• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی کشمیری حریت لیڈر برسٹر مجید ترمبو سے برسلز میں ملاقات

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی کشمیری حریت لیڈر مجید ترمبو سے برسلز میں ملاقات
شاہ محمود قریشی ،حریت لیڈر برسٹر مجید ترمبو کے ساتھ محو گفتگو ہیں

 پاکستان کے سیاست دانوں میں چند ایسی شخصیات موجود ہیں جن کی کرشماتی شخصیت سے ان کے اپنے وقار اور قد میں اضافہ ہوتا ہے ،کچھ اسی طرح وفاقی وزیر شاہ محمود قریشی کی شخصیت ہے جن کی شخصیت ایسی ہے جس سے ہر شخص متاثر ہو جاتا ہے۔گزشتہ دنوں ان کا کورونا وائرس کے مثبت آنے پر برطانیہ میں مقیم افراد نے انتہائی دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئےان کی صحت یابی کی دعا کی۔ برطانیہ اور برسلز کے شہر اینٹورپن میں ملتان سمیت دیگر افراد محمد قمر ملتانی عامر چوہدری و دیگر افراد اور کشمیری کمیونٹی نے دعائیہ سلسلہ شروع کر دیا۔ اینورپن اور کونٹری سٹی میں قرآن پاک پڑھنے کا سلسلہ اس وقت تک جاری رکھنے کا عزم کیا گیا جب تک شاہ محمود قریشی صحت یاب نہیں ہو جاتے۔

ممتاز کشمیری لیڈر محمود شاہ نے کہا کہ شاہ محمود قریشی پاکستان کی سیاست کے پڑھی لکھی تجربہ کار شخصیت ہیں جن کا اپنا ایک انداز سیاست ہے اور وہ ہمیشہ انسانیت کی خدمت کے ساتھ ساتھ کشمیریوں کا درد دل سے محسوس کرتے اور بھارت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے والی نڈر شخصیت ہیں۔انہوں نے سیاست کے ذریعے خدمت کو ترجیع دیتے ہیں شاہ محمود قریشی نے برسلز اور جنیوا میں جس طرح بین الاقوامی راہنماؤں کو مسئلہ کشمیر پر لیکچر دیا، جس بے باک انداز میں مسئلہ کشمیر اجاگر کیا اور حریت کے لیڈروں کو پاکستان کے موقف سے آگاہ کر کے انھیں حوصلہ دیا ۔ برسلز میں برسٹر مجید ترمبو کی دعوت پر جب بھی آئے ملک پاکستان اور کشمیریوں کا دفاع اس انداز میں کیا کہ مخالفین بھی دنگ رہ جاتے ،حریت لیڈر اور کشمیریوں کے اصل وکیل برسٹر مجید ترمبو کا کہنا ہے کہ شاہ محمود ایک ایسی شخصیت ہیں جو انسانیت سے محبت رکھتے ہیں۔

جس کا ثبوت یہ ہے کہ جب بھی مسئلہ کشمیر پر بات کرتے ہیں تو بھارت کو للکارتے ہیں جس سے اندازہ لگانا مشکل نہیں ہوتا کہ کا قدر یہ کشمیریوں کے ساتھ اور انسانیت کے ساتھ جڑے ہوئےہیں، انھوں نے کہا کہ شاہ محمود قریشی ایک بڑے دل اور وژن والی شخصیت ہیں ان کی بیماری پر کشمیری انتہائی افسردہ ہیں ۔

آپ نے کشمیر کے لیے دنیا میں آواز بلند کی آج کشمیری آپ کی لمبی زندگی کے لیے دعا گو ہیں، بالکل اسی طرح جیسے سماجی تنظیم کوونٹری فلاور بھی شاہ محمود قریشی کی جلد صحت یابی کے لیے دعاؤں میں مشغول ہے اور قرآن خوانی کے ذریعے اللہ سے شاہ محمود قریشی کے لیے صحت کی دعا کر رہے ہیں ۔اطلاعات کے مطابق کورونا وائرس کے مذید پھیلنے کا اندیشہ ہے، بالخصوص یورپ برطانیہ میں بھی خطرات منڈلا رہے ہیں ان حالات میں ہمیں احتیاط کی ضرورت ہے تاکہ اپنی جانوں کی حفاظت کی جا سکے۔ 

