آپ آف لائن ہیں
پیر19؍ذی الحج 1441ھ 10؍اگست 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

کارکردگی دکھائو ورنہ گھر جائو

ہمارے ہاں فیتے کاٹنے، تختیاں لگانے اور بریفنگز دینے کے سوا اور ہوا ہی کیا ہے، اس لئے وزیراعظم عمران خان کا یہ بیان امید افزا ہے کہ کارکردگی دکھائو ورنہ گھر جائو، وہ اس بیان میں خود کو بھی شامل کر لیں کیونکہ کپتان ہی جہاز ڈوبنے کا ذمہ دار ہوتا ہے، بہرحال اب ہم دیکھیں گے کہ ان کی ٹیم کے کتنے کھلاڑی ٹھنڈی سڑک پر گھر کی جانب رواں دواں ہوتے ہیں، بلاشبہ اس وقت لفظ حکمرانی لکھا ہوا نظر آتا ہے حکمرانی ہوتی دکھائی نہیں دیتی، جیسے بعض لوگوں کی ایک آنکھ سے دوسری آنکھ ملتی نظر نہیں آتی، ایسے ہی پورے ملک میں مہنگائی کے نرخوں میں یکسانیت کا نشان تک نہیں ملتا، نظام حکومت کے اونٹ کی کوئی کل سیدھی نہیں، بجلی کو دیکھیں کہ اکھیوں سے گولی مارے کہیں رٹ آف گورنمنٹ کی شکل و صورت نمایاں نہیں ’’بس اک تیرا پیار مینوں ملیا میں دنیا توں ہور کی لینا‘‘ عوام سے پیار تو ہے مگر اس سے پیٹ بھرتا ہے نہ پیاس بجھتی ہے، بہت اچھا ہے کہ خان صاحب نے اپنی ٹیم کو کارکردگی کا ٹاسک دے دیا ورنہ گھرو گھری کا الٹی میٹم، لیکن کیا لازم ہے کہ ہم ان کے احکامات پر عمل بھی دیکھیں گے، بجلی کے نظام سے تو نظام سقہ کا بندوبست بہتر تھا، بجلی جو شہریوں کو ملنا چاہئے تھی وہ رہائشی علاقوں میں گلی گلی چلتی فیکٹریوں کی نذر ہو جاتی ہے، اور غالباً یہ فیکٹریاں لیسکو اہلکاروں کے تعاون سے بل بھی ادا نہیں کرتیں، حکومت ان تمام فیکٹریوں کو انڈسٹریل زون منتقل کرے اور ان پر بجلی ادائیگی کے لئے کڑی نظر رکھے، اس وقت حکومتی کارکردگی ہر شعبے میں زیرو ہے، کورونا کے ساتھ تو اب شاید حکومت کی طرح جینا ہو گا بظاہر منظر تو یہی ہے، حسن کارکردگی تو کجا سرے سے کہیں کارکردگی کا وجود نہیں، ویسے گھر جائو کا سلوگن قابل عمل ہے، کہ نظام بد عمل ہے۔

٭٭٭٭

خاتمہ بالخیر

خبر ملی ہے کہ حکومت اپوزیشن تعلقات کا خاتمہ بالخیر ہو چکا، جب تک ’’نیب بے عیب‘‘ کے قانون میں ترمیم نہیں ہوتی، نیب اسی طرح کسی کو بھی وجہ بتائے بغیر دبوچتا رہے گا، کوئی ریفرنس آگے نہیں بڑھ سکے گا، اور یہ بات غلط ہو یا صحیح اس احتسابی ادارے سے انتقام کی بو آتی رہے گی، اپوزیشن کا مطلب ہی غلطیوں کی نشاندہی ہے اور حکومت کا فرض ان کا ازالہ مگر یہاں اپوزیشن اور حکومت دونوں اپنا مفہوم کھو چکی ہیں، انہیں شاید اپنی شناخت بھی نہیں ورنہ یوں یہ ہنڈیا بیچ چوراہے نہ پھوٹتی، وہ طبقہ جو لکھتا بولتا ہے اس کے گلے میں بھی چھچھوندر فٹ کر دیا گیا ہے کہ گویم شکل نہ گویم شکل، تو پھر وہی گویم جو مزاج یار میں آئے، خدا لگتی بات تو یہ ہے کہ اگر حکومت اپوزیشن کو ساتھ لے کے چلتی تو وہ، حکومتی ٹیم سے بڑھ کر کام کر دکھاتی، اب تو وہ جو دونوں طرف تھی آگ برابر لگی ہوئی وہ بھی آتش کدۂِ فارس کی مانند بجھ گئی ہے، یہ خبر اچھی نہیں کہ حزب مخالف و موافق میں اختلافی تعلق برقرار نہیں رہا، معاشرے اس طرح ایک انداز میں ڈکٹیٹر شپ کی نذر ہو جاتے ہیں، اس لئے ہم اپنے معاشرے کو جمہوری قدروں پر کھڑا رکھنے کے لئے کچھ مثبت کریں، وگرنہ جہاں سب اچھا ہے کی تصویریں دکھائی جاتی رہیں گی وہاں پھر فقط ٹھن ٹھن گوپال ہی ہوتا رہے گا۔

