آپ آف لائن ہیں
اتوار9؍صفر المظفّر 1442ھ 27؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

اس صدی کی بڑی وباء نے عالمی مفکرین کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ بعد از کووڈ 19دنیا میں جو تبدیلیاں رونما ہونگی ان کے اثرات کا سد باب کس طرح کیا جائے۔ اگر ہمارے ملک کے منصوبہ ساز واقعی چوتھے صنعتی انقلاب کے مضمرات کو سمجھ لیتے ہیں تو ترقی کے بہت سے مواقع میسر آئیں گے۔ میک کینسی گلوبل نے 2025تک ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیوں سے 100کھرب ڈالر کی آمدنی کی پیش گوئی کی ہے۔ صرف مصنوعی ذہانت ہی سے اگلے 5سال میں 15.7کھرب ڈالرکی آمدنی ہوگی، اگر ہم اس تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا کے مسابقتی ماحول میں آگے بڑھنا چاہتے ہیں تو ہمیں سمجھداری کے ساتھ جلد ہی اس صف میں شامل ہونا ہوگا۔ جہاں صرف وہی قومیں آگے بڑھیں گی جو بڑے پیمانے پر جدت طرازی پر کامیابی سے کام کریں گی۔ علمی معیشت کے حصول کے لئے بہت سے عناصر کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ ان میں سب سے اہم ایک ایماندار اور تکنیکی ماہرین پر مشتمل حکومت ہے جو واقعتاً ہماری کم قیمت زرعی معیشت کو مضبوط علمی معیشت میں منتقل کرنے کے طریقے کو سمجھتی ہو اور اس پر عمل درآمد کرسکتی ہو۔ یہی وہ عنصر تھا جس نے سنگاپور اور چین میں انقلاب برپا کیا، جہاں کی قیادت کو پختہ یقین تھا کہ تعلیم، سائنس، ٹیکنالوجی اور جدت طرازی کو سب سے زیادہ قومی ترجیح دے کر ہی ہم ترقی کر سکتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ آج سنگاپور عالمی مسابقتی انڈیکس میں دنیا میں پہلے نمبر پر ہے، امریکہ سے بھی آگے جبکہ اسی فہرست میں پاکستان کئی کمزور ممالک جیسے، نیپال اور نکارا گوا سے بھی پیچھے 110ویں نمبر پر ہے۔ بزنس رینکنگ کی عالمی سطح پر، سنگاپور دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے جبکہ پاکستان ونواتو اور تاجکستان سے بھی پیچھے 108ویں نمبر پر ہے۔ جہاں تک چین کا تعلق ہے تو اس کی کہانی سنگاپور سے مختلف نہیں ہے۔ چین آج دنیا میں سب سے زیادہ تحقیق و ترقی پر خرچ کرنے والا ملک ہے جس نے 2019میں اس اہم ترین شعبےمیں امریکہ کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں واقع عالمی تنظیم برائے علمی ملکیت کے مطابق، 2018ءمیں امریکہ نے صرف141، 597پیٹنٹ دائر کئے جبکہ اسکے مقابلے میں چین نے اسی سال اس سے ڈھائی گنا زیادہ پیٹنٹ دائر کئے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ چین جدت طرازی اور تخلیقی صلاحیتوں میں امریکہ سےکتنا آگے ہے۔ بالکل اسی طرح جیسا کہ سنگاپور اور چین نے کیا ہے، اسی طرح پاکستان میں بھی ہمیں ایک ٹیکنوکریٹ حکومت بنانے کی ضرورت ہے جس میں بہترین اور ہونہار وزیروں اور سکریٹریوں کو عہدے دیے جائیں تاکہ ہمیں غربت اور ناخواندگی کے طوق سے نجات حاصل ہو۔ نالج اکانومی کے قیام کیلئے ضروری ہے کہ مضبوط انصاف کا نظام قائم کیا جائے کیونکہ حقیقی صنعتی ترقی اور کاروبار ناقص عدالتی نظام میں ممکن نہیں۔

