آپ آف لائن ہیں
ہفتہ8؍ صفر المظفّر 1442ھ 26؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

کیوں مانگ رہے ہو کسی بارش کی دعائیں!

یہ کچے گھروندوں کی بستی نہیں ہے، جہاں کے باسی کبھی بارش نہ ہونے کی دعائیں مانگیں۔ یہ کنکریٹ کا شہر کراچی ہے، جہاں کے باشندے بارش سے خوف زدہ ہوتے ہیں۔ اسی شہر کے ایک بیٹے جاذب قریشی کو یہ کہنا پڑا

کیوں مانگ رہے ہو کسی بارش کی دعائیں

تم اپنے شکستہ در و دیوار تو دیکھو

یہ عروس البلاد نہ صرف پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہے بلکہ دنیا کے دس بڑے شہروں میں اس کا شمار ہوتا ہے اور اب بارشوں میں ہونے والی تباہی کی خبریں اس شہر کا عالمی ذرائع ابلاغ میں تعارف بن گئی ہیں۔ ایک زمانہ تھا، جب یہ شہر ایشیاء کے خوبصورت ترین اور ترقی یافتہ شہروں اور خطے کے تجارتی مرکز کے طور پر عالمی شہرت کا حامل تھا۔ امریکی اور یورپ کے لوگ برصغیر ہندوستان یا تقسیم کے بعد پاکستان کے بارے میں اتنا نہیں جانتے تھے، جتنا وہ کراچی کے بارے میں معلومات رکھتے تھے۔ کراچی اپنے بہترین بلادی انتظام و انصرام، انتہائی صاف شاہراہوں، سڑکوں اور گلیوں، فن تعمیر کی شاہکار خوبصورت عمارتوں جدید انفراسٹرکچر، عالمی معیار کے بازاروں، بہترین ٹرانسپورٹ اور اعلی تعلیم یافتہ روادار دانش ورانہ معاشرے کی وجہ سے پہچانا جاتا تھا۔ اب اربن فلڈنگ، برسات میں انسانوں کی اموات، عمارتوں کے گرنے، گھروں کے ڈوبنے، غریبوں کی بچیوں کے جہیز پانی میں بہہ جانے، جانوروں کی طرح انسانوں کے مرنے اور سڑکوں پر گاڑیوں کے تیرنے کی خبروں میں اس شہر کا تذکرہ ہو ہوتا ہے۔ اب ذرائع ابلاغ چیخ چیخ کر یہ کہہ رہے ہیں کہ یہ دنیا کا سب سے گندہ اور ناقابلِ انتظام شہر بن گیا ہے، جہاں تھوڑی سی بارش زندگی کو نہ صرف مفلوج کر دیتی ہے بلکہ اکثر گنجان آباد علاقوں میں زندگی عذاب بنا دیتی ہے۔

یہ شہر پاکستان کو 70فیصد ریونیو دیتا ہے اور یہاں کراچی پر 5فیصد بھی خرچ نہیں کیا جاتا۔ کراچی کی زمینوں کا شمار دنیا کی مہنگی ترین رئیل اسٹیٹ میں ہوتا ہے۔ ملک اور براعظم فتح کرنے کے بجائے کراچی کو فتح کرنا ہی کافی ہے۔ اس شہر کی تزویراتی ( اسٹرٹیجک ) اہمیت ہے۔ یہ جنوبی ایشیاء کا گیٹ وے ہے۔ کراچی کی امارت اور تزویراتی اہمیت کے ساتھ ساتھ کراچی کی تباہی و بربادی کی بھی اہمیت ہے کیونکہ اس شہر کی تباہی و بربادی خطے کے بعض دیگر شہروں اور ریاستوں کی ترقی کی ضمانت ہے۔ کراچی کی تباہی اور یہاں ہونے والی دہشت گردی بھی کراچی کے وسائل کی طرح کچھ لوگوں کے لئےاہم ہے۔ اس لئے کچھ قوتوں کے مفادات کراچی کے مسائل سے وابستہ ہیں اور کچھ قوتوں کے مفادات کراچی کی تباہی اور یہاں ہونے والی دہشت گردی سے منسلک ہیں۔ ان تمام قوتوں کے لئےکراچی مالا مال ہے۔ بدنصیب صرف اس شہر کے عام باسی ہیں، جن کا کراچی کے نام نہاد وارثوں کی جنگ میں کسی بھی سطح پر کوئی حصہ نہیں ہے۔

