آپ آف لائن ہیں
جمعرات13؍ صفر المظفّر 1442ھ یکم اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

والدین کو اپنے بچوں کی صحت بخش غذا اور جسمانی صحت کی فکر تو رہتی ہی ہے، تاہم اب ماہرین یہ کہہ رہے ہیں کہ بچوں کی ذہنی صحت بھی اتنی ہی اہمیت کی حامل ہے۔ بچوں کی غذا اور جسمانی صحت کا خیال رکھنا نسبتاً آسان ہوتا ہے کیونکہ سب کچھ نظر آرہا ہوتا ہے لیکن اکثر والدین کے لیے یہ جاننا کہ بچوں کی ذہنی کیفیت کیا ہے اور انھیں کس طرح ذہنی طور پر مضبوط شخصیت کا مالک بنایا جائے، ایک مشکل طلب کام ہے۔ 

مزید برآں، کورونا وائرس کے باعث اکثر خاندان گھروں تک محدود ہوگئے ہیں، اس صورتِ حال نے بھی والدین کے لیے اپنے بچوں کی ذہنی صحت کا خیال رکھنے کو مزید چیلنجنگ بنا دیا ہے۔ بچوں کا نہ صرف اسکول جاننے چھوٹ گیا ہے بلکہ ان کی آؤٹ ڈور جسمانی اور دیگر سماجی سرگرمیاں بھی ختم ہوکر رہ گئی ہیں۔

ڈاکٹر نکولس جے ویسٹرز، یوٹی ساؤتھ ویسٹرن میں بچوں کی صحت کے کلینکل سائکولوجسٹ اور ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیں۔ وہ کہتے ہیں، ’’اچھی ذہنی صحت سے مراد بچوں کی روزمرہ معمولات میں صحت مند عادتیں پیدا کرنااور ان کی حوصلہ افزائی کرنا ہے؛ جیسے ایک دوسرے کے جذبات تسلیم کرنا، غیرصحت مند اور منفی سوچ میں تبدیلی لانا، ہم احساسی کا اظہار کرنا اور شخصیت میں لچک پیدا کرنا‘‘۔

ذہنی صحت کیا ہے؟

نفسیاتی صحت ہماری جذباتی، نفسیاتی اور مجموعی شخصی بہبود سے جنم لیتی ہے۔ ہم اپنی روزانہ کی زندگی میں تعلقات، تعلیمی میدان اور جسمانی صحت کے معاملات میں کس طرح سوچتے، محسوس کرتے اور عمل کرتے ہیں، ہماری ذہنی صحت ان تمام باتوں پر اثرانداز ہوتی ہے۔

کتنے بچے ذہنی صحت کے مسائل سے دوچار ہیں؟

امریکا کے ادارے ’دی سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن‘کے مطابق، ہر پانچ میں سے ایک امریکی بچہ ذہنی، رویہ یا صحت کی نشوو نما کے مسائل سے دوچار ہے۔ بچوں میں انزائٹی، اَٹینشن ڈیفیسٹ ہائپر ایکٹیویٹی ڈس آرڈر (ADHD)، بہیووریل ڈس آرڈر اور ڈپریشن جیسے مسائل سب سے عام ہوتے ہیں۔

والدین بچوں کی ذہنی صحت پر کس طرح اثرانداز ہوتے ہیں؟

بچوں میں اچھی ذہنی صحت کو پروان چڑھانے میں والدین اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ذہنی صحت کے مسائل نسل در نسل چلے آتے ہیں، اس لیے اگر آپ انزائٹی میں مبتلا ہیں ، تو اس بات کے امکانات ہیں کہ آپ کے بچے کو بھی انزائٹی کے مسائل کا سامنا ہو۔ البتہ، ہمیشہ ایسا نہیں ہوتا کیونکہ ماحول کا عمل دخل بھی بہت زیادہ ہوتا ہے۔ ڈاکٹر ویسٹرز کہتے ہیں، ’’اہم ترین بات یہ ہے کہ وہ آپ کو کس طرح دیکھتے ہیں اور آپ ان میں صحت مند عادتیں کس طرح پروان چڑھاتے ہیں، تاکہ بچے آگے چل کر زندگی میں کوئی مشکل آئے تو اس کا مقابلہ کرسکیں‘‘۔

