آپ آف لائن ہیں
منگل11؍صفر المظفّر 1442ھ 29؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

محصور کشمیر، عالمی امن اور بھارتی سلامتی خطرے میں

ہندو بنیاد پرست بھارتی وزیراعظم مودی نے گزشتہ سال 5اگست کو بھارتی آئین و قانون کو بلڈوز کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیرکی آئینی حیثیت ختم کرکے دنیا پر واضح کرنے کی ناکام کوشش کی کہ اس نے عالمی متنازع علاقے کشمیر اور لداخ کو ہڑپ لیا ہے۔ اس پُرخطر دیدہ دلیری کا مظاہرہ فاشسٹ مودی نے انتخابی فتح کے نشے، حاصل مہلک نظریاتی پارلیمانی قوت اور مقبوضہ علاقے پر مسلط 7لاکھ فوج سے حاصل اعتماد پر کیا۔ مودی کا اپنا تو اتنا کیلی بر ہی نہیں لیکن ثابت یہ ہوا کہ سرمائے اور ’’بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ‘‘ کی اسیر بھارت کی Well mandatedحکمراں جماعت اپنی Political Intelectual Calculutions میں اتنی احمق اور نالائق ہے کہ اسے ذرہ برابر اندازہ نہیں ہوا کہ وہ کشمیر اور لداخ کو ہڑپ کرنے کے لئے جو کرنے والی ہے وہ بھارت کو بہت بڑے خسارے سے ہی نہیں داخلی سلامتی کے بڑے مہلک چیلنجز سے دوچار کردے گا۔

آج جبکہ مقبوضہ کشمیر کی 90لاکھ کی نہتی آبادی کے مکمل اسٹیٹ اسپانسرڈ دہشت گردی سے کئے گئے کڑے اور انتہائی ظالمانہ محاصرے کا ایک سال ہو گیا، بڑا سوال یہ ہے کہ مودی دنیا پر یہ واضح کرنے میں کتنا کامیاب ہوا کہ اس نے مقبوضہ کشمیر اور متنازع لداخ ہڑپ کر لیا ہے اگرچہ چین نے بھارتی آئین کی آرٹیکل 370کی بذریعہ پارلیمان غیرقانونی تنسیخ پر متنازع لداخ کے حوالے سے اپنا سخت اور واضح ردِعمل دینے میں ذرا تاخیر نہیں کی تھی لیکن مودی اور اس کے بنیادی پرست ساتھیوں کا نشہ آنے والے چند ہی ماہ میں اتنا خطرناک ثابت ہوا کہ آج بھارتی دعوے کے مطابق لداخ کے کتنے ہی متنازعے علاقے چین کے عسکری و انتظامی کنٹرول میں آ چکے ہیں۔ اب تک چین انہیں متنازع قرار دیتے ہوئے پُرامن بات چیت سے ہی مسئلے کو حل کرنے کی پالیسی اختیار کئے ہوئے تھا۔ بھارتی عوام خصوصاً وہاں کے پڑے لکھے متوسط طبقے کا ملکی سلامتی سے متعلق مورال بھی ٹیسٹ ہو گیا کہ چین نے اپنے دعوے کے مطابق جو بفر متنازع علاقہ معمولی لیکن مکمل غیرمسلح کارروائی اور ڈنڈوں اور مکوں کی مارپیٹ سے قبضے میں لے لیا اس پر وہ بھی اپنے وزیراعظم کے اس بیان کہ : ’’ہمارے کسی علاقے میں چین نہیں آیا‘‘۔ چپ سادھ کر بیٹھ گئی۔ مودی کی تو سیاسی دکان اجڑنے کا خطرہ واضح تھا کہ وہ مان لیتا کہ ’’چین لداخ کے تین متنازع علاقوں پر قبضہ کر چکا ہے‘‘ لیکن بھارت کی خاموشی نے بھارت کے بطور ’’علاقائی عسکری طاقت‘‘ کے غبارے سے مکمل پھونک نکال دی۔ فاشسٹ حکومت نے جو ماحول بنادیا ہے اس میں اپوزیشن بھی اس جوگی نہیں رہی کہ وہ سوال اٹھائے کہ اگر متنازع علاقے کے عسکری اہمیت کے حامل تین مقامات پر چینی قبضہ نہیں ہوا تو نئی دہلی چین سے مذاکرات کے لئے کیوں سفارتی پاپڑ بیلتا رہتا ہے۔ ابھی دو روز قبل مذاکرات کا جو چوتھا دور ناکام ہوا ہے اس کا آخر بھارت کے حوالے سے کیا ایجنڈا تھا؟

