آپ آف لائن ہیں
ہفتہ8؍ صفر المظفّر 1442ھ 26؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

تکنیکی و فنی تعلیم وقت کی اہم ضرورت

ارسلان علی

نوجوان ملک و ملت کا مستقبل ہوتے ہیں، جو دماغی و جسمانی لحاظ سے زیادہ مضبوط ہوتے ہیں۔ ہمت ،جذبہ، ذہانت، قوت ودیگر صلاحیتیں ان میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوتی ہیں۔آج کے سائنسی و ترقی یافتہ دور میں ان ممالک کی معیشت پروان چڑھی ہے، جنہوں نے ٹیکنیکل ایجوکیشن پر خصوصی توجہ دی۔ اسی لیے ماہرین ،فنی تعلیم کو کسی بھی ملک کے معاشی استحکام کا ضامن قرار دیتے ہیں۔ہمارےملک کے لاکھوں افراد دوسرے ممالک میں ملازمتیں کررہے ہیں، یہ نوجوان زیادہ تر فنی تعلیم کے کم مدت دورانیے کے کورس کرکے بیرون ممالک خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ بلاشبہ جن ممالک نے فنی تعلیم کو اپنی عمومی تعلیم کا حصہ بناکر اس پر توجہ دی وہاں معاشی ترقی کی رفتار زیادہ ہے۔

فنی تعلیم یافتہ ہنرمند ایک تو کبھی بے روزگار نہیں رہ سکتا اوردوسرا یہ کہ ہنر مندی کی تعلیم دنیا بھر میں ہم آہنگی کی فضا قائم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔موجودہ دور ٹیکنالوجی کا دور ہے اس دور کی سب سے بڑی ضرورت فنی مہارت اور صنعتی پیشہ ورانہ تعلیم ہے ۔ ہروہ ملک تیزی سے ترقی کر رہا ہے، جس نے فنی مہارت حاصل کی ہے لیکن ہمارے ہاں فنی تعلیم پر توجہ عمومی تعلیم سے کہیں کم ہے۔ 

پاکستان میں فنی تعلیم کی شرح صرف چارسے چھے فی صد، جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں یہ شرح 66 فی صدتک پہنچ چکی ہے۔ پاکستان کا مستقبل فنی تعلیم سے جڑا ہے اور نوجوان نسل کو فنی علوم سے آراستہ کرکے نہ صرف بے روزگاری کے مسئلے پر قابو پایا جاسکتا ہے بلکہ ملک کو ترقی و خوشحالی کی راہ پر بھی گامزن کیا جاسکتا ہے لیکن اس کے فروغ کے لیے قابل ذکر پیش رفت نہیں کرپائے۔ 

دنیا میں انہی قوموں نے تیزی سے ترقی کی منازل طے کی ہیں، جنہوں نے اپنی نوجوان نسل کو عہدِ حاضر کی ضروریات سے ہم آہنگ کرتے ہوئے جدید علوم سے آراستہ کیا۔ہمارے ملک میں صرف چھے فی صد نوجوان فنی تعلیم پر دسترس رکھتے ہیں۔ہمارے ہاں فنی تعلیم کے لیے فنڈز نہ ہونے کے برابر ہیں۔ہمارے ہاں ہر سال لاکھوں نوجوان بی اے اور ایم اے کی ڈگریاں لے کر مختلف سرکاری اور غیر سرکاری اداروں کے چکر کاٹنا شروع کردیتے ہیں مگر ہر طرف سے انھیں مایوس کن جواب ملتا ہے ۔اتنے بڑے انسانی وسائل کو اگر ہم مواقع فراہم کرسکیں تو یہ ہمارے پاس سونے اور تیل سے کہیں بڑا سرمایہ ہے۔پیداواری صلاحیت بڑھانے کے لیے ہر فیلڈ میں ہنرمندی اور مہارت کی ضرورت ہے،ہنرمندی کا راستہ ہی خوشحالی کی منزل تک پہنچائے گا۔

نوجوانوں کی فنی تعلیم و تربیت سے نہ صرف ملک کی صنعت و حرفت اور زراعت کی ترقی میں قابل قدر اضافہ ہو سکتا ہے بلکہ نوجوانوں کو فنی تعلیم سے ہم آہنگ ہونے پر اندرون اور بیرون ملک میں روزگار کے مواقع میں بے حد وسعت پیدا ہو سکتی ہے۔ اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ جو نوجوانوں روایتی تعلیم حاصل نہ کرسکیں وہ فنی تعلیم و تربیت ضرورحاصل کریں۔ ہمارے ملک کے حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے تعلیم کے ساتھ ساتھ کسی ہنر کا حاصل کرنا بھی بہت ضروری ہے۔ہمارے ہاں بہت کم تکنیکی تعلیم کے ادارے ہیں ۔ اداروں کی کمی اور جن جگہوں پر ادارے موجود ہیں، وہاں وسائل اور داخلے کی حد پوری ہونے کی وجہ سے کئی طلبہ کا قیمتی وقت ضائع ہوجاتا ہے۔

فنی تعلیم کسی بھی معاشرے کے تعلیمی اور معاشی استحکام کی ضامن ہوتی ہے لیکن پاکستان میں فنی تعلیم پر توجہ عمومی تعلیم سے کہیں کم ہے۔ہمیں جان لینا چاہیے کہ ہر دور کے مختلف تقاضے اور مختلف ضرورتیں ہوتی ہیں۔ انسان کو تعلیم کے ساتھ ساتھ ہنر بھی آنا چاہئے تاکہ کسی بھی مشکل وقت میں وہ رزق کما سکے۔ موجودہ دور ٹیکنالوجی کا دور ہے اس دور کی سب سے بڑی ضرورت فنی مہارت اور صنعتی پیشہ ورانہ تعلیم ہے۔