آپ آف لائن ہیں
ہفتہ8؍ صفر المظفّر 1442ھ 26؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

کشمیریوں کی تحریک آزادی کو ہم چار مراحل میں تقسیم کرسکتے ہیں۔پہلا قیام پاکستان کے فوراً بعد پختون قبائلیوں اور کشمیریوں کی مسلح جدوجہد کا دورانیہ۔دوسرا 1950سے لے کر 1980تک سیاسی جدوجہد کا دورانیہ جب سید علی گیلانی اور سید صلاح الدین جیسے لوگ بھی پرامن جدوجہد اور انتخابی عمل کے ذریعے اپنی منزل کے حصول کی کوشش کررہے تھے ۔

تیسرا مرحلہ اسی کی دہائی سے لے کر نائن الیون تک جہادی تنظیموں کے ذریعے مسلح جدوجہد کا دورانیہ اور چوتھا نائن الیون کے بعد مظلومانہ عوامی جدوجہد کا دورانیہ ۔نائن الیون کے بعد بننے والی فضا سے فائدہ اٹھا کر ہندوستان نےکشمیری جہادی تنظیموں کو کچلنے اور امریکہ و یورپ کو استعمال کرکے پاکستان کو ان کی سرپرستی سے گریز پر مجبور کیا۔

اس کے بعد اگر کسی جہادی تنظیم نے کوئی کارروائی کی تو اس کو انڈیا نے اس طرح پیش کیا کہ قربانی کے باوجود وہ کارروائی کشمیر کاز کے لئے وسیع تناظر میں فائدے کی بجائے نقصان کا موجب بن گئی۔ چنانچہ اس کے بعد کشمیریوں کے پاس مظلومانہ عوامی جدوجہد اور پاکستان کے پاس سفارت کاری کے ہی آپشن باقی رہ گئے۔

جنگی لحاظ سے کشمیر کو آزاد کرانے کا پاکستان کو ایک موقع ( 62کی چین انڈیا جنگ )۔ ہاتھ آیا تھا لیکن اس وقت امریکہ کے ساتھ دوستی اور محبت میں جنرل ایوب خان نے اس سے فائدہ نہ اٹھایا۔

سفارتی حوالوں سے بہترین موقع ایٹمی دھماکوں کے بعد ہاتھ آیا تھا جب بی جے پی جیسی انتہاپسند جماعت کی طرف سے جنونی مودی کی بجائےواجپائی جیسے شاعر انڈیا کے وزیراعظم تھے اور لاہور آکر انہوں نے پاکستان کے وجود کو تسلیم کرنے اور کشمیر پر گفتگو کرنے پر آمادگی ظاہر کی لیکن بدقسمتی سے پرویز مشرف کے کارگل ایڈونچر کی وجہ سے وہ سلسلہ ختم ہوگیا ۔

سفارتی حوالوں سے دوسرا نادر موقع نائن الیون کے بعد ہاتھ آیا تھا کیونکہ اس وقت امریکہ کو پاکستان کی ضرورت پڑی تھی اور جنرل پرویز مشرف نے کہا تھا کہ کشمیر کاز کو بچانے کے لئے انہوں نے امریکہ کا ساتھ دیا لیکن کیمپ ڈیوڈ میں صدربش کا مہمان خصوصی بننے کے باوجود وہ کشمیر کے معاملے پر امریکہ کو استعمال کرکے ہندوستان سے کشمیریوں کو کوئی رعایت نہ دلواسکے۔

پرویز مشرف کے بعد سفارتی لحاظ سے ایک اور موقع اب عمران خان کے ہاتھ آیا تھا لیکن لگتا ہے کہ وہ موقع بھی ضائع کردیا گیا۔ میرے اس دعوے کی بنیاد یہ ہے کہ عمران خان کے وزیراعظم بنتے وقت کچھ بنیادی تبدیلیاں رونما ہوئی تھیں ۔ مشرف، زرداری اور نواز شریف کے ادوار میں پاکستان کو اس بری طرح دہشت گردی کا سامنا تھا کہ وہ کسی اور محاذ پر ایک خاص حد سے زیادہ توجہ نہیں دے سکتے تھے لیکن عمران خان کو ایسے وقت میں اقتدار ملا کہ دہشت گردی کا عفریت بڑی حد تک قابو میں آگیا تھا۔

دوسری تبدیلی یہ آئی تھی کہ وانی کی شہادت کے بعد مقبوضہ کشمیر میں خالص اندرونی اور عوامی بغاوت جنم لے چکی تھی اور پاکستان سے مداخلت کے مکمل خاتمے کی وجہ سے دنیا یہ دیکھ رہی تھی کہ یہ خالص اندرونی اور مظلومانہ جدوجہد ہے جسے دنیا میں مارکیٹ کرنا نسبتاً آسان تھا۔

تیسری بڑی تبدیلی بی جے پی اور مودی کی ہندتوا کی جارحانہ پالیسی کی صورت میں آئی تھی جس کی وجہ سے نہ صرف ہندوستان کے اندر اقلیتیں عدم تحفظ کا شکار ہوئیں بلکہ اس کے انتہاپسند چہرے سے سیکولرازم کا نقاب بھی اتر گیا تھا۔چوتھی اور سب سے بڑی تبدیلی یہ آئی تھی کہ نائن الیون کے بعد پہلی بار امریکہ نے ڈونلڈ ٹرمپ کی وجہ سے افغانستان سے انخلا کی اپنی پالیسی واضح کی اور اس کے لئے اسے پاکستان کی مدد درکار تھی جو پاکستان نے فراہم کردی۔

