• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عمران احمد سلفی

معروف مفسرقرآن،بزرگ عالم دین، مصنف کتب ِکثیرہ، امام العصر،فضیلۃ الشیخ علامہ حافظ صلاح الدین یوسف ؒ11جولائی 2020عیسوی کوانتقال فرماگئے۔گویا علم و عمل کا چراغ گل ہوگیا۔

مشہور مقولہ ہے موت العالِم موت العالَم یعنی ایک عالم کی موت محض ایک شخصیت کادار فانی سےکوچ کرجانا نہیں، بلکہ علم وفضل کے خاتمے کی وجہ سے گویا پورے عالم پر موت طاری ہوجاناہے۔علامہ صلاح الدین یوسف 1945ء میں ریاست جے پور راجستھان میں پیدا ہوئے۔آپ ایک عہد ساز شخصیت تھے،عالم اسلام میں آپ کا شمار ان چند نامور اور نابغۂ روزگار اکابرین ملت میں ہوتاتھا جن کی ساری زندگی جہد مسلسل کی آئینہ دار رہی۔آپ نے حق وباطل کی کشمش اوردین اسلام کی سربلندی کے لیے ہمیشہ درس وتدریس کے ساتھ قلم کے میدان میں بھرپور کردار اداکیا ۔آپ کی شخصیت صرف پاکستان وہندوستان میں نہیں، بلکہ عالم اسلام کے اہل علم وفن کے نزدیک بلند مقام، لائق تکریم سمجھی جاتی تھی۔ محترم شیخ صرف اہل حدیثوں کے عالم نہ تھے، بلکہ یکساں طور پر آپ کی رائے کااحترام ہرمکتبہ فکرکے اہل علم میں تھا۔آپ نے اپنی پوری زندگی علم دین نبوی ﷺکی تجلیاں بکھیر نے میں صرف کیں۔ 

بلند حافظہ پایا،مشہور اساتذہ مولانا محمد عطااللہ حنیف بھوجیانوی، مولاناقاری بشیراحمد تبتی،مولانا عبیداللہ بلتستانی،مولاناحافظ محمد اسحاق، علامہ حافظ عبدالرشید گوہڑی، مولاناعبدالرشیدمجاہد آبادی اور مولاناعبدالحمید سے تفسیر،حدیث، فقہ،منطق، فلسفہ اور ادیان باطل کے علوم کی تحصیل فرمائی۔ آپ بہ یک وقت کئی علوم میں یدطولیٰ رکھتے تھے ۔علم وتحقیق، تصانیف کے میدان میں بڑی مصروف زندگی گزاری۔آپ کی سو سے زیادہ تصانیف ہیں۔ تفسیر احسن البیان، نفاذشریعت کیوں اور کیسے؟توحیدوشرک کی حقیقت،مکمل اردو ترجمہ،دلیل الطالبین اردو ترجمہ وفوائد ریاض الصالحین للامام النووی، خلافت وملوکیت، تاریخ وشرعی حیثیت، فکرفراہی اوراس کے اثرات ایک علمی وتحقیقی جائزہ، جنازے کے احکام ومسائل (انسائیکلو پیڈیا) اور مسئلہ ایصال ثواب، مفرور لڑکیوں کا نکاح اور ہماری عدالتیں، مسئلہ ولایت نکاح کا ایک جائزہ،رمضان المبارک فضائل، فوائد وثمرات، احکام ومسائل، فضائل عشرہ ذوالحجہ اور احکام ومسائل، حقوق مرداں وحقوق نسواں،عورتوں کے امتیازی مسائل وقوانین،اسلامی آدابِ معاشرت، واقعہ معراج اور اس کے مشاہدات، محرم الحرام اورسانحۂ کربلا، ترجمہ حصن المسلم ودیگر تصانیف کی کثیرتعداد قرآن کریم اور احادیث مبارکہ کی خدمت اور دین اسلام،شعائر دین، سنت نبوی علیٰ صحابہا افضل التسلیم اور صحابہؓ واہل بیتؓ کی حرمت کے دفاع کایہ عظیم سفر سات دہائیوں پر مشتمل ہے۔ علامہ حافظ صلاح الدین یوسف ؒکو ان کی علمی صلاحیتوں تحقیقی بصیرت کے اعتراف میں حکومت نے وفاقی شرعی عدالت کے مشیر کامنصب عطاکیا ۔آپ کو سعودی حکومت وعلما میں ایک بلند مقام حاصل تھا۔ آپ کی موجودگی سے نعمت کااحساس طاری رہتا ۔