امر واقع یہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں ’’رائے شماری‘‘ ہوگئی، جو اقوام متحدہ اور امن کی علمبردار نام نہاد عالمی طاقتیں تو اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق نہ کرنے کے جرم کی مرتکب ہوئیں، لیکن۔ مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت ختم کرنے سے پہلے شروع ہونے والے ایک سالہ کڑے عسکری محاصرے نے ثابت کردیا کہ مقبوضہ علاقے کے کشمیری کیا چاہتے ہیں؟اور بھارت کو اس کے اظہار سے روکنے کے لئے کیا کرنا پڑ رہا ہے لیکن یہ معاملہ اس طرح ختم یا کم نہیں ہوگا نہ ہوا، جو ہوگیا، ہو رہا اور ہونے والا ہے، وہ بھارت کے لئے خسارہ ہی خسارہ ہے۔ بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر اور مہنگے ترین اور اب بھی مشکوک، رافیل جنگی طیاروں کی خریداری بھارت کی داخلی سلامتی کو لگائے زخم پر مرہم نہیں رکھ سکتی۔ فاشسٹ بھارتی حکومت نے فقط اپنی انتخابی فتح اور اس کے بعد انتہا کےغیرپیشہ ورانہ میڈیاکی خطرناک سپورٹ کے فالو اپ میں جو مہلک پارلیمانی اقدام کیا اور ’’سونے پہ سہاگہ‘‘ اس کا مزید فالو اپ بھارتی مسلمانوں خصوصاً اور اقلیتوں کی ’’شہری حیثیت‘‘ کی تبدیلی کی آگ لگا کر کیا، اس کا ردعمل مودی کے ماسٹر اپنے دو روزہ دورے پر دلّی موجودگی میں بخوبی دیکھ گئے۔ ادھر خالصتان تحریک کے احیاکی خبریں سوشل میڈیا ہی نہیں مین اسٹریم میڈیا میں آنے لگی ہیں۔

نیپال بھی بھارت کے لئےسیکورٹی تھریٹ بن رہا ہے اور جو کچھ آزادی و خود مختاری کے لئے بے چین سات مشرقی ریاستوں میں ہو رہا ہے اس نے بھارتی سلامتی کے داخلی مسائل پیدا نہیں کردیے؟۔ مسئلہ کشمیر اب عالمی امن کے لئے فقط فلیش پوائنٹ نہیں یہ تیزی سے بلنک کر رہا ہے اور سیٹیاں بجا رہا ہے جبکہ بھارت کو ہلاشیری دینے والے نیتن یاہو کو ڈیل آف سنچری کنویں میں گرنے کے بعد اپنی پڑی ہے اور انکل ٹرمپ پر بھی بھارت کی ٹھس عسکری صلاحیت اتنی واضح ہو چکی ہے کہ امریکہ بھر کے عسکری دانش وروںپر ایک بڑا بوجھ آن پڑا ہے کہ وہ اس سوال کا عین درست جواب تلاش کریں کہ کہیں بھارت جیسے غیر مستحکم داخلی خطرات سے دو چار مکمل منقسم ملک جو اپنا علاقہ چین کے قبضے میں جانے کے بعد احتجاج بھی نہیں کر سکتا، کیا اچھا دفاعی اتحادی ثابت ہو سکتا ہے۔ کیا اس کی اتنی سکت ہے کہ وہ سائوتھ چائنہ سی میں جاکر امریکہ کے اپنے گھڑے مفادات کا دفاع کرنے پر امریکہ کی مدد کرسکے؟