آپ آف لائن ہیں
جمعہ18؍ذیقعد 1441ھ 10؍جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group
کھلا تضاد … آصف محمود براہٹلوی
 دنیا بھر کے جمہوری ممالک میں برطانیہ کو جمہوریت کی ماں کا درجہ حاصل ہے اور لندن کو جمہوریت کا کیپٹل کہا جاتا ہے۔ یہاں سے اٹھنے والی آواز کو دنیا بھر کے ایوانوں میں سنا جاتا ہے۔ اسی لیے کہتے ہیں کہ برطانیہ سے چلنے والی کوئی بھی تحریک بالآخر کامیابی سے ضرور ہمکنار ہوتی ہے۔ برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں واقع ہائیڈ پارک ہمیشہ سے ہی احتاجی مظاہروں کا مرکز ٹھہرا ہوا ہے چونکہ برطانیہ میں کشمیر سے باہر سب سے زیادہ کشمیری آباد ہیں، بلکہ آزاد کشمیر کے بعد مقبوضہ کشمیر آزادی کی آزادی کے لیے برطانیہ ایک بہترین بیس کیمپ ہے۔ اوورسیز کمیونٹی پاکستانی و کشمیریوں کی کثیر تعداد آباد ہونے سے جہاں ہماری کمیونٹی نے تجارت، سیاست سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی میں اہم نام کمایا وہاں تحریک آزادی کشمیر کے لیے کسی نہ کسی انداز میں بھی صدائے احتجاجج بلند رکھا۔ لاکھوں کی تعداد میں مختلف نظریات بلند رکھا۔ لاکھوں کی تعداد میں مختلف نظریات کے حامل افراد آزادی کشمیر کے ون پوائنٹ ایجنڈا پر ایک ہیں۔ برطانیہ میں چونکہ آزادی اظہار رائے کا حق حاصل ہے، یہاں کے آئین و قانون کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے کوئی بھی جدوجہد بلا کسی روک و رکاوٹ کی جاتی ہے، اسی لیے تحریک فلسطین ہو، تحریک کشمیر، عراق و افغانستان جنگ ہو یا برما میں مسلمانوں کا قتل عام ہر موقع پر صدائے احتجاج بلند کیا جاتا رہا، اگر بات کی جائے مسئلہ کشمیر کی تو بطور صحافی گزشتہ ایک دہائی سے کسی نہ کسی لحاظ سے ہونے والے اجتماعات، احتجاجی مظاہرے کور کیے جاتے رہے۔ یہاں پر جہاں دیگر تنظیمیں برسر پیکار ہیں، وہاں کل جماعتی کشمیر بین الاقوامی رابطہ کمیٹی جس میں چھوٹی بڑی سترہ جماعتیں شامل ہیں اور روٹین کے مطابق ہر سال آل پارٹیز کشمیر کوآرڈینیشن کمیٹی کی صدارت و جنرل سیکرٹری شپ نمائندگی جماعتی ممبران کی رائے سے چنا جاتا ہے، اس مرتبہ صدر کل جماعتی چوہدری محمد عظیم اور جنرل سیکرٹری راجہ امجد خان ہیں۔ چونکہ گزشتہ برس5اگست کو بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں آرٹیکل370اور35Aمعطل کرکے کرفیو نافذ کردیا تھا اور اس کا سب سے بڑا ردعمل برطانیہ میں دیکھا گیا۔ 7اگست، 15اگست،27اکتوبر لندن کے مقام پر اور انفرادی طور پر برطانیہ کے تمام شہروں میں شدید عوامی ردعمل سامنے آیا۔ اگر ماضی قریب میں دیکھا جائے تو2014ء سے کشمیر ملین مارچ ہو، تحریک تحفظ بیت المقدس جو امریکی ایمبیسی کے سامنے بھرپور طاقت کا مظاہرہ کیا گیا تھا جس میں دن رات کی محنت رنگ لائی اور مطاہرے کامیاب ہوئے اور عالمی سطح پر اثرات بھی مرتب ہوئے، صرف کشمیر، فلسطین کے مظاہروں میں ہی فرنٹ لائن کا کردار نہیں ہوتا، جب بنی آخرالزمان محمد عربیﷺ کی شان اقدس میں گستاخی کی گئی، کارٹون اور فلمیں چلائی گئیں، اس وقت ورلڈ مسلم فیڈرشن اور مسلم ایکشن فورم کے ہمراہ آل پارٹیز کشمیر کوآرڈینیشن کمیٹی نےحصہ لیا، اسی لیے آزاد خطہ کی قیادت برطانیہ میں تحریک آزادی کشمیر کے حوالے سے ہونے والی جدوجہد میں معاونت و مشاورت ضرور کرتی ہے۔ وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر آزاد کشمیر نے یورپ کی سب سے بڑی لوکل کونسل برمنگھم سٹی کونسل میں مشترکہ کشمیر کے حوالے سے سیمینار سے خطاب کیا جس کے بعد کل جماعتی کشمیر رابطہ کمیٹی اور کشمیر لبریشن سیل کے درمیان ایک تاریخیMouپر دستخط ہوئے جو بہترین سنگ میل تھا۔ اسی لیے جب بطور کوآرڈینیٹر وزیراعظم آزاد کشمیر کا نوٹیفکیشن ہائی کمیشن نفیس ذکریہ کو پیش کیا گیا تو انہوں نے کہا، بہترین انتخاب ہے۔ 
یورپ سے سے مزید