آپ آف لائن ہیں
منگل13؍ذی الحج 1441ھ 4؍اگست 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

شوگر رپورٹ پر عملدرآمد روکنے کا فیصلہ معطل کرنے کی استدعا مسترد


سپریم کورٹ آف پاکستان نے شوگر کمیشن رپورٹ پر عمل درآمد روکنے کا فیصلہ معطل کرنے کی استدعا مسترد کر دی۔

شوگر کمیشن رپورٹ پر کارروائی روکنے کے خلاف حکومتی اپیل پر سپریم کورٹ آف پاکستان میں چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے سماعت کی۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے اٹارنی جنرل سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل صاحب اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی مقدمے میں فیصلہ دیا ہے، کیا سندھ ہائی کورٹ کے علم میں یہ بات نہیں لائی گئی؟

اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ شوگر ملز کی درخواست میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کا ذکر ہے، سندھ ہائی کورٹ کے عبوری حکم میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کا ذکر نہیں ہے، کمیشن رپورٹ میں شوگر ملز پر بہت سے الزامات سامنے آئے ہیں۔

چیف جسٹس گلزار احمد نے استفسار کیا کہ کیا کمیشن کو شوگر ملز کو مؤقف کا موقع نہیں دینا چاہئے تھا؟

اٹارنی جنرل نے انہیں جواب دیا کہ فیکٹ فائنڈنگ کمیشن کے سامنے مؤقف دینے کی ضرورت نہیں تھی، تاحال کمیشن کی کارروائی کو کالعدم قرار نہیں دیا گیاہے، تمام ایگزیکٹو اتھارٹیز کو فعال کر دیا گیا ہے، کمیشن کی رپورٹ آنکھیں کھولنے کے مترادف ہے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ کیا کمیشن کی رپورٹ پر شوگر ملز کے خلاف کوئی ایکشن لیا گیا؟

اٹارنی جنرل نے کہا کہ کچھ شوگر مل مالکان خیبر پختون خوا کچھ بلوچستان ہائی کورٹ چلے گئے، جبکہ کچھ شوگر مل مالکان نہیں چاہتے کہ رپورٹ پر کارروائی کی جائے۔

چیف جسٹس نے ان سے استفسار کیا کہ یہ محض کمیشن کی رپورٹ ہے، اس پر حکم امتناع کیوں لینا چاہتے ہیں؟

شوگر ملز کے وکیل مخدوم علی خان نے بتایا کہ ایگزیکٹو احکامات کو مالکان نے مختلف ہائی کورٹس میں چیلنج کیا، ہائی کورٹس سے رجوع کرنا معمول سے ہٹ کر نہیں ہے۔

جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ سندھ ہائی کورٹ وہی مل مالکان گئے جو اسلام آباد ہائی کورٹ گئے، ایک ہی ایسو سی ایشن 2 ہائی کورٹس سے کیسے رجوع کر سکتی ہے؟

چیف جسٹس گلزار احمد نے دریافت کیا کہ شوگر کمیشن کی رپورٹ پر مل مالکان کی تشویش کیا ہے؟

وکیل مخدوم علی خان نے جواب دیا کہ شوگر مل ایسوسی ایشن نے ذاتی حیثیت سے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا، کمیشن کی رپورٹ میں محض سفارشات دی گئی ہیں، کسی رپورٹ میں متاثر کن فائنڈنگ آئے تو دعویٰ دائر کیا جا سکتا ہے۔

جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ بظاہر شوگر کمیشن نے فیکٹ فائنڈگ کی، کمیشن نے ڈیل اور بہت سی چیزوں کی نشاندہی کی، کمیشن کی رپورٹ متعلقہ اداروں کو کارروائی کے لیے بھیجی گئی ہے، ریاستی ادارے اگر شوکاز نوٹس جاری کرتے ہیں تو اپنا مؤقف وہاں پیش کریں۔

چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا کہ ابھی کسی شوگر مل کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا گیا۔

جسٹس اعجازلاحسن نے کہا کہ رپورٹ کے مطابق شوگر مل والوں کو نہیں سنا گیا،چینی کی قیمتیں بڑھنے پر پورے ملک میں شور مچا، شوگر ملز مالکان کے حقوق کومکمل تحفظ حاصل ہے۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ شوگر کمیشن کی رپورٹ میں سیاسی اتحادیوں کی نشاندہی بھی کی گئی ہے، تسلیم کرتا ہوں کہ کسی کا میڈیا ٹرائل نہیں ہونا چاہیے، حکومت کو کہہ دیا کہ کسی ادرے کو معاملے پر ہدایات نہ دیں، حکومت کو یہ بھی کہہ دیا ہے کہ رپورٹ پر اداروں کو آزادانہ کام کرنے دیا جائے، وفاقی کابینہ نے میری سفارش پر اداروں کو دی گئی ہدایات واپس لے لی ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ یہ صورتِ حال حکومت نے خود پیدا کی ہے، حکومت تحقیقات کروا کر مقدمات بنوا دیتی۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ رپورٹ پڑھ کر اندازہ ہوا کہ ملی بھگت کیسے ہوئی، 11 سال سے مسابقتی کمیشن کا حکمِ امتناع چل رہا ہے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ شاید ایف بی آر سمیت کئی اداروں میں اہلیت کا فقدان ہے، کمیشن ممبران کے نام سب کے سامنے تھے، کسی نے چیلنج نہیں کیا، کمیشن کی تشکیل غیر قانونی تھی تو وہ پہلے چیلنج کیوں نہیں کی؟ کمیشن کے ارکان شوگرملز کے خلاف کیوں جانب دار ہوں گے؟ یہ بہت بڑا ایشو ہے جس سے لوگ متاثر ہوئے ہیں۔

وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ حکومت کہتی ہے کہ عوام پر ایک طبقے کا قبضہ ہو گیا ہے،حکومت ریاستی اداروں کی مدد سے اس چیز کو نہیں روک سکتی پھر یہاں کیوں بیٹھے ہیں؟ کمیشن کے قیام کا گزٹ نوٹی فکیشن جاری نہیں کیا گیا، کسی بھی انکوائری کمیشن کا گزٹ نوٹی فکیشن جاری ہونا لازمی ہے۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ چینی عوامی نوعیت کا مسئلہ ہے، کیا شوگر کمیشن رپورٹ شائع ہو چکی ہے؟

وکیل مخدوم علی خان نے جواب دیا کہ وفاقی کابینہ نے شوگر کمیشن رپورٹ تسلیم کر لی ہے۔

چیف جسٹس نے سوال کیا کہ کیا شوگر کمیشن رپورٹ بطور ثبوت استعمال ہو سکتی ہے؟

وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ کمیشن ارکان پر جرح کے بغیر رپورٹ بطور ثبوت استعمال نہیں ہوسکتی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ رپورٹ کی حیثیت صرف فیکٹ فائنڈنگ انکوائری کی ہے، ہوسکتا ہے گزٹ نوٹی فکیشن کسی دراز میں موجود ہو۔

جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ گزٹ نوٹی فکیشن اس لیے ضروری ہوتا ہے کہ کوئی چیز خفیہ نہ رہے، شوگر کمیشن کے تشکیل کی تشہیر پورے میڈیا میں ہوئی۔

یہ بھی پڑھیئے: شوگر کمیشن رپورٹ پر عملدرآمد روکنے کا حکم چیلنج

وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں انٹرا کورٹ اپیل دائر کر چکے ہیں۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ انٹرا کورٹ اپیل پر اسلام آباد ہائی کورٹ کو فیصلہ کرنے دیں۔

چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ شوگر مل ایسوسی ایشن کمیشن کی رپورٹ سے جان نہیں چھڑوا سکتی، کمیشن غیر قانونی قرار دے دیں تو پھر بھی معاملہ ختم نہیں ہوگا، ریگولیٹری اداروں کو کام سے نہیں روکا جا سکتا، کمیشن رپورٹ کالعدم ہونے سے بھی شوگر ملز کو کچھ نہیں ملنا۔

جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ ریگیولیٹری ادارے کمیشن رپورٹ کا حوالہ دیے بغیر بھی کارروائی کر سکتے ہیں، شوگر ملز کے پاس ریگولیٹری اداروں میں اپنا دفاع کرنے کا پورا موقع موجود ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اب ممکن نہیں کہ کچھ ملزمان کے خلاف کارروائی سے روکا جائے اور باقی کے خلاف کارروائی جاری رہے۔

جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ سندھ ہائی کورٹ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو ملحوظِ خاطر نہیں رکھا۔

شوگر ملز کے وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے ابھی تک تفصیلی فیصلہ جاری نہیں کیا۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ کوئی ادارہ شوگر ملز کے خلاف حکم جاری نہیں کرے گا۔

چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا کہ ادارے رپورٹ کا حوالہ دیے بغیر کارروائی جاری رکھ سکتے ہیں۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ ادارے آزادانہ کارروائی کرنے والے ہوتے تو کمیشن بنانے کی نوبت ہی نہ آتی۔

مخدوم علی خان نے کہا کہ سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل ہوا تو سارا کیس ہی ختم ہو جائے گا۔

اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ سندھ ہائی کورٹ سے 12 شوگر ملز نے رجوع کر رکھا ہے، ہائی کورٹ کا حکم درخواست گزار 12 شوگر ملز کی حد تک ہے، درخواست گزار شوگر ملز کو چھوڑ کر باقی کے خلاف کارروائی جاری رہے گی۔

عدالتِ عظمیٰ نے شوگر کمیشن رپورٹ پر عمل درآمد روکنے کا فیصلہ معطل کرنے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے شوگر ملز ایسوسی ایشن کے وکلاء سے تحریری دلائل بھی طلب کر لیے۔

سپریم کورٹ نے وفاق کی اپیل پر مزید سماعت 14 جولائی تک ملتوی کر دی جبکہ مقدمہ 3 رکنی بینچ کے سامنے مقرر کرنے کی ہدایت بھی کی۔

قومی خبریں سے مزید