آپ آف لائن ہیں
منگل11؍صفر المظفّر 1442ھ 29؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

مقبوضہ کشمیر کی تاریخ میں 5اگست 2019خاص اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ اس روز بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے اقوام متحدہ کی قراردادوں اور دوطرفہ معاہدوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کا اسپیشل اسٹیٹس ختم کر کے اسے بھارتی یونین میں شامل کر لیا تھا۔ اسی روز سے وہ فوجی محاصرے میں ہے اور تقریباً ایک کروڑ کی آبادی میں 10لاکھ قابض فوج ظلم کے پہاڑ ڈھا رہی ہے۔ تین سالہ بچے کے سامنے اس کا ستر سالہ نانا گولیوں سے بھون دیا گیا اور اس کی ویڈیو وائرل ہونے پر ہر طرف کہرام بپا ہوگیا۔ جبر و استبداد کا ایک سال مکمل ہونے پر پاکستان نے 5اگست 2020کو ’یوم استحصال کشمیر‘ منانے کا فیصلہ کیا۔ خوش قسمتی سے مجھے آزاد جموں کشمیر کی اسمبلی میں وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر اور وزیر اعظم جناب عمران خان اور سینیٹ میں صدر مملکت جناب ڈاکٹر عارف علوی کے ارشادات سننے کا موقع ملا۔

راجہ فاروق حیدر جنہوں نے فیض احمد فیض کے اشعار سے اپنی گفتگو میں گہری معنویت پیدا کرتے ہوئے بعض تاریخی واقعات کے حوالے دیے۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم چوہدری محمد علی نے 1955 میں کشمیر کانفرنس منعقد کی تھی جس میں سفارشات پاکستان کے عظیم سیاسی قائد جناب حسین شہید سہروردی نے پیش کی تھیں۔ پہلی سفارش یہ تھی کہ آزاد ریاست جموں و کشمیر میں ایک خودمختار اور بامقصد حکومت قائم کی جائے۔ راجہ صاحب کی دوسری تجویز یہ تھی کہ زبردست سفارتی مہم کے ذریعے بھارت کی فسطائیت پوری طرح بے نقاب کی جائے۔ اس مستقل عمل میں آزاد جموں و کشمیر کی حکومت کو مرکزی کردار سونپا جائے کہ اصل فریق وہی ہے۔ جناب عمران خان کے لیے ان کا مخلصانہ مشورہ تھا کہ پاکستان کی سیاست میں اتفاق رائے کو بنیادی اہمیت ملنی چاہئے کیونکہ سیاسی، معاشی اور فوجی اعتبار سے مستحکم پاکستان ہی کشمیر کو بھارت کے چنگل سے آزاد کرا سکتا ہے۔ ہماری طرف سے یہ پیغام بھی جانا چاہیے کہ اسلام کسی بھی مذہب کا مخالف نہیں۔ انہوں نے اپنا یہ تجزیہ بھی پیش کیا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے ہمارے پاس فقد تین سال کی مہلت ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے بڑی امید افزا تقریر کی اور 5اگست 2019کو کشمیر، پاکستان اور جنوبی ایشیا کے لیے مبارک دن قرار دیا کہ مودی اپنے ہی جال میں پھنس گیا ہے اور کشمیریوں کی آزادی کا دن قریب آ پہنچا ہے۔ ان کا استدلال یہ تھا کہ مودی نے جن چار مفروضات کی بنیاد پر مقبوضہ کشمیر کو بھارت میں ضم کرنے کے لیے قدم اٹھایا تھا وہ چاروں غلط ثابت ہوئے جس کے باعث اس کا تعصب، اس کی باطنی خباثت اور اس کا تکبر پوری طرح بے نقاب ہو گئے ہیں۔ میں عالمی لیڈروں کے ساتھ ملاقاتوں میں انہیں یہ سمجھانے میں کامیاب رہا کہ بھارتی قیادت کا مذہبی جنون عالمی امن کے لیے سنگین خطرہ بنتا جارہا ہے۔ نیویارک ٹائمز نے میرا مضمون شائع کیا تو دنیا کے اہم دارالحکومتوں میں گہری تشویش کی لہر دوڑ گئی۔

