھے تھے جن پر میر شکیل الرحمٰن کی رہائی اور آزادی صحافت کے حوالے سے نعرے درج تھے۔ مظاہرین نے میر شکیل الرحمن کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے سابق وفاقی وزیر عابد شیر علی نے کہا کہ میر شکیل الرحمٰن کی گرفتاری یہ بات ظاہر کرتی ہے کہ حکمران ٹولہ نیب کے ساتھ گٹھ جوڑ کرکے آزادی صحافت کو دبانے اور اپنی نااہلی کو چھپانا اور اپنے ساتھیوں کی چوریوں پر پردہ ڈالنا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگ اور جیو گروپ کئی دہائیوں سے پاکستان میں آزادی صحافت اور جمہوریت کے استحکام کےلئے اپنا کردار ادا کررہا ہے۔ عابد شیر علی نے کہا کہ ریاستی جبر کے ذریعے حکومت میر شکیل کی آواز دبانا چاہتی ہے اور نیب کے ساتھ مل کر انتقامی کارروائیاں کر رہی ہے جس میں اسے ناکامی ہوگی۔ انہوں نے میر شکیل کو فوری رہا کرنے کا مطالبہ کیا۔ پیپلز پارٹی برطانیہ کے صدر محسن باری نے کہا کہ پاکستان میں جمہوریت اور صحافت کو زندہ رکھنے کےلئے جس خاندان نے بے مثال کردار ادا کیا اس کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے حکومت نے عوام اور میڈیا ورکرزکو سڑکوں پر لا کھڑا کیا ہے اور ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت جنگ گروپ کو ٹارگٹ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میر شکیل کو زیادہ دیر پابند سلاسل نہیں رکھا جا سکتا۔ مسلم لیگی رہنماذاکر کیانی ، عمران سعید اور دیگر نے کہا کہ میر شکیل ارحمن کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔ پیپلز پارٹی کے رہنما احمد خان ،نوید احمد اور دیگر نے کہا کہ میر شکیل کی گرفتاری ناقابلِ قبول ہے۔ انہوں نے کہا کہ میر شکیل کو جس کیس میں گرفتار کیا گیا گیا ااس کا کوئی وجود ہی نہیں اس لئے انہیں فوری رہا کیا جائے۔ صدر پی پی سی یوکے شوکت ڈار نے کہا کہ جمہوری حکومتوں سے غیر جمہوری رویے معاشرے میں ابتری پیدا کرتے ہیں۔ اظہر جاوید نے کہا کہ پاکستان میں جمہوریت اور صحافت کو مسلسل جبر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور میر شکیل کی گرفتاری اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میر شکیل کی فوری رہائی ان کا حق ہے۔ وجاہت علی خان نے کہا کہ میر شکیل ایک ایسی تاریخ رقم کر رہے ہیں جس کی مثال دنیا میں نہیں ملتی ، غلام حسین اعوان ،راجہ فیض سلطان، سائرہ خان اور دیگر نے کہا کہ پاکستان میں جمہوریت کے استحکام اور ملکی ترقی کےلئے صحافی ہمیشہ قربانیاں دیتے چلے آئے ہیں اور میر شکیل الرحمٰن کی اس قربانی کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ اس موقع پر منعقدہ خصوصی اجلاس میں ایک متفقہ قرارداد کے ذریعے چیف جسٹس آف پاکستان سے از خود نوٹس لینے اور میر شکیل الرحمن کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا گیا۔ اس موقع پر شرکا نے لاک ڈائون کے حوالے سے عائد پابندیوں کی مکمل پاسداری کی۔

یورپ سے سے مزید