پاک چین اقتصادی راہداری دونوں ممالک کے صنعتی گروپوں کے مابین مشترکہ منصوبے برائے اعلی ٹیکنالوجی سامان کی تیاری اور برآمدات، پاکستان کی ترقی کیلئے ایک بہترین موقع کی نمائندگی کرتی ہے، اسے مزید مؤثر بنانے کے لئے اس کے ساتھ ساتھ اعلیٰ تکنیکی صنعتی زون قائم کئے جانے چاہئیں۔ مثال کے طور پر بائیوٹیکنالوجی مصنوعات کے شعبے کا علمی مرکز انزائمز، ویکسینز، بائیو فارماسیوٹیکلز، بائیوپولیمرز اور ریکومبیننٹ پروٹین کی بڑے پیمانے پر پیداوار پر توجہ مرکوز کر سکتا ہے۔ اسی طرح برقیات کے شعبے میں علم کا مرکز ذاتی کمپیوٹرز، وڈیو گیم کنسولز، ٹیلیفون، موبائل فونز، ریڈیو ریسیورز، ٹیلی ویژن سیٹ، MP3پلیئرز، وڈیو ریکارڈر، ڈی وی ڈی پلیئرز، ڈیجیٹل کیمرے اور کیمکورڈرز تیار کر سکتا ہے۔ ایک اور علمی مرکز زیادہ آمدنی زرعی پیداوار جس میں ہائبرڈ چاول اور سبزیوں کے بیج، باغبانی، اس کے علاوہ روئی، گندم، چاول اور دیگر خوردنی فصلوں کی اعلیٰ پیداوار اور بیماری سے بچنے والی اقسام، منتخب کردہ اعلیٰ قدر والے ادویاتی نباتات، تجارتی لحاظ سے اہم اجزاء کی کشید، مشروم، سجاوٹی درخت، ماہی گیری، اور دودھ کی مصنوعات پر توجہ مرکوز کرسکتا ہے۔ اسی طرح کے علمی مراکز انجینئرنگ سامان، ٹرک، آٹوموبائل، ٹینک، دفاعی مصنوعات اور دیگر شعبوں کی تیاری کے لئے بھی قائم کئے جا سکتے ہیں۔ اسی طرح متعلقہ علمی مرکز قائم کیا جائے جو معدنیات نکالنے اور پروسیسنگ پر توجہ کرے۔ اس میں الیکٹرونکس اور دیگر خصوصی صنعتوں میں درکار نایاب معدنیات کی تیاری کے لئےٹیکنالوجیاں بھی شامل ہوسکتی ہیں۔ ہر مرکز کے اندرتین کلیدی اجزا ہونے چاہئیں ان میں (1) اعلیٰ قدر مصنوعات کی تیاری کے لئے مخصوص شعبوں میں اعلی ٹیکنالوجی کی صنعتیں اور تکنیکی تربیتی مراکز ہونے چاہئیں (2) جامعاتی تحقیقی مراکز (3) ٹیکنالوجی پارکس ہوں۔ جن شعبوں میں یہ ا علٰیٰ مراکز قائم کئے جائیں انہیں چینی حکومت اور صنعتوں کے مشورے سے احتیاط سے منتخب کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ آئندہ دس برسوں میں چینی نجی شعبے سے تقریباً 500ارب کی سرمایہ کاری راغب کرسکیں۔ بلوچستان معدنی وسائل سے مالا مال ہے لیکن اس قومی دولت کو قیمتی اور نیم قیمتی معدنیات و جواہرات کی اسمگلنگ کے ساتھ ساتھ خام قیمتی پتھروں کی برآمد سے ضائع کیا جا رہا ہے۔ بدعنوان سیاستدان اور سرکاری عہدیدار اس بڑے پیمانےکی بدعنوانی میں ملوث ہیں۔ اس نقصان کو روکنے کے لئے فوری اقدامات اٹھائے جائیں اور چین ، روس اور دیگر ممالک کے اشتراک سے صنعتیں قائم کی جائیں تاکہ ہم صرف انتہائی صاف شدہ معدنیات کی تیاری اور برآمد ات کرسکیں۔

پاکستان تاریخ کے دو راہے پر کھڑا ہے۔ کووڈ 19وبائی مرض کے بعد ایک نئی دنیا ابھرے گی جو مصنوعی ذہانت، اگلی نسل کے جینومکس، خودمختار گاڑیاں اور مصنوعی حیاتیات کے ذریعے تخلیق کردہ نئے پودوں اور جانوروں کی نسلوں پر مشتمل دنیا ہوگی۔ اس دنیا میں ان ملکوں کے مابین اختلاف علم و ٹیکنالوجی کی بنیادوں پر ہوگا جو ممالک ٹیکنالوجی کے علم سے لیس ہوں گے وہ ان ممالک سے برتر تصور کئے جائیں گے جو جہالت کے اندھیروں میں غرق ہوں گے۔ اس نئی دنیا میں ہمیں اپنی شناخت بنانی ہے، جیسا کہ سنگاپور اور چین نے کیا ہے۔ میرے خیال میں اس کے لئے ہمیں فعال عدالتی نظام کے ساتھ ساتھ ایک مختلف نظام حکومت جسے صدارتی نظام جمہوریت کہا جاتا ہے، نافذ کرنا ہوگا جس کی وکالت ہماری قوم کے بانی قائداعظم محمد علی جناح نے بھی کی تھی۔