آپ آف لائن ہیں
ہفتہ24؍ذی الحج 1441ھ15؍اگست 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

چاروں طرف مافیا، مافیا، محبوب وزیراعظم عمران خان کا محبوب موضوع بھی مافیا، آئے روز کہیں مافیاز کا خاتمہ میرا مشن، لیکن کیا عملی طور پر ایسا ہو رہا، محبوب وزیراعظم کے 22ماہ ہمارے سامنے، ایک نظر مار لیتے ہیں، محبوب وزیراعظم اپوزیشن کو مافیا کہیں، گا ڈ فادروں، سسلین مافیا والی اپوزیشن، 22مہینوں کی کارکردگی، نواز شریف لندن، زرداری صاحب کراچی، مریم نواز رائیونڈ محل میں، حمزہ شہباز کے علاوہ سب کی ضمانتیں ہو چکیں، نواز شریف پر خود محبوب وزیراعظم کو رحم آیا، لندن بھجوایا۔

اب پچھتا رہے، یہاں نتیجہ صفر، محبوب وزیراعظم نجی بجلی گھر ڈاکوؤں کو مافیا کہہ چکے، 5ہزار 8سو ارب کا ڈاکا مارنے اور ملک وقوم کو سالانہ 2سو ارب کا ٹیکہ لگانے والوں پر تحقیقاتی رپورٹ آچکی، یہ چین کی درخواست یا مافیا کا دباؤ، نجی بجلی گھر انکوائری رپورٹ کا کوئی اتا پتا نہیں۔

لیکن انکوائری رپورٹ کے مطابق نجی بجلی گھر ڈاکوں میں مبینہ طور پر ملوث رزاق داؤد، ندیم بابر، خسرو بختیار ابھی تک محبوب وزیراعظم کی کابینہ میں، جبکہ جہانگیر ترین سمیت ملک کے بڑے سرمایہ کار آزاد، یہاں بھی ابھی تک نتیجہ صفر۔

محبوب وزیراعظم شوگر مافیا کو مافیا کہہ چکے، ابھی دو دن پہلے قومی اسمبلی میں کہہ رہے تھے، یہ کارٹیلز، یہ مافیا، شوگر ملیں بلیک کا پیسہ وائٹ کرنے کا ذریعہ، محبوب وزیراعظم نے 80شوگر ملوں میں سے 10کا 5سالہ آڈٹ کرایا، رپورٹ پبلک کی۔

اس کے بعد مہینہ بھر خاموشی، اسی دوران شوگر مل والوں نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے اسٹے لے لیا، یہاں سے اسٹے ختم ہوا تو شوگر مل مالکان نے سندھ ہائیکورٹ سے اسٹے لے لیا۔

اسی دوران شوگر مافیا کے اہم کردار جہانگیر ترین اپنے 12ایکڑ کے لندن فارم ہاؤس سدھار گئے، جبکہ شوگر کمیشن رپورٹ کے مطابق مبینہ طور پر غلط شوگر ایکسپورٹ اجازت، سبسڈی دینے والے عثمان بزدار، اسد عمر، رزاق داؤد ابھی تک عہدوں پر موجود۔

یہاں بھی نتیجہ صفر، محبوب وزیراعظم کئی بار کہہ چکے کہ میڈیا میں مافیا بیٹھا ہوا، ہم درخواستیں کر کر تھک چکے، آپ کے پاس سب وسائل، تمام ایجنسیاں، ادارے، آپ بےنقاب کریں، محبوب وزیراعظم میڈیا کی مُشکیں تو مسلسل کَس رہے مگر 22ماہ ہوگئے میڈیا میں مافیا کی نشاندہی نہ کر سکے، یہاں بھی نتیجہ صفر۔

محبوب وزیراعظم دوائیوں والوں کو بھی مافیا کہہ چکے، ادویات اسکینڈل آیا، وزیرصحت عامر کیانی کو عہدے سے ہٹا دیا، تحقیقات کرانے کا اعلان فرمایا۔

ایک رپورٹ بھی بنی، پھر لمبی چپ، کچھ عرصہ بعد محبوب وزیراعظم نے عامر کیانی کو پارٹی سیکریٹری جنرل بنا دیا، پھر چراغوں میں روشنی نہ رہی، یہاں بھی نتیجہ صفر، محبوب وزیراعظم آٹا، گندم والوں کو بھی مافیا کہہ چکے، ملک میں آٹے، گندم سے گودام بھرے ہوئے تھے مگر آٹے، گندم کا بحران پیدا ہوگیا۔

محبوب وزیراعظم نے تحقیقات کا حکم دیا، تحقیقات ہوئیں، تحقیقاتی رپورٹ آئی، عثمان بزدار حکومت، کے پی حکومت، سندھ حکومت، پاسکو ذمہ دار ٹھہرے، چند تبادلوں کے علاوہ کچھ نہ ہوا، یہاں بھی نتیجہ صفر۔