اب تک کورونا وائرس کے سبب برطانیہ میں اموات 44ہزار سے تجاوز کرچکی ہیں اور اب یہ خدشہ بھی پیدا ہوگیا ہے کہ نیشنل ہیلتھ سروس کے عملے کی کورونا وائرس سے نمٹنے میں مصروفیت کے سبب دیگر امراض کے علاج کا سلسلہ متاثر ہو جس سے صرف کینسر کے مرض کی تشخیص اور علاج میں تاخیر کے سبب سات ہزار اضافی اموات ہوسکتی ہیں اور انتہائی برے حالات میں یہ تعداد 35ہزار تک بھی جاسکتی ہے۔ 

اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ عام اسکریننگ، ارجنٹ ریفرل اور علاج کے سلسلے میں تاخیر یا منسوخی کا سامنا ہے۔ جبکہ نیشنل ہیلتھ سروس کا کہنا ہے کہ وہ علاج کی تمام سروسز کی بحالی کیلئے سخت محنت کررہی ہے۔ 8ہاسپٹلز ٹرسٹ کا جائزہ لینے کے بعد تیار کی گئی ایک ریسرچ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر کیسنر کے علاج کے ضمن میں تاخیر کا سلسلہ جاری رہا تو برے حالات کے نتیجہ میں صرف ایک برس میں 35ہزار افراد جان سے جاسکتے ہیں۔ 

سائنٹسٹ پروفیسر مارک لولر کا کہنا ہے کہ ریسرچ کی ابتدائی رپورٹ ہمارے لئے خاصی پریشان کن ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگ اس حوالے سے درپیش مسائل کے حوالے سے نشاندہی کررہے تھے لیکن اصل مسئلہ ہاسپٹلز ٹرسٹوں سے ڈیٹا حاصل کرنا تھا، انہوں نے کہا کہ سائنسدان درست تجزیئے کرنا پسند کرتے ہیں، لیکن میری خواہش ہے کہ ہمارے اندازے اس ضمن میں غلط ثابت ہوں۔

اسپتالوں میں مشینیں موجود ہیں لیکن انہیں مناسب طریقے سے چلانے کی اجازت نہیں ہے۔ این ایچ ایس انگلینڈ کے مسٹر جانسن نے کہا کہ جب وائرس تیزی سے آبادی میں پھیل رہا تھا، اس وقت ہمیں یہ توازن رکھنا چاہئے تھا کہ وائرس کو کنٹرول کرنے کے علاوہ لوگوں کے کینسر کو مزید خراب ہونے سے بچائیں۔ انہوں نے کہا کہ خاص طور پر بعض معاملات میں فوائد کے ساتھ خطرے کا عنصر بھی شامل تھا۔ 

جیسے اگر کسی کو کیموتھراپی دینا بہت ضروری نہیں لیکن یہ کورونا وائرس کے خطرے کو بڑھانے کے لحاظ سے خطرناک بھی ثابت ہوسکتی ہے۔دوسری جانب راچڈیل سے نمائندہ جنگ کے مطابق این ایس ایچ کے سربراہ سر سائمن اسٹیونزنے برطانیہ میں کورونا کی دوسری ممکنہ لہر سے متعلق خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حالات سے نمٹنے کیلئے انہیں فلو ویکسین پروگرام کی ضر ورت پیش آ سکتی ہے اور ہمیں کورونا کی دوسری لہر سے نمٹنے کیلئے خود کو تیار رکھنے کی ضرورت ہے۔

تازہ ترین