آپ آف لائن ہیں
بدھ21؍ذی الحج1441ھ12؍اگست 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کو العزیزیہ ریفرنس کیس میں احتساب عدالت اسلام آباد کے منصف کی حیثیت سے سات سال قید کی سزا سنانے اور پچھلے سال چھ جولائی کو منظر عام پر آنے والے وڈیو اسکینڈل کے مرکزی کردار جج ارشد ملک کو ایک سال سے جاری تحقیقات کے بعد ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا مرتکب پائے جانے پر گزشتہ روز عدالت عالیہ کی انتظامی کمیٹی کی جانب سے برطرف کیے جانے کا فیصلہ ملک کی عدالتی تاریخ میں یقیناً ایک اہم نظیرکی کا مقام پائے گا۔ مذکورہ وڈیو میں ارشد ملک سابق وزیراعظم کے خلاف العزیزیہ ریفرنس کیس میں کسی قابل لحاظ ثبوت کی عدم موجودگی کا اعتراف کرتے اپنے فیصلے کو دباؤ کا نتیجہ قرار دیتے سنائی دیتے ہیں جبکہ فلیگ شپ ریفرنس میں انہوں نے سابق وزیراعظم کو بری قرار دیا تھا۔ یہ وڈیو مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما ایک ہنگامہ خیز پریس کانفرنس میں منظر عام پر لائے تھے تاہم اس وڈیو کے سامنے آنے کے چند روز بعد اگست کے مہینے میں ایف آئی اے کو دیے گئے تحریری بیان میں ارشد ملک نے بتایا کہ انہوں نے مدینہ منورہ میں حسین نواز سے اور جاتی امراء میں ناصر محمود بٹ کے ہمراہ سابق وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کی تھی۔ اپنے بیان حلفی میں ان کا مزید کہنا تھا کہ احتساب عدالت نمبر 2اسلام آباد میں جج کی حیثیت سے فروری 2018ء میں ان کی تقرری کے بعد ان کے دو واقف کاروں مہر جیلانی اور ناصر جنجوعہ نے ان سے ملاقات کی اور ناصر جنجوعہ نے اس موقع پر دعویٰ کیا کہ احتساب عدالت میں ان کی تقرری میں انہوں نے مسلم لیگ (ن) کی ایک بااثر حکومتی شخصیت سے اپنے ذاتی تعلقات کی بنیاد پر اہم کردار ادا کیا تھا۔ ان واقعات کے بعد اسلام آباد ہائیکورٹ نے ارشد ملک کو احتساب عدالت کے جج کے عہدے سے ہٹا دیا اور لاہور ہائیکورٹ نے انہیں معطل کرکے او ایس ڈی بنا دیا تھا جبکہ جسٹس سردار احمد نعیم نے بطور انکوائری آفیسر ارشد ملک کو قصوروار قرار دیا تھا۔ ارشد ملک کے ان اعترافات کی بنا پر چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس قاسم خان کی سربراہی میں عدالت عالیہ کے سینئر ججوں پر مشتمل انتظامی کمیٹی نے جمعہ کے روز ارشد ملک کو برطرف کرنے کی منظوری دی اور عدالت کے ذرائع نے اس کی تصدیق کی۔ تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس مسٹر جسٹس قاسم خان کی صدارت میں انتظامی کمیٹی کا اجلاس ہوا جس کے شرکا میں جسٹس محمد امیر بھٹی، جسٹس شہزاد احمد خان، جسٹس شجاعت علی خان، جسٹس عائشہ ملک، جسٹس شاہد وحید اور جسٹس علی باقر نجفی شامل تھے۔ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ثابت ہو جانے پر عدلیہ کا اپنے ایک رکن کو اپنی صفوں سے نکال دینے کا یہ فیصلہ بلاشبہ ایک مثبت اور مستحسن پیش رفت ہے جس کا خیر مقدم کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں نے تو اسے اپنے قائد کی بریت کے مترادف قرار دیا اور العزیزیہ کیس کا فیصلہ کالعدم ٹھہرانے کا مطالبہ کیا ہے لیکن وفاقی حکومت کے ترجمانوں نے اپنے بیانات میں کہا ہے کہ یہ فیصلہ ججوں کو بلیک میل کرنے کے سابقہ دور کے خاتمے کا مظہر ہے۔ اس صورتحال کا تقاضا ہے کہ معاملے کو منطقی انجام تک پہنچا کر اصل حقائق قوم کے سامنے لائے جائیں۔ ارشد ملک کی متنازع وڈیو اور اس کے بعد کی گئی پریس کانفرنس اور تحریری بیان میں کھلے تضادات نے اس پورے معاملے کو انتہائی مشتبہ بنا دیا ہے اور ان سے عدالتی عمل اور فیصلوں کو متاثر کرنے کے لیے مختلف عناصر کی جانب سے دباؤ اور بلیک میلنگ کے ہتھکنڈے استعمال کیے جانے کے تاثر کو تقویت ملی ہے لہٰذا ضروری ہے کہ العزیزیہ ریفرنس کیس پر نظر ثانی کے عمل کو حتی الامکان جلد مکمل کیا جائے اور اس ضمن میں معاملے کے تمام فریق اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لیے تیز رفتاری سے تمام ضروری اقدامات عمل میں لائیں۔