٭٭٭٭

محسن انسانیت ڈاکٹر آصف محمود جاہ کو نئی زندگی مبارک

مرحوم عبدالستار ایدھی کے بعد جس شخصیت نے تھر سے خیبر تک انسانی جانوں کو بچانے اور انسانوں کی صحت کے لئے جان پر کھیل کر خدمت کی اور یہ سلسلہ تاحال جاری ہے وہ ڈاکٹر آصف محمود جاہ ہیں، اسلام آباد، لاہور کے درمیان سفر کے دوران ہولناک حادثے کا شکار ہوئے بچنے کی امید نہ تھی مگر شاید اللہ تعالیٰ کو ابھی ان سے اپنی مخلوق کی مزید خدمت لینا مقصود تھا کہ انہیں نئی زندگی عطا فرمائی، ہمیں اپنے ایسے محسنوں کی قدر کرنا چاہئے کہ یہ نایاب ہوتے جا رہے ہیں، انہیں حکومت نے پہلے ستارئہ امتیاز سے نوازا اور اب چاہئے کہ ہلال امتیاز سے بھی انہیں سرفراز کیا جائے، میو اسپتال کے مسیحائوں کو سلام کہ ایک ٹیم کی صورت میں ڈاکٹر آصف محمود جاہ کا تیر بہدف علاج کیا، پیٹ خون سے بھر چکا تھا، اور دل بھی ٹھہر گیا تھا، مگر جسے اللہ جل جلالہ نے باقی رکھنا ہو وہ زندہ و تابندہ رہتا ہے، قوم کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کے وی سی پروفیسر ڈاکٹر خالد مسعود کی شکر گزار ہے کہ ڈاکٹرز کی ٹیم بنا کر ان کا علاج کیا۔ تھر کے بھوکوں، پیاسوں کے لئے وہ بارش کا پہلا قطرہ بنے۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں کی ہندو، مسلمان برادری نے ان کی صحت یابی کے لئے مرن برت رکھا، پشاور کے مفلسوں نے ان کے کمیاب خون بی نگیٹو کی بوتلوں کے انبار لگا دیئے، خلق خدا دست بدعا رہی، مصیبت ماروں کی خبر گیری کرنے والوں کو اللہ سلامت رکھے کہ ان کی زندگی ہی سے مرتے ہوئے انسانوں کو زندگی ملتی ہے، اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اب ڈاکٹر آصف محمود جاہ میو اسپتال میں کامیاب علاج کے بعد گھر منتقل ہو چکے ہیں، یہاں ہم ان کی بیٹی ڈاکٹر یمنیٰ کو بھی خراج تحسین پیش کرتے ہیں جنہوں نے رات دن اپنے عظیم باپ کی تیمار داری میں کوئی کسر نہ چھوڑی، آج موقع ہے کہ ہم وطن عزیز کے تمام ڈاکٹروں، نرسوں اور دیگر طبی عملے کو سلام پیش کریں جو جان کی پروا نہ کرتے ہوئے کورونا مریضوں کو سنبھال رہے ہیں، ہمیں من حیث القوم خدمت خلق کرنے والوں کو عزت دینی چاہئے کہ یہی ہمارے محسن ہیں۔

٭٭٭٭

سلطان سے کوئی بھول ہوئی ہے

....Oعامر ٹائون، سلامت پورہ میں پتنگ بازی کورونا وائرس کی طرح پھیل گئی ہے، کچھ اس کا بھی علاج اے چارہ گراں ہے کہ نہیں۔

....Oجب عدالت عظمیٰ برہم نظر آئے تو سمجھ لیں کہ؎

اس عہد کے سلطان سے کوئی بھول ہوئی ہے

....O دنیائے صحافت پر مایوسی کے بادل کہ میر شکیل الرحمٰن کی درخواست ضمانت مسترد ہو گئی، آخر انہوں کیا آسمان چہارم گرایا وہ بھی 34برس پہلے کہ مشکل آسان ہی نہیں ہو پاتی، دیکھیں محترمہ پی ٹی آئی سرکار سرخیل صحافت پر آسمان گرانا اچھا نہیں، اس سے ملک بھر کی صحت ناساز ہو گی۔