آپ بچوں کی ذہنی صحت کس طرح بہتر کرسکتے ہیں؟

والدین بچوں کے ساتھ قریبی تعلقات قائم کرکے، انھیں اسٹرکچر اور حدود فراہم کرکے، ان میں خودانحصاری پروان چڑھاکر، سماجی تعلقات قائم کرنے کے لیے حوصلہ افزائی کرکے، ان میں صحت مند عادات پروان چڑھاکر اور مثبت سوچ پیدا کرکے ان کی ذہنی صحت کو مضبوط بناسکتے ہیں۔ اس سلسلے میں ڈاکٹر ویسٹرز درج ذیل مشورے دیتے ہیں۔

بچوں پر توجہ مرکوز رکھیں

اپنے بچوں کے لفظی اور غیرلفظی اشاروں پر قریبی نظر رکھ کر والدین اپنے بچوں کی ذہنی صحت کی نشوونما کرسکتے ہیں۔ اس طرح کرنے سے والدین کو اندازہ رہتا ہے کہ ان کے بچے کو کس وقت کس مدد کی ضرورت ہے یا کس وقت وہ کوئی بات کرنا چاہتا ہے۔ بچے سب سے بہتر اس وقت سیکھتے ہیں، جب وہ خود کو محفوظ سمجھتے ہیں۔ والدین کے ساتھ اچھا تعلق انھیں ذہنی مسائل سے دور رہنے کے لیے سب سے بہترین مدافعتی نظام فراہم کرتا ہے۔

قربت اور تعمیل میں توازن

جب آپ کا بچہ ریستوران یا کسی عوامی مقام پر کوئی مسئلہ پیدا کرتا ہے تو اس بات کے زیادہ امکانات ہیں کہ وہ آپ کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے اپنے رویے میں تبدیلی لے آئے۔ ہرچندکہ اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ بچوں کو اچھا شہری بنانا ہماری ذمہ داری ہے، لیکن یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ اس لمحے ہمیں خود کو بچے کی جگہ رکھ کر سوچنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ بچے کو سیدھا سیدھا خاموش ہوجانے کی تلقین کرنے کے بجائے یہ بھی ذہن میں رکھیں کہ کیا اس کی کوئی اور وجہ تو نہیں ہے؟ کیا بچہ بھوکا تو نہیں ہے؟ کیا وہ تھک تو نہیں گیا؟

ناکامی یا دباؤ کا سامنا کرنے دیں

یہ بات سمجھ آتی ہے کہ والدین اپنے بچے کا دل ٹوٹتا ہوا دیکھ کر یا ناکامی کی حالت میں اسے فوری ڈھارس دینے لگتے ہیں۔ لیکن یاد رکھیں، یہی دباؤ والے لمحات آپ کے بچے کی ذہنی صحت کو مضبوط بناتے ہیں۔ ڈاکٹر ویسٹرز کہتے ہیں، ’’آپ کا بچہ جب گیم ہارنے پر رونے لگتا ہے تو یہی وہ لمحات ہوتے ہیں جو آپ کے بچے کی شخصیت میں لچک پیدا کرتے ہیں، ذہنی نشوونما کرتے ہیں اور ان میں چیزوں کو پرکھنے کی سمجھ بوجھ پیدا کرتے ہیں‘‘۔

جب تک آپ کا بچہ محفوظ ہے، آپ سائیڈ لائنز پر رہنے پر ہی اکتفا کریں۔ آپ اس کا مسئلہ فوری طور پر حل کرنے کے لیے پہنچ جانے کے بجائے اس وقت کا انتظار کریں، جب اسے واقعتاً آپ کی مدد کی ضرورت ہے۔

بچوں کو بور ہونے دیں

ڈاکٹر ویسٹرز کہتے ہیں کہ بچوں کا ذہنی طور پر بور ہونا ہی وہ کیفیت ہوتی ہے، جب ان کے ذہن میں تخلیقی صلاحیتیں پیدا ہوتی ہیں۔ ایسی ہی کیفیت میں بچے کے ذہن میں دوستوں اور بہن بھائیوں کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کی سوچ پروان چڑھتی ہے، مسائل حل کرنے کی سوچ پیدا ہوتی ہے، وہ اپنے تصورات کو آگے لے جاتے ہیں،ان میں سیلف کنٹرول اور خود مختاری پیدا ہوتی ہے۔ان باتوں کے علاوہ، ڈاکٹر ویسٹرز والدین کو مشورہ دیتے ہیں کہ اچھی ذہنی صحت کے لیے وہ اپنے بچوں میں صحت مند غذائیں کھانے، جسمانی طور پر سرگرم رہنے، مناسب نیند لینے اور ٹیکنالوجی کا ذمہ دارانہ اور محدود استعمال کرنے کی عادت پروان چڑھائیں۔

تعلیم سے مزید