آپ آف لائن ہیں
جمعہ29؍محرم الحرام 1442ھ 18؍ستمبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

میر شکیل کو اظہار رائے کا پرچم بلند کرنے پر ٹارگٹ کیا گیا، مقررین

میر شکیل کو اظہار رائے کا پرچم بلند کرنے پر ٹارگٹ کیا گیا، مقررین 


کراچی ، لاہور ، پشاور ، راولپنڈی (اسٹاف رپورٹر، نمائندگان جنگ ) نیب کے ہاتھوں جنگ اور جیو گروپ کے ایڈیٹر انچیف میر شکیل الرحمان کی غیر قانونی گرفتاری کے خلاف بدھ کے روز بھی کراچی ، لاہور ، پشاور اور راولپنڈی سمیت کئی شہروں میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری رہا ، اس موقع پر صحافتی تنظیموں کے نمائندوں ، سینئر صحافیوں ،سیاسی قائدین، سول سوسائٹی کے ارکان اور مختلف طبقہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی ، اس موقع پر مقررین نے کہا کہ میر شکیل الرحمان کو اظہار رائے کا پرچم بلند کرنے پر ٹارگٹ کیا گیا ،جنگ جیو کو سچ بولنے کی سزا دی جا رہی ہے، میر شکیل الرحمان اور جنگ گروپ کو سچ اور انصاف کی آواز اٹھانے کی سزا دی جارہی ہے، حکومت میر شکیل الرحمان کو فی الفور رہا کرکے صحافیوں کا معاشی قتل عام بند کرے،میر شکیل الرحمان کو 145دنوں سے انصاف فراہمی میں تاخیر کی جارہی ہے، دوسری جانب کراچی میں صحافی تنظیموں، جنگ جیو ایکشن کمیٹی کے زیراہتمام میرشکیل الرحمان رہائی احتجاجی کیمپ سے خطاب کرتے ہوئےسینئر صحافی منیر حسین کھوکھر نے کہ کہ پاکستان کے سب سے بڑے میڈیا گروپ جنگ نے حق اور سچ کا علم بلند کیا، یہی حق اور سچ حکمرانوں کو ہضم نہیں ہورہا ہے جس کی سزا کے طور پر میرشکیل الرحمان کو قید کیا ہوا ہے، اس موقع پر سینئر صحافی اور ایپنک کے سیکرٹری جنرل اور شکیل یامین کانگا، سینئر صحافی انور عباس، سینئر صحافی شفیع القادری، دی نیوز کے صدر سعید محی الدین پاشا، جنرل سیکرٹری دارا ظفر نے بھی خطاب کیا۔ اس موقع پر مسلم لیگ ن کے اقبال خاکسار بھی موجود تھے۔ منیر حسین کھوکھر نے مطالبہ کیا کہ صحافت اور صحافی کو اس ملک میں جینے کا حق دیا جائے۔ ہر قسم کے جبر اور ظلم کے باوجود آج بھی جنگ اور جیو گروپ ترقی کی جانب گامزن ہے اور انشاء ترقی کرتا رہے گا۔ میرشکیل کو باعزت رہا کرنا پڑے گا۔ شکیل یامین کانگا نے کہا کہ جنگ گروپ پاکستان نہیں دنیا کا سب سے بڑا اردو کا میڈیا گروپ ہے اس سے وابستہ کئی ہزار لوگ ہیں جن کے گھر کا چولہا یہ ادارہ جلارہا ہے۔ اگر اس گروپ کو بند کرنے کی کوشش کی گئی تو ہزاروں خاندان حکمرانوں کا جینا دوبھر کردیں گے۔ انور عباس پاکستانی نے کہا کہ جنگ گروپ ایک درسگاہ کی حیثیت رکھتا ہے جس سے ہزاروں افراد نے صحافت سیکھی، میرخلیل الرحمان صاحب کے ساتھ کئی پروگرامز اور سیمینارز میں شرکت کا موقع ملا ان جیسی شخصیت میں نے آج تک نہیں دیکھی وہ حقیقی صحافی تھے اور کارکنوں کے درد کو اپنا درد محسوس کرتے تھے۔ ان کے بیٹے میرشکیل الرحمان بھی باپ کے نقش و قدم پر چلتے ہوئے اپنے ادارے کو وسعت دی اور کئی ادارے بنائے۔ میں اور پوری صحافی برادری ایکشن کمیٹی کے ساتھ ہے اور جب تک میرشکیل الرحمان رہا نہیں ہوں گے ہم آپ کے احتجاج میں شرکت کرتے رہیں گے۔ شفیع القادری نے میرشکیل الرحمان کی گرفتاری کی شدید مذمت کی اور ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ۔

اہم خبریں سے مزید