محبوب وزیراعظم پٹرول والوں کو بھی مافیا کہہ چکے، ملک میں پٹرول وافر مقدار میں موجود تھا، پٹرول مافیا نے مصنوعی بحران پیدا کر دیا، تحقیقاتی کمیٹی بیٹھی، رپورٹ آئی، پہلے 6کمپنیوں کو 4کروڑ جرمانہ، پھر 3آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو ڈیڑھ کروڑ جرمانہ، حکومت دعوے کرتی رہی 3دن میں پٹرول بحران ختم ہو جائے گا مگر یہ دعوے، دعوے ہی رہے، آخرکار ایک شام وزیراعظم نے اچانک 25روپے فی لیٹر پٹرول مہنگا کر دیا۔

تیل مہنگا کرتے وقت محبوب وزیراعظم نے اوگرا تک سے مشورہ نہ کیا، یہ بتا دوں جب آئل مہنگا کیا جا رہا تھا تب کراچی کیماڑی ٹرمینل پر 3 کمپنیوں اور پورٹ قاسم پر ایک کمپنی کے پاس مجموعی طور پر 80ہزار میٹرک ٹن تیل موجود تھا اور ان کمپنیوں نے پٹرول پمپوں کو تیل کی سپلائی روک رکھی تھی۔

یہ بھی ذہنوں میں رہے کہ تیل کی قیمتیں بڑھانے سے 3سو ارب کا فائدہ ہوا آئل کمپنیوں کو، 3سو ارب نکل گئے عوام کی جیب سے، مطلب جن آئل کمپنیوں کو ساڑھے 6کروڑ جرمانے کئے گئے، یہی کمپنیاں اربوں کما گئیں۔

یہ بھی سنتے جائیے، پٹرول 74روپے 52پیسے فی لیٹر تھا، تب فی لیٹر ٹیکس 41روپے، جس میں 30روپے لیوی، 14روپے 55پیسے جی ایس ٹی، 2روپے 44پیسے کسٹم ڈیوٹی، پھر فی لیٹر پٹرول خرچہ 9روپے 70پیسے، اب قیمت 100روپے فی لیٹر، ٹیکس 44روپے 55پیسے، خرچہ 9روپے 70پیسے، مطلب پٹرول کی baseپرائس ہوئی 45روپے 75پیسے یعنی baseپرائس 90فیصد بڑھ گئی۔

اب عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا 17فیصد، لیکن ہمارے ہاں baseپرائس بڑھی 90فیصد، سب فائدہ پہنچا آئل کمپنیوں کو، خیر اس لڑائی کا نتیجہ نکلا، محبوب وزیراعظم ہارگیا، تیل مافیا جیت گیا۔

اب 22ماہ بعد زمینی حقائق یہ، میر امحبوب وزیراعظم چینی مافیا سے لڑا، چینی 55روپے فی کلو سے 85روپے فی کلو تک جا پہنچی، محبوب وزیراعظم آٹا مافیا سے لڑا، آٹے کا 6سوکا تھیلا 11سو روپے کا ہوا، محبوب وزیراعظم پٹرول مافیا سے لڑا، پٹرول 74روپے فی لیٹر سے 100روپے فی لیٹر ہوگیا، محبوب وزیراعظم ادویات مافیا سے لڑا۔

ادویات کی قیمتوں میں 2سو سے 4سو فیصد اضافہ ہوگیا، محبوب وزیراعظم بجلی مافیا سے لڑا، بجلی کی قیمت ہزاروں گنا بڑھ گئی، محبوب وزیراعظم گیس مافیا سے لڑا، گیس کی قیمتیں آسمان کو چھورہیں، محبوب وزیراعظم ڈالر مافیا سے لڑا، ڈالر 122سے 165روپے تک جا پہنچا، محبوب وزیراعظم گاڈ فادروں، سسلین مافیا سے لڑا، سب چھوٹ گئے، محبوب وزیراعظم کورونا سے لڑا، کورونا گھر گھر پہنچ گیا۔

محبوب وزیراعظم ٹڈی دل سے لڑا، ٹڈی دل 50سے زیادہ ضلعوں میں تباہی مچا چکی، محبوب وزیراعظم معاشی محاذ پر لڑا، معیشت کا جو حال، وہ سب کے سامنے، یہ ہے محبوب وزیراعظم کی 22ماہ کی مافیا سے لڑائیاں، نتیجہ آپ کے سامنے، فیصلہ آپ کا، لیکن اس وقت جب تبدیلی سرکار تبدیلی قصے، مائنس ون فارمولا کہانیاں عروج، جب محبوب وزیراعظم کہہ چکا ’’کرسی نہیں اللہ پھر بھروسہ، میں مائنس بھی ہو گیا تب بھی کسی مافیا کو نو این آر او‘‘ تب یہ ضرور کہنا، کاش محبوب وزیراعظم 22ماہ ضائع نہ کرتے۔