آپ آف لائن ہیں
اتوار9؍صفر المظفّر 1442ھ 27؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

کشمیر۔ پاکستان کے پاس کیا آپشنز ہیں؟

کشمیریوں کی قربانی اور جدوجہد اپنی مثال آپ ہے۔ علی گیلانی سے لے کر میر واعظ عمر فاروق تک، کوئی بھی منزل سے سرمو منحرف نہیں ہوا لیکن پھر بھی کشمیریوں کو آزادی کی منزل نصیب نہیں ہوئی۔ غاصبانہ قبضہ تو ہندوستان نے 1947میں کیا تھا لیکن گزشتہ سال 5اگست کو مودی کی جنونی حکومت نے اسے ہڑپ کرنے کی بھی کوشش کی۔

لاک ڈائون تو عملاً مقبوضہ کشمیر میں برسوں سے ہو چکا تھا لیکن گزشتہ سال سے محاصرہ بھی کر لیا گیا۔ ایسا محاصرہ جو قریب کی تاریخ کا سب سے طویل محاصرہ ہے۔ ایک وقت ایسا تھا کہ مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کی مالی اور سماجی حالت پاکستانیوں سے بہت بہتر تھی۔ ان کو ہندوستان کی مرکزی حکومت میں بھی مناصب دیے گئے اور مقبوضہ کشمیر کے اندر بھی۔ آج بھی اگر وہ آزادی کا نعرہ چھوڑنے پر آمادہ ہوں تو سید علی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق اور یاسین ملک وغیرہ کو مودی سرکار کوئی بھی منصب اور کوئی بھی لالچ دینے کو تیار ہے۔

سوال یہ ہے کہ پاکستان موجودہ دور میں ان کے لئے کیا کر سکتا ہے؟ پہلا راستہ یہ ہے کہ پاکستان کشمیر کی آزادی کے لئے حملہ کردے لیکن ہمارے ملک کے حکمران اور محافظ ہمیں بتارہے ہیں کہ سردست ایسا ممکن نہیں کیونکہ ایک تو اقتصادی حالت پاکستان کو جنگ سے روکتی ہے اور دوسرا عالمی برادری اس وقت اس جنگ کی اجازت دے گی اور نہ پاکستان کا ساتھ۔

دوسرا آپشن یہ ہو سکتا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے حریت پسندوں کو اخلاقی کے ساتھ عملی مدد بھی فراہم کی جائے لیکن نائن الیون کے بعد جو فضا بنی ہے اور انڈیا نے جس طرح کشمیریوں کی جنگ آزادی کو القاعدہ اور طالبان جیسی تنظیموں سے جوڑ دیا ہے، اس کے بعد خصوصاً ایف اے ٹی ایف جیسے عوامل کی وجہ سے اس آپشن کو آزمانا ممکن نہیں رہا۔ تیسرا آپشن جو سردست دستیاب ہے وہ سفارتکاری کے ذریعے عالمی ضمیر کو جھنجوڑنے، عالمی سطح پر دشمنوں کو کم کرنے اور دوستوں کی تعداد بڑھانے کا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ موجودہ حکومت، اس کی موجودہ ٹیم اور اس کی افراط و تفریط پر مبنی پالیسیوں کے ساتھ ایسا ہونا ممکن نہیں۔

عالمی سطح پر کشمیر کا مسئلہ زندہ ہوا ہے لیکن وہ ہمارا نہیں بلکہ قربانیاں دینے اور مظلومانہ جدوجہد کرنے والے کشمیریوں کا کارنامہ ہے یا پھر خود جنونی مودی کی حکومت اور اس کی پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ سابق ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہا تھا کہ انڈیا نے ہمیں بائونسر مارا ہے اور اس پر چھکا لگانا اب ہمارا کام ہے لیکن افسوس کہ سونامی سرکار اس پر ایک رن بھی نہ بنا سکی۔ اس وقت کشمیر کے معاملے پر وہ عمل کرنا چاہئے جس سے بیرونی دنیا متاثر ہو لیکن حکومت کی ہر سرگرمی کا محور پاکستانیوں کو متاثر کرنا ہوتا ہے۔

ہم کشمیر میں مودی سرکار کے مظالم اور ہندوستان کے اندر اقلیتوں کے ساتھ ناروا سلوک پر دنیا کو تب اپنا ہمنوا بنا سکیں گے جب ہم پاکستان کے اندر کوئی ایسا کام نہ کریں جس کی وجہ سے ہم اخلاقی طور پر کمزور ہوں۔ ان کی عدالتیں اگر اقلیتوں اور کشمیریوں کو انصاف نہیں دے رہی ہیں تو ہماری عدالتوں کو انصاف کی فراہمی کے اعلیٰ معیارات قائم کرنے چاہئیں لیکن ہماری عدالتوں سے اگر سیاسی مخالفین اور اپنے شہریوں کو انصاف نہ ملے تو ہم لاکھ چاہیں ہندوستان کو دنیا کی نظروں میں مجرم نہیں بنا سکتے۔