مولاناحافظ صلاح الدین یوسفؒ کمال انکساری سے بڑے بڑے مسئلے اللہ کی توفیق سے لمحوں میں حل کر دیاکرتے ۔آپ حدیث وسنت رسولؐ کے ایک غیورخادم تھے۔ مقام رسالت ﷺ پرکبھی مفاہمت نہ کرتے ،اپنے دور کے ہر صاحب قلم کوہی نہیں، ہردین کے مخلص خادم کو ان کی سر پرستی اور مسلسل براہِ راست حوصلہ افزائی میسر آئی۔ ان کے علم وفضل کاسیلِ رواں جارہی رہے گا۔ علامہ حافظ صلاح الدین یوسفؒ جب کراچی تشریف لاتے توامیرجماعت غربائے اہل حدیث مولاناعبدالرحمٰن سلفی سے ملاقات فرماتے،اس دوران وہ مجلس العلماء سے بھی خطاب فرماتے ،میں نے ان کی محبت حوصلہ افزائی کو دیکھا۔ مرحوم مولاناپروفیسر دلاورخان رحمانی ؒ نے دینی مضامین پرتبصرہ کرتے ہوئے کہا، انہو ں نے جماعت میں نئی روح ڈال دی ہے ۔ حضرت حافظ صاحبؒ اہل قلم کے قدر دان تھے ،میرے سسر بزرگ سید عبید اللہ قادری اور محمد سعید مرحوم کے بہترین دوست اور بھائیوں کی طرح تھے۔

آخری ملاقات صحیفہ اہل حدیث کے دفتر میں ہوئی ،جس کااہتمام کالم نگار حشمت اللہ صدیقی نے کیا،علامہ حافظ صلاح الدین یوسفؒ کو اللہ تعالیٰ نے صاحب تسلیم ورضا بنایا، تاہم موت ایک اٹل حقیقت ہے۔جب وقت مقرر آپہنچا توپھر کسی کو مفرممکن نہیں، یہی معاملہ علامہ حافظ صلاح الدین یوسفؒ کے ساتھ پیش آیا ۔اپنے رب کے حضور مغفرت طلب کرتے ہوئے 75 برس کی عمر میں سوگواروں کو اشک بار چھوڑتے ہوئے عالم فناسے دار ِبقاکی جانب کوچ کرگئے ۔نمازِ جنازہ مرکز اہلِ حدیث لارنس روڈ لاہور میں مولاناحافظ مسعود کی امامت میں اداکی گئی۔ جنازے میں ہزاروں افرادنے شرکت کی۔

اس موقع سینیٹرعلامہ پروفیسر ساجدمیر، مولاناعبدالرحمٰن سلفی، سینیٹر سراج الحق، چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل ڈاکٹر قبلہ ایاز،مولاناحافظ عبدالغفارروپڑی،علامہ عبداللہ ناصررحمانی،،سیدعبیداللہ قادری، شیخ الحدیث مولانامحموداحمدحسن،علامہ حافظ ابتسام الٰہی ظہیر، مولانا عبد العزیز نورستانی، مولاناارشادالحق اثری، مولاناپروفیسرحافظ محمد سلفی، علامہ زبیراحمد ظہیر، ڈاکٹرعامرعبداللہ محمدی، مولاناعبدالمالک مجاہد، سابق جسٹس شفیع محمدی، مولانازاہدہاشمی الازہری،مولانا حافظ عبدالکریم، مولانامفتی انس مدنی، مولاناشفیق پسروری، مولانااسحاق شاہد، مولانا سید عبدالرحیم شاہ،مولاناڈاکٹرخورشیداحمدشیخ،مولانا مفتی یوسف قصوری، مولانامفتی عبدالحنان سامرودی، مولانامفتی منور زکی،مولانا مفتی عبدالوکیل ناصر، مولانایوسف نعیم،سمیت کثیرتعدادمیں علمائے کرام وعلمی شخصیات نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ ہم ایک عظیم نیک صالح علمی شخصیت سے محروم ہو گئے۔ آپ آخری وقت تک اپنی ذمہ داری اداکرتے ہوئے اللہ کی بارگاہ میں پہنچ گئے۔