آپ آف لائن ہیں
بدھ12؍ صفر المظفّر 1442ھ30؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

وقار محسن

دوسرے دوستوں کے علاوہ ایان میاں کی دوستی اپنے مٹھو،بل ہاوئنڈ کتے ڈوزر اور سفید بالوں والی پرشین بلی ریشم سے بہت گہری تھی۔ چاروں آوازاور چہرے کے تاثرات سے ایک دوسرے کی باتیں بخوبی سمجھ لیتے ۔ڈوزر کی خو،،خو۔۔ریشم کی میائوں میائوں اور مٹھو کی ٹیں ۔۔ٹیں کا ترجمہ کرنے میں ایان کو کوئی پریشانی نہیں ہوتی۔

گرمی کی دوپہر میں جب دادی ایان کو کمرہ میں سلا کر خود بھی سونے چلی جاتیں تو ڈوزر کھڑکی کے شیشے سے ناک لگا کر پنجوں سے کھٹ کھٹ کرتا ،جس کا مطلب ہوتا کہ باہر آجائوراستہ صاف ہے۔سگنل ملتے ہی ایان دبے قدموں باہر آجاتا اور ان کے ساتھ مولسری کے درخت کی ٹھنڈی چھائوں میں کھیلتا۔

ایان کے تینوں دوستوں میں مٹھو سب سے شریر تھا ۔وہ اچانک اچھل اچھل کر چیختا ’’چوہا آیا ۔۔چوہا آیا۔‘‘ یہ سن کر جیسے ہی ریشم ہونٹوں پر زبان پھیرتی بھاگ کر آتی وہ زور زور سےہنستے ہوئے اس کا مذاق اڑاتا۔رات کو جب ڈوزر گہری نیند میں ڈوبا ہوتا تو مٹھو چور۔۔چور چلا کر اس کی نیند خراب کرتا اور جب ڈوزر بھاگ کر گیٹ پر جاتا تو وہ پنجا اٹھا کر اس کو انگوٹھا دکھاتا۔

مٹھو سے گہری دوستی کے باوجود ایان کو مٹھو کی ایک عادت بہت نا پسند تھی وہ یہ کہ نا جانے کیوں14اگست یعنی یوم آزادی کو مٹھو پروں میں چونچ دبائے اداس بیٹھا رہتا اور پنے دوستوں کی خوشی میں شریک نہیں ہوتا۔

اس بار بھی 13اگست کی شام ہمیشہ کی طرح بہت پر رونق تھی۔ ایان نے پودوں پر مختلف رنگوں کے بلبوں کی جھالریں لگائی تھیں، جس سے نکلتی شعائیں پورے لان میں روشنی کے جھومر بکھیر رہی تھیں۔چھت پر پاکستان کو بڑا سا جھنڈا لہرا رہا تھا۔

آج ایان نے ڈوزر کے لئے گوشت،ریشم کےلئے چکن کا قیمہ اور مچھلی کے ٹکڑے اور مٹھو کےلئے چم چم کرتی کٹوریوں میں چوری،مٹر کے دانے،امرود اور سیب کے ٹکڑے اور ہری مرچیں رکھی تھیں۔ ڈوزر اور ریشم نے تو اپنی پسندیدہ چیزیں ڈٹ کر کھالیں لیکن مٹھو پنجرہ کی جالی سے چونچ لگائے اداس بیٹھارہا ۔رات کا کھانا کھاکر جب ایان مالی بابا کے کواٹر میں گیا تو وہ چارپائی پر بیٹھے حقہ گڑ گڑا رہے تھے۔

اس نے ان سے پوچھا ،’’بابا !یہ کیا بات ہے کہ میرے سب دوست یوم آزادی بڑے جوش اور خوشی سے مناتے ہیں لیکن یہ نخریلا مٹھو منہ پھلائے بیٹھا رہتا ہے۔ ‘‘

بابا نے حقہ ایک طرف رکھتے ہوئےاسے اپنے پاس بٹھاتے ہوئے کہا،’’بیٹا! تم ابھی بہت چھوٹے ہو ۔آہستہ آہستہ تمہیں اندازہ ہوگا کہ آزادی کتنی بڑی نعمت ہے۔دنیا کی کوئی دولت آزادی سے بڑھ کر نہیں۔مٹھو کو تم نے تمام سہولتیں دی ہیں۔ اس کا خوبصورت پنجرہ ہے،کھانے کہ ہر چیز ہے لیکن وہ آزادی کی نعمت سے محروم ہے۔ 

تم نے دیکھا ہوگا کہ درختوں کی ڈالیوں پر چہچہاتے،بارش کی پھوار میں پنکھ کھول کر نہاتے،اپنے ماں باپ ،بچوں اور دوستوں کے ساتھ ہوا کے دوش پر اڑتے پرندے کتنے خوش ہوتے ہیں ۔یہ خوشی آزادی کی خوشی ہے ۔قید خانہ اگر سونے کا بھی ہو تو وہاں دم گھٹتا ہے۔ تم بھی اگر مٹھو کو آزاد کردو تو وہ بھی تم سب کی طرح یوم آزادی پر خوش ہوگا۔

ایان نے غور سے بابا کی باتیں سنیں اور اس کے بعدوہ آہستہ آہستہ انار کے درخت کے نیچے گیا ،جہاں مٹھو کا پنجرہ لٹکا ہوا تھا۔اس نے مسکراتے ہوئے پنجرہ کا دروازہ کھول کر سیٹی بجائی ۔پہلے تو مٹھو کو یقین نہیں آیا اور وہ اپنی گول گول آنکھیں گھما کر تعجب سے اسے دیکھنے لگے۔

جب ایان نے کہا’’آئیے حضور! آج سے آپ آزاد ہیں ‘‘تو مٹھو خوشی ناچتے ہوئے پھر سے اڑ کر امرود کے درخت کی شاخ پر جا بیٹھا اور محبت بھری نظروں سے ایان کو دیکھنے لگا ،جیسے شکریہ ادا کر رہا ہو۔