ہندوستان نے کشمیر میں میڈیا کو مکمل غلام بنا رکھا ہے اور ڈیجیٹل میڈیا کا راستہ بھی بند کردیا ہے۔ ہمارے ملک میں بھی اگر میڈیا سنسر شپ کا شکار ہو اور میر شکیل الرحمٰن کی طرح اس کے سرخیلوں کو بےگناہ جیلوں میں ٹھونسا جائے تو ہم کس منہ سے دنیا کے سامنے کشمیر میں میڈیا پر قدغنوں کا ماتم کریں گے۔

ہندوستان نے مقبوضہ کشمیر کے ہزاروں نوجوانوں کو مسنگ پرسن بنا دیا ہے یوں کشمیر کاز کا تقاضا ہے کہ پاکستان کے اندر ایک بھی مسنگ پرسن نہ ہو تاکہ ہم دنیا کے سامنے ہندوستان کے مکروہ چہرے سے نقاب اٹھانے کی بہتر پوزیشن میں آسکیں۔

اگر ہمارے ملک کے اندر ہمارے اپنے شہری بھی مسنگ ہوں تو دنیا کے سامنے ہم کس منہ سے کشمیر کے مسنگ پرسنز کا کیس پیش کریں گے۔ کشمیر کے اندر کئی مرتبہ ڈھونگ انتخابات کروا کر ہندوستان نے دنیا کو یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ وہاں جمہوری عمل جاری ہے۔ اب اگر پاکستان کے اندر بھی انتخابی نتائج کو تبدیل کرنے کا الزام لگ رہا ہو تو یہ کشمیر کاز کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے کیونکہ یہ عمل پاکستان کو بھی ہندوستان کی صف میں کھڑا کرتا ہے۔

ہندوستان آزادی اور بنیادی انسانی حقوق مانگنے والے ہر رہنما کو جیل کے اندر ڈالتا ہے، اب اگر پاکستان کے اندر بھی سیاسی مخالفین کو صرف سیاسی مخالف ہونے کی بنیاد پر نیب اور عدالتوں کے ذریعے پابندِ سلاسل کیا جارہا ہو تو ہم کس منہ سے دنیا کے سامنے ہندوستان کے اس جرم کو اعتماد کے ساتھ آشکار کر سکیں گے۔

ہندوستان نے ستر سال تک جمہوریت کا ڈھونگ رچا کر کٹھ پتلی حکمرانوں کےذریعے کشمیریوں کو قابو کرنے کی کوشش کی۔ اب اگر پاکستان میں بھی کٹھ پتلیوں کو حکمران بنایا جائے گا تو وہ کس طرح اعتماد کے ساتھ کشمیر کا مقدمہ لڑ سکیں گے کیونکہ کٹھ پتلی کٹھ پتلی ہوتی ہے چاہے ہندوستان میں ہو یا پاکستان میں۔

یوں کشمیر کاز کا تقاضا ہے کہ پاکستان میں حقیقی جمہوری حکومتیں قائم ہوں اور اسے چلانے والے خوداعتمادی کے اسلحہ سے لیس ہوں۔ مودی سرکار نے 5اگست کو جو کچھ کیا، وہ کشمیریوں کی مرضی کے خلاف کیا لیکن بہانہ اس کے لئے یہ تراشا کہ یہ کام انہوں نے کشمیریوں کی بہتری کے لئے کیا ہے۔

اب ہم بھی اگر دونوں اطراف کی کشمیری قیادت کو ڈرائیونگ سیٹ پر بٹھانے کے بجائے اپنی پالیسیاں بنا کر ان پر مسلط کریں گے تو ہندوستان کے مقابلے میں ہماری اخلاقی پوزیشن کمزور ہوگی۔ وزیراعظم اگر کشمیریوں کے وکیل ہیں تو وکیل کبھی اپنے موکل کی مرضی کے بغیر قدم نہیں اٹھاتا۔

مقدمہ موکل بناتا اور وکیل صرف اسے لڑتا ہے، اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ کشمیری قیادت کو ڈرائیونگ سیٹ دی جائے۔ وہ بیانیہ بنائیں اور پاکستانی قیادت اس کو آگے لے کر بڑھے۔ ہم نیک نیتی کے ساتھ سہی لیکن اگر کشمیریوں پر اپنی مرضی مسلط کروائیں گے تو اس سے ہندوستان کا کام آسان ہوگا۔