گویا 2001کے بعد یہ پہلا دور تھا کہ امریکہ طالبان کے معاملے پر پاکستان کا محتاج بن گیا تھا۔ یوں پاکستان اسے کشمیر اور ہندوستان کے معاملے میں بارگیننگ چِپ کے طور پر استعمال کرسکتا تھا لیکن بدقسمتی سے ناتجربہ کاری اور غیرسنجیدگی کی وجہ سے عمران خان کی حکومت ان سب عوامل کو اپنے اور کشمیر کے حق میں استعمال کرنے میں ناکام ثابت ہوئی۔

اس ناکامی کی دو وجوہات تھیں۔ پہلی نااہل اور نامناسب ٹیم کا انتخاب اور دوسری عمران خان کی ناتجربہ کاری اور غلط اندازے ۔شاہ محمود قریشی کو وزیر خارجہ بنانا پہلی بڑی غلطی تھی کیونکہ وزیر خارجہ ہوکر بھی خارجہ امور ان کی ترجیح نہیں ۔

وہ ہمہ وقت اندرونی سیاست کے حوالے سے خواب دیکھتے یا پھر اس خواب کے پورا نہ ہونے کی وجہ سے پریشان رہتے ہیں۔ امور کشمیر کے لئے علی امین گنڈاپور اور اب کشمیر کمیٹی کے لئے شہریار آفریدی کا انتخاب اس کی دو اور نمایاں مثالیں ہیں کیونکہ ان دونوں کو پاکستان کے اندر کوئی سنجیدہ نہیں لیتا تو کشمیر یا عالمی محاذپر انہیں کوئی کیوں سنجیدہ لے گا؟

اب ٹیم رہنمائی والی تھی نہیں اور خود عمران خان صاحب کا ان میدانوں میں کوئی تجربہ نہ تھا چنانچہ پہلے انہوں نے مودی کے ارادوں کا غلط اندازہ لگایا ۔تبھی تو انڈین انتخابات سے قبل انہوں نے مودی کی کامیابی کی آرزو کی تھی۔ پھر انہوں نے امریکہ اور ڈونلڈ ٹرمپ کی سوچ کا غلط اندازہ لگایا۔

جولائی میں جب ڈونلڈ ٹرمپ نے ثالثی کا شوشہ چھوڑا تو عمران خان اس غلط فہمی کاشکار ہوگئے کہ ایک ملاقات میں انہوں نے امریکہ کو اپنا ہمنوا بنا لیا ہے حالانکہ امریکہ پہلے سے ہندوستان کے ساتھ میچ فکس کرچکا تھا کہ مغربی بارڈر پر طالبان کی وجہ سے پاکستان کو اکاموڈیٹ کرنے کے جواب میں وہ مشرقی بارڈر پر ہندوستان کی ہمنوائی کرے گا۔ چنانچہ امریکی دورے سے واپسی پر عمران خان اور ان کے ساتھیوں کے ”کامیاب“ دورہ امریکہ کا جشن ابھی ختم نہیں ہوا تھا کہ مودی سرکار نے 5 اگست کو امریکی اشیرباد سے مقبوضہ کشمیر کی حیثیت تبدیل کرکے اسے مکمل ہڑپ کرلیا۔

پھر وہ ستمبر تک یواین جنرل اسمبلی کا انتظار کرتے رہے کہ وہاں جاکر وہ ٹرمپ سے شکایت کریں گے اور وہ مودی کے کان کھینچیں گے لیکن وہاں ٹرمپ نے الٹا انہیں نصیحتیں شروع کردیں اور مودی کے ساتھ ہیوسٹن کے ہائو ڈی موڈی کنونشن میں شرکت کے ذریعے پیغام دیا کہ وہ مودی کے ساتھ ہیں۔

ہندوستان پر سفارتی دبائو کے لئے دوسرا فورم عالم اسلام کا ہوسکتا تھا لیکن اس معاملے میں بھی عمران خان نے افراط و تفریط سے کام لیا۔ پاکستان اور کشمیر کے حق میں کسی عرب ملک کی بجائے ترکی، ایران اور ملائشیا کی طرف سے بیانات آئے لیکن تب ہم عرب ممالک کو خوش کرتے رہے ۔ پھر جب وہ ہماری درخواستوں کے باوجود اوآئی سی کا اجلاس طلب کرنے پر آمادہ نہ ہوئے تو خان صاحب نے ملائشیا جاکر اور وہاں اوآئی سی کے خلاف بیان دے کر الٹا عرب ممالک کو بھی ناراض کیا ۔

یوں عالم اسلام کے معاملے میں بھی پاکستان ’’نہ اِدھرکے رہے نہ اُدھر کے رہے‘‘ والی کیفیت کا شکار ہوگیا۔چنانچہ مودی سرکار کے ہاتھوں مقبوضہ کشمیر کو دنیا کا سب سے بڑا قید خانہ بنائے ہوئے آج ایک سال پورا ہوگیا لیکن حکومت پاکستان راہ تکتے کشمیریوں کے دکھوں کو رتی بھر کم نہ کرسکی۔

کشمیر پر نئے حالات کے مطابق نئے بیانیے کی تشکیل کے لئے ضروری ہے کہ پوری پاکستانی قیادت ، کشمیری قیادت کے ساتھ بیٹھ کر قومی سطح پر پالیسی اور لائحہ عمل تشکیل دے لیکن کیا موجودہ سیٹ اپ اور اس کے اس رویے کے ہوتے ہوئے ایسا ممکن ہے ؟۔