آپ آف لائن ہیں
جمعرات 22؍ ذی الحج 1441ھ13؍اگست2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

کورونا وائرس سے انسانی جانوں، ملکی معیشت اور کاروباری حالات کو پہنچنے والے غیرمعمولی اور غیرمتوقع نقصانات اور دہشت گردوں کے حالیہ حملے کے تناظر میں یہ امر اطمینان بخش ہے کہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج ابتدائی جھٹکے برداشت کرنے کے بعد اب بحالی کے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق اسٹاک ایکسچینج میں نئے مالی سال سے شروع ہونے والی تیزی کے رجحان میں اضافہ ہو رہا ہے۔ منگل کے روز تقریباً ساڑھے 33کروڑ شیئرز کا کاروبار ہوا جو پیر کے مقابلے میں 16لاکھ 39ہزار زیادہ تھا۔ ہنڈرڈ انڈیکس 171پوائنٹس کے اضافے کے بعد ایک مرحلے پر 35474پوائنٹس تک جا پہنچا جو کاروبار کے اُتار چڑھائو کے بعد بھی 35373پر بند ہوا۔ 52.53فیصد کمپنیوں کے حصص میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ حصص کی خریداری میں سرمایہ کاروں کی بھرپور دلچسپی نظر آئی۔ سرمایہ کاری کی مالیت 29ارب، 52کروڑ، 55لاکھ روپے بڑھ گئی اور مجموعی سرمایہ 66کھرب 35ارب سے بڑھ کر 67کھرب 14ارب سے زائد ہو گیا۔ پاکستان میں کورونا مریضوں کی بتدریج کم ہوتی ہوئی تعداد کے پیشِ نظر یہ ایک اچھی پیش رفت ہے مگر یہ بات مدِ نظر رکھنی چاہئے کہ عالمی سطح پر کووڈ 19کے پھیلائو کا خطرہ ابھی ٹلا نہیں۔ عالمی ادارہ صحت نے بھی خبردار کیا ہے کہ اِس وبا کا عروج پر پہنچنا ابھی باقی ہے اور پاکستان اِس سے مستثنیٰ نہیں۔ اِسی لئے ملک کی تاجر برادری خوفزدہ ہے۔ آل پاکستان انجمنِ تاجران نے متنبہ کیا ہے کہ مسلسل لاک ڈائون سے تاجر شدید نقصان اُٹھا رہے ہیں۔ اِس لئے اِس طرح کے اقدامات ناگزیر ہوں تو اوقات کار اور دیگر معاملات پر فیصلے تاجروں کو اعتماد میں لے کر کئے جائیں۔ ایک گیلپ سروے میں بھی 80فیصد پاکستانیوں نے کورونا وائرس کے پھیلائو پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اِس لئے حکومت کو فیصلے کرتے وقت جہاں بہت سوچ بچار کی ضرورت ہے وہاں عوام کو بھی احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کرنا چاہئے۔