کراچی کا وارث بننے کی جنگ میں بظاہر سیاسی قوتوں کے ساتھ ساتھ حکومتی اور ریاستی ادارے بھی ہیں اور وہ طاقتیں بھی ہیں، جو اس پیچیدہ جنگ میں ظاہر مہروں کو استعمال کرتی ہیں۔ ایسی سیاسی قوتیں بھی ہیں، جنہیں کراچی پر غلبہ حاصل کرنے کے لئے کچھ بھی کرنا پڑے، کرتی ہیں۔ ان کی سیاست کراچی تک محدود ہے۔ کچھ سیاسی قوتیں ایسی ہیں، جو پورے ملک کی سیاست کرتی ہیں لیکن انہیں کراچی پر حکومت کرنے کے لئے صرف سندھ تک محدود رہنا پڑے تو ان کے لئے یہ سودا گھاٹے کا نہیں ہے۔ یہاں ’’قیامِ امن کی کوششیں‘‘ بھی مخصوص مفادات سے جڑی ہیں۔ عالمی اور علاقائی طاقتیں اپنی مرضی سے اس جنگ کو جب چاہیں اور جو چاہیں، اپنا رخ دے دیتی ہیں۔ سیاست کے لئے شہر کے نکاسی آب کے نظام کو تباہ کر دیا گیا۔ خراب ہوتی ہوئی صورت حال کا مقابلہ کرنے کے لئے جو نئے منصوبے بنائے گئے، ان کے بجٹ کرپشن کی نذر ہو گئے۔ اس شہر کی بربادی میں وہ تمام سیاسی اور غیر سیاسی قوتیں شامل ہیں، جو اس کی وارث ہونے کی دعویدار ہیں۔ اس اجڑے دیار کے مسائل کا آج کوئی یہ حل بتا رہا ہے کہ کراچی کو الگ صوبہ بنا دیا جائے اور کوئی یہ کہہ رہا ہے کہ کراچی کو صرف اس صورت میں ترقی دی جا سکتی ہے کہ علیحدگی پسند قوتوں اور ان کی پشت پناہی کرنے والی قوتوں کی کراچی میں مداخلت ختم ہو۔ اب کراچی کی بارشوں میں ایک بار پھر کچھ لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ کراچی کو وفاق کے زیر انتظام دے دیا جائے۔ کراچی کو وفاق کے سپرد کرنے والے آج کل یہ وصل دے رہے ہیں کہ وفاق کے زیر انتظام ادارے نیشنل ڈزآسٹر مینجمنٹ اتھارٹی ( این ڈی ایم اے ) نے چار دن میں کراچی کے نالوں کی صفائی کا کام کرادیا۔ ان سے کوئی پوچھے کہ وفاق نے کراچی کے وہ منصوبے کیوں روک رکھے ہیں، جن کی فنڈنگ وفاق کو کرنی ہے۔ ان میں گرین لائن بی آر ٹی منصوبہ اور پانی کا ’’کے4‘‘ منصوبہ بھی شامل ہیں۔ کراچی کے حوالے سے سندھ حکومت پر چند دن کی میڈیا کی تنقید کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وفاق نے سندھ حکومت کے خرچے پر کارنامہ انجام دے دیا۔ یہ تو کوئی بات نہ ہوئی۔ بارشیں تو کراچی پر ہونے والی سیاست کو بے نقاب کر دیتی ہیں۔ بقول جمال احسانی

تمام رات نہایا شہر بارش میں

وہ رنگ اتر ہی گئے، جو اترنے والے تھے

اب مفادات کی جنگ ختم ہونی چاہئے۔اگر ایسا نہ کیا گیا تو سب کو پچھتاوا ہوگا۔ کب تک حبس زدہ کراچی کے لوگ بارش کی دعائیں نہیں مانگیں گے۔