آپ آف لائن ہیں
جمعہ7؍صفر المظفّر 1442ھ 25؍ستمبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

منیبہ خان

میں ایک صاف ستھرے گھر میں رہتا تھا۔ میرا مالک بہت خوش اخلاق انسان تھا۔ وہ مجھ سے بہت پیار کرتا تھا ۔میری ہر ضرورت کا خیال رکھتا۔میرے مالک کے دو چھوٹے بچے بھی تھے وہ بھی مجھ سے بے حد پیار کرتے تھے۔ میں صبح سویرے خود ہی سیر کو نکل جاتا تھا اور کچھ ہی دور رہنے والے اپنے دوستوں سے مل لیتا۔انہیں اپنے مالک کی باتیں سناتا تھا، اور پھر مقررہ وقت پر واپس آکر کھانا کھاتا تھا۔

ہرے بھرے پتے اور نرم گھاس کھا کر میں کافی صحت مند ہوگیا تھا۔ میرا مالک بہت غریب آدمی تھا۔ وہ اپنی آمدنی سے بمشکل گزارا کرپاتا تھا۔کچھ دنوں سے میں مسلسل میںیہ دیکھ رہا تھا کہ میرا مالک بہت پریشان رہنے لگا ہے۔ اس کی نظر جب بھی مجھ پر پڑتی تو وہ اداس اور غمگین ہوجاتا تھا۔ اگلی صبح میں معمول کے مطابق جب کچھ ہی دور اپنے دوستوں سے ملنے گیا۔ تو وہاں بہت کم تعداد میں میرے دوست کھڑے تھے۔

میں نے ایک قدرے بڑی عمر کے دوست سے جا کر پوچھا کہ’’ سب کہاں چلے گئے‘‘۔

اس نے کہا،’’بقرعید آنے والی ہے، اس میں مسلمان اللہ کے حکم سے جانور یعنی بکرے ، اونٹ، بیل، بھیڑ وغیرہ ذبح کرتے ہیں۔ کل ایک بڑی سی گاڑی میں کچھ لوگ آئے اورہمارے مالکوں کو ہمارے ساتھیوں کی قیمت دے کر ساتھ لے گئے، تاکہ وہاں جا کر منڈی میں انہیں فروخت کیا جائے۔

آس پاس رہنے والے میرے سب دوست چلے گئے۔ لیکن میرے مالک کے پاس مجھے خریدنے کے لیے کوئی نہ آیا۔ شاید اس لیے کہ میں اکلوتا تھا۔آخر ایک دن اس نے فیصلہ کیا کہ وہ خود مجھے لے جاکر شہر میں فروخت کرے گا،چنانچہ ایک دن صبح میرے مالک نے میرے گلے میں رسی ڈالی اور مجھے گھر کے دروازے تک لے آیا، میں نے پیچھے مڑکر دیکھا تو میرے مالک کے دونوں بچے بھی مجھے پْرنم آنکھوں سے دیکھ رہے تھے۔

بکرا منڈی میں بکرے خریدنے والوں کا بھی بہت ہجوم تھا۔ ہرکوئی مجھے دیکھنے آرہا تھا۔ میں ہرکسی کو اپنی آزمائش کروا، کروا کر تھک گیا تھا۔ بار بار منہ کھولنے سے میرے جبڑوں میں درد ہونے لگا تھا۔خدا خدا کرکے رات کا وقت ہوا اور بکرا منڈی میں کچھ سکون نظر آنے لگا۔ میرا تھکن کے مارے برا حال تھا۔ میرے مالک نے میرے گلے میں پڑی ہوئی رسی کے دوسرے کنارے کو اپنے پاؤں سے باندھا اور خود وہیں لیٹ گیا۔ میں بھی وہیں بیٹھ کر اونگھنے لگااور نہ جانے کب مجھے نیند آگئی۔

سورج ابھی پوری طرح نکلا بھی نہ تھاکہ منڈی میں پھر وہی چہل، پہل شروع ہوگئی تھی۔

مجھے مسلسل گندا پانی اور مرجھائی گھاس کھاتے ہوئے تیسرا دن ہوچکا تھا۔ لیکن میں نے اپنے مالک کی وجہ سے کوئی شکوہ نہ کیا۔

عید میں تھوڑے ہی دن رہ گئے تھے۔ شام کا وقت قریب تھا کہ ایک بڑی عمر کا آدمی اپنے تین چھوٹے بچوں کے ساتھ میرے پاس آیا،وہ اپنے لباس اور وضع قطع سے امیر گھرانے کا لگ رہا تھا۔آخر کار میں اسے پسند آگیا، میرے مالک نے قیمت لے کر میری رسی اس آدمی کو تھما دی۔ وہ آدمی مجھے اپنی کار تک لے آیا، اور ہم ایک مختصر سفر کے بعد ایک عالیشان گھر کے گیٹ پر جاکر رکے۔

’’بکرا آگیا، بکرا آگیا‘‘۔ گھر کے سب بچے اونچی اونچی آواز میں چلا کر خوشی کا اظہار کررہے تھے۔ گھر کے صحن کے ایک کونے میں مجھے باندھ دیا گیا۔گھر میں موجود بچے بہت شرارتی تھے۔ کوئی میرا سینگ پکڑتا تو کوئی میری ٹانگ کھینچتا۔ آخر کب تک برداشت کرتا۔ میں نے ایک بچے کو ہلکی سی ٹکر ماری یہ دیکھ کر مجھ سے سارے بچے دور ہٹ گئے۔

میں نے سکون کا سانس لیا۔ جب سے آیا ہوں کسی نے پانی تک کا نہ پوچھاتھا۔دور کھڑا ایک بچہ جو بہت محبت سے میری طرف دیکھ رہا تھا، اس نے گھاس لا کر میرے سامنے ڈالی، اور پانی بھی دیا۔میں نے ممنونیت بھری نظروں سے اس بچے کو دیکھا اور دل میں خوش ہوا کہ چلو کوئی تو ہے میرا خیال رکھنے والا۔

وہ میری ہر ضرورت کا خیال رکھتا تھا۔وہ مجھ سے مانوس ہوگیا تھا میری قربانی کا دن نزدیک آرہا تھامجھے پتا چل گیا تھا کہ مجھے اللہ کی راہ میں قربانی کے لئے چناگیا ہے۔ عید کا دن آگیا،سب بہت خوش نظر آرہے تھے۔ کسی کو میرا خیال تک نہ آیا۔ لیکن وہ بچہ عید کے دن بھی مجھے کھانا اور پانی دے رہا تھا۔ آج وہ اداس لگ رہا تھا۔سب مرد عید کی نماز پڑھ کر آئے۔ اور میرے گلے سے رسی نکال دی ۔ مجھے زمین پر لٹا کر اللہ کے حضور اس کی رضا مندی کے لئے ذبح کیا جانے لگا۔