آپ آف لائن ہیں
بدھ12؍ صفر المظفّر 1442ھ30؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

پارک لین ریفرنس میں فرد جرم عائد، زرداری کا صحت جرم سے انکار

پارک لین ریفرنس میں فرد جرم عائد، زرداری کا صحت جرم سے انکار


احتساب عدالت اسلام آباد نے سابق صدر آصف علی زرداری پر ویڈیو لنک کے ذریعے پارک لین ریفرنس میں فردِ جرم عائد کر دی ہے، سابق صدر نے فرد جرم کی صحت سے انکار کر دیا ہے۔

احتساب عدالت کے جج محمد اعظم خان نے پارک لین ریفرنس کی سماعت کی، آصف زرداری بلاول ہاؤس کراچی سے وڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش ہوئے جبکہ دیگر ملزمان کی بھی وڈیو لنک کے ذریعے حاضری لگائی گئی۔

آصف زرداری نے سماعت کے آغاز پر کہا کہ میرے وکیل آج سپریم کورٹ میں مصروف ہیں مجھ پر آج فرد جرم عائد نہیں کی جاسکتی،جس پر جج احتساب عدالت نے نےآصف زرداری سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے وکیل کو پہلے سے آج کی تاریخ معلوم تھی، فرد جرم آپ پر عائد ہونی ہے۔

جج احتساب عدالت نے کہا کہ فاروق ایچ نائیک اپنے معاون وکیل کو بھی بھجوا سکتے تھے، دو سادہ سے سوالات ہیں انگلش میں، آپ وہ سن کر جواب دے دیں، اس پر آصف زرداری نے کہا کہ آپ اپنے آرڈر میں یہ ضرور لکھیں کہ وکیل کی غیر موجودگی میں مجھ پرفردجرم عائد کی جا رہی ہے، جج احتساب عدالت نے کہا کہ چارج ہمیشہ ملزم پر فریم ہوتا ہے، اگر ان کا وکیل نا آئے تو ہم مجبورنہیں کرسکتے۔

آصف زرداری پر عائد فرد جرم کے نکات

اس کے بعد احتساب عدالت کے جج اعظم خان نے الزامات کی فرد جرم پڑھ کر سنائی