آپ آف لائن ہیں
ہفتہ17؍ذی الحج 1441ھ8؍اگست 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

میر شکیل الرحمٰن صحافت کاتابندہ ستارہ ہیں، رہا کیا جائے، مقررین

میر شکیل الرحمٰن صحافت کاتابندہ ستارہ ہیں، رہا کیا جائے، مقررین 


راولپنڈی / لاہور / پشاور / کراچی (نمائندگان جنگ / اسٹاف رپورٹر) ایڈیٹر انچیف جنگ گروپ اور جیو نیوز میر شکیل الرحمٰن کی نیب کے ہاتھوں گرفتاری کیخلاف راولپنڈی ، لاہور ، پشاور میں احتجاجی مظاہرے کئے گئے جس میں سینئر صحافیوں ، جنگ جیو کے کارکنوں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی کثیر تعداد نے شرکت اور میر شکیل الرحمٰن کی رہائی کیلئے نعرے لگائے ۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مقررین نےکہا کہ میر شکیل الرحمٰن صحافت کا تابندہ ستارہ ہیں، رہا کیا جائے۔ مقررین نے گرفتاری کے اقدام کو غیر قانونی، بدنیتی پر مبنی ، میڈیا دشمنی اور صحافت پر حملہ قرار دیا اور کہا ہے کہ سچ بولنا جرم بن گیا ، جنگ گروپ سمیت تمام میڈیا کو سچ بولنے اور دکھانے کی سزا دی جارہی ہے، حکومت انتقامی کارروائی بند کرکے میر شکیل الرحمٰن کو رہا اور صحافیوں کا معاشی قتل عام بند کرے۔ پاکستان پیپلز یوتھ کے انفارمیشن سیکرٹری فرید میمن نے کہا ہےکہ جنگ اور جیو کے ایڈیٹر انچیف میرشکیل الرحمٰن آزاد میڈیا کی ایک ایسی حقیقت بن گئے جسے تاابد یاد رکھا جائے گا۔ تفصیلات کے مطابق پشاور میں جنگ گروپ کے دفاتر کے باہر ریلی نکالی اور احتجاجی مظاہرہ کا انعقاد کیا گیا جس میں پشاور پریس کلب، خیبر یونین آف جرنلسٹس ،جنگ، جیو اور دی نیوز کے صحافیوں نے شرکت کی ،مظاہرین نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر میر شکیل الرحمٰن کی گرفتاری، میڈیا پر پابندی اور صحافیوں کے معاشی قتل عام کیخلاف نعرے درج تھے۔ مقررین نےکہا کہ میر شکیل الرحمٰن ایک فرد نہیں بلکہ ان کے صحافتی اداروں سے سب سے زیادہ صحافی وابستہ ہیں، میر شکیل الرحمٰن میدان صحافت کے تابندہ ستارہ ہیں جو ملک میں شعبہ صحافت کی ترقی کیلئے گرانقدر خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔جنگ راولپنڈی کے باہر مری روڈ پرجمعرات کو احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئےمقررین نے کہاکہ عدالتی فیصلہ میر شکیل الرحمان کی اخلاقی فتح ہے۔سینئر وکلاء اور تنظیمیں بھی تسلیم کررہی ہیں میر شکیل الرحمٰن کو ایک عام دیوانی مقدمہ غیر قانونی و غیر آئینی طور پر ملوث کرکے پابند سلاسل کیا گیا ہے۔انصاف کے فورم بھی طے شدہ ایجنڈے کے تحت کام کررہےہیں۔ اس موقع پرنعرے بازی بھی کی گئی ۔ لاہور میں ڈیوس روڈ پر بھی احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ جس میں سول سوسائٹی کے ارکان ، سینئر صحافیوں جنگ جیو ورکرز و دیگر شعبہ زندگی سےافراد نے شرکت کی۔اس موقع پر میرشکیل الرحمٰن کی رہائی کیلئے نعرہ بازی بھی کی گئی۔ اپنے خطاب میں مقررین نے کہا میر شکیل الرحمٰن بے قصور پابند سلاسل ہیں۔ہم اب بھی عدالت سے پر امید اور انصاف کی امید رکھتے ہیں ۔ہم جمہوریت اور آزادی صحافت پر حملہ کرنے والوں کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے اور اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ میر شکیل الرحمٰن کے کیس میں کچھ بھی نہیں ہے۔کراچی سے اسٹاف رپورٹر کے مطابق پاکستان پیپلز یوتھ کے انفارمیشن سیکرٹری فرید میمن نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم میرشکیل کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں کہ وہ انہوں نے حق اور سچ کیلئے پابند سلاسل ہونا تو قبول کرلیا لیکن موجودہ حکمرانوں کا سبق لینا منظور نہیں کیا اور حق اور سچ پر ڈٹے رہے۔ حکومت مخالفین کو مسلسل انتقام کا نشانہ بنا رہی ، غربت ختم کرنے کا نعرہ لگا کر سنہری خواب دکھانے والی حکومت کرپشن میں پھنس گئی ۔


اہم خبریں سے مزید