صدر پاکستان جناب ڈاکٹر عارف علوی نے اپنے مخصوص انداز میں سینیٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے ایک سال کے دوران مقبوضہ کشمیر کو بڑی جیل میں تبدیل کر دیا ہے جس میں بدترین تشدد کی فضا قائم ہے۔ بھارت کا استاد اسرائیل ہے جو فلسطین کے مغربی علاقے میں یہودیوں کی بستیاں آباد اور فلسطینیوں کو بے دخل کئے جا رہا ہے، وہی عمل بھارت مقبوضہ کشمیر میں دہرانے کی تیاریاں بڑی سرعت کے ساتھ کر رہا ہے۔ صدر محترم نے انسانی برادری سے اپیل کی کہ وہ انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب کرنے سے بھارت کا ہاتھ روکے۔

میں دیر تک سوچتا رہا کہ بھارتی قیادت جس میں شیطنت کوٹ کوٹ کر بھری ہے، کیا ہمارا ’یوم استحصال کشمیر‘ اس فتنےکے سدباب میں مؤثر ثابت ہو گا۔ نریندر مودی نے مسلمانوں کے جذبات پر کاری وار کرنے کے لیے بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر کا سنگ بنیاد رکھ دیا ہے۔ وہ 5اگست کو بھارت کی تاریخ میں ’یوم فتح‘ کی حیثیت دینا چاہتا ہے، اگرچہ لداخ کے محاذ پر شکست فاش نے اس کے بہت سارے خواب چکنا چور کر دیے ہیں اور تنازع کشمیر ایک نئی جہت کے ساتھ عالمی سطح پر اجاگر ہوا ہے۔ پاکستان کی سیاسی قیادتیں اور مقتدر ادارے اگر بردباری، دور اندیشی اور باہمی خیر خواہی سے کام لیں، تو مقبوضہ کشمیر کی آزادی کا ہدف قلیل مدت میں حاصل کرنے کے امکانات موجود ہیں، مگر ہماری حکومت نےجلد بازی میں 5اگست کے حوالے سے جو اقدامات کیے ہیں وہ سنجیدہ لوگوں کی نظر میں کچھ زیادہ اہمیت نہیں رکھتے۔ مقبوضہ کشمیر کے عوام پر جو قیامت ٹوٹی ہے، اس کے مقابلے میں ’یوم استحصال کشمیر‘ کی اصطلاح بہت چھوٹی ہے۔ اسی طرح ایک منٹ کی خاموشی بھارت کو ظلم کرنے سے باز نہیں رکھ سکتی۔ کشمیر ہائی وے کو شاہراہ سرینگر سے موسوم کرنا ایک نہایت وسیع تناظر کو محدود کرنے کے مترادف ہو گا۔ سیاسی نقشے پر معتبر اشخاص کی طرف سےنہایت وزنی اعتراضات اٹھائے جا رہے ہیں۔ بدقسمتی سے5 اگست کو حکومت اور اپوزیشن کے مابین حقیقی معنوں میں یکجہتی کا مظاہرہ نہیں ہوا، البتہ اس موقع پر آئی ایس پی آر نے بلند ہمت کشمیریوں کی عظیم الشان جدوجہد کے حوالے سے جو نغمہ جاری کیا ہے وہ ایک قابل قدر کاوش ہے۔ اس نغمے کا مختلف زبانوں میں ترجمہ ہونا چاہیے جس کے عالم گیر اثرات مرتب ہوں گے۔ پاکستان کے سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ کے پر اعتماد بیانات محکوم کشمیریوں کے اندر ایک نیا ولولہ پیدا کرنے اور دشمن کو نتائج سے باخبر رکھنے کا سرچشمہ ثابت ہوں گے۔ اس کے علاوہ کشمیر کے مجاہد لیڈر جناب سید علی گیلانی کو سب سے بڑا سویلین ایوارڈ نشان پاکستان سے سرفراز کرنے کا اعلان آزادی کشمیر کی تحریک میں ایک نئی روح پھونک دے گا۔ یہ امر بھی بہت خوش آئند ہے کہ اس روز پاکستان کے اندر اور باہر ریلیاں منعقد ہوئیں اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی غیرقانونی سرگرمیوں کا بند کمرے میں تفصیل سےجائزہ لیا۔ اس عالمی فضا میں ہمارے زیرک وزیر خارجہ نے وفورِ خطابت میں ایک سفارتی قضیہ کھڑا کر دیا ہے اور کسی لاگ لپیٹ کے بغیر او آئی سی اور سعودی عرب کو یہ فیصلہ کرنے کے لیے کہا ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے ساتھ ہیں یا نہیں۔