آپ آف لائن ہیں
بدھ21؍ذی الحج1441ھ12؍اگست 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

رواں سال امریکی الیکشن سے قبل ڈالر کریش ہو جائے گا؟

کراچی (نیوز ڈیسک) امریکا کے سرکردہ اسٹاک بروکر پیٹر شیف نے خبردار کیا ہے کہ اس وقت امریکی کرنسی ڈالر کی قدر گر رہی ہے اور کسی کو پریشانی لاحق نہیں ہے۔ غیر ملکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق، دنیا بھر میں سونے اور چاندی کی بڑھتی قیمتوں کے مقابلے میں ڈالر اپنی قدر کھو رہا ہے۔

 ایسے میں پیٹر شیف کہتے ہیں کہ اس صورتحال کو نظر انداز کرنا بعد میں پریشان کن ثابت ہو سکتا ہے۔ اپنے ٹوئٹر پیغام میں انہوں نے کہا کہ صورتحال اس وقت تک یوں ہی نظر آئے گی جب تک کہ ڈالر کی قدر مکمل طور پر زمین بوس نہیں ہو جاتی۔ انہوں نے کہا کہ مجھے نہیں لگتا کہ ایسا جلد ہوگا لیکن اگر قدر کا انڈیکس 80؍ تک آ گیا تو یہ قدر میں کمی میں تیزی آ سکتی ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ اگر موجودہ صورتحال دیکھیں تو رواں سال کے اختتام سے قبل یا شاید صدارتی الیکشن تک ڈالر کی قدر انتہائی کم ترین سطح پر آ جائے گی۔ میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ چند ہفتوں کی صورتحال کو دیکھا جائے تو ڈالر کی قدر تیزی سے گر رہی ہے اور عالمی معیشت میں کچھ ممالک ایسے بھی ہیں جنہوں نے ڈالر میں لین دین کم کر دیا ہے۔

 آئی سی ای ڈالر انڈیکس میں صرف جمعہ کے دن 0.4؍ فیصد کمی دیکھنے کو ملی، یہ جولائی 2018ء کے بعد سے انتہائی کم ترین سطح ہے۔ دوسری پریشان کن بات یہ بھی ہے کہ سونے کی قیمت میں تیزی سے اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ 

پیٹر شیف کہتے ہیں کہ کورونا وائرس کی وبا نے معیشت کو تباہ تو کیا ہے لیکن ساتھ ہی اس نے ڈالر کے زوال کا آغاز بھی کر دیا ہے اور اس وقت امریکا کا مرکزی بینک (فیڈرل ریزرو) بھی ڈالر کی قدر گرنے سے روکنے کے معاملے میں کچھ نہیں کر سکتا۔ 

انہوں نے کہا کہ منفی شرح سود اصل میں بہت ہی نقصان دہ ہے کیونکہ امریکی حکومت کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) استعمال کر رہی ہے جس کا بڑھتی مہنگائی پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ 

انہوں نے کہا کہ ممکن ہے کہ ڈالر کی جگہ سونا سنبھال لے کیونکہ یورو سمیت کوئی اور کرنسی ڈالر کی جگہ سنبھالنے کیلئے تیار نہیں، سونا ہی اصل کرنسی ہے کیونکہ ڈالر سے پہلے بھی دیکھیں تو سونا موجود تھا۔ 

انہوں نے کہا کہ ڈالر کی بنیاد پر قائم عالمی معیشت در اصل تاش کے پتوں کا گھر ہے جو کئی برسوں میں تعمیر کیا گیا ہے، اس کے معمار کا نام امریکی فیڈرل ریزرو ہے جس نے ڈالر کو ریزرو کرنسی کی حیثیت دے رکھی ہے، اگر یہ حیثیت ختم ہو گئی تو تاش کے پتوں کی بنیاد ہل جائے گی اور پورا گھر منہدم ہو جائے گا۔

اہم خبریں سے مزید