آپ آف لائن ہیں
منگل11؍صفر المظفّر 1442ھ 29؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ ریلوے ہر خاص و عام کیلئے آرام دہ، محفوظ ترین اور سستا ذریعہ سفر ہونے کے ساتھ ساتھ پاکستان جیسے کثیر آبادی والے ملک کی اہم ترین ضروریات میں شامل ہے۔ جہاں اس محکمے نے قیامِ پاکستان کی ابتدائی تین دہائیوں میں تیزی سے ترقی کی، بعد ازاں اسے بدقسمتی کہئے کہ بےجا سیاسی مداخلت سے یہ محکمہ بری طرح متاثر ہوا اور آج ریلوے کا پورا ڈھانچہ جس طرح سے بےبسی کی تصویر بنا ہوا ہے وہ محتاجِ وضاحت نہیں۔ ان حالات میں یہ حوصلہ افزا رپورٹ سامنے آئی ہے کہ قومی اقتصادی کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی (ایکنک) نے بدھ کے روز اپنے اجلاس میں دو سال سے التوا میں پڑے کراچی تا پشاور ریلوے لائن منصوبہ ’’ایم ایل ون‘‘ سمیت 1252ارب روپے مالیت کے چار منصوبوں کی منظوری دی ہے جو نہ صرف سی پیک کا حصہ ہے بلکہ اس سے گزشتہ پانچ دہائیوں سے رکی ہوئی ترقی کا عمل پھر سے شروع ہو سکے گا جس میں سرفہرست 2655کلو میٹر طویل ریلوے ٹریک کو پشاور سے کراچی تک اپ گریڈ کیا جانا ہے جس کی تکمیل کے بعد نہ صرف مسافر ٹرینوں کی رفتار 110سے بڑھ کر 165کلو میٹر فی گھنٹہ ہو جائے گی اسی طرح ایک سمت سے یومیہ 34ٹرینوں کے گزرنے کی استعداد بھی بڑھ کر 137تا 171تک جا پہنچے گی۔ متذکرہ منصوبے کی ایک اور خاص بات حویلیاں کے قریب ڈرائی پورٹ کا قیام ہے جو اس امر کی غمازی کرتا ہے کہ اس سے مال بردار گاڑیوں کی آمد و رفت پھر سے معمول پر آسکے گی۔ ڈرائی پورٹ کے قیام سے قریبی صنعتی بستیوں پر طاری جمود ٹوٹ سکے گااس ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہو گا کہ ملک کے طول و عرض میں برانچ لائنوں سمیت تمام سیکشنوں پر مسافرو مال گاڑیوں کی آمد و رفت کو مکمل طور پر بحال کرنے کیلئے تمام ضروری وسائل بروئے کار لائے جائیں۔

اداریہ پر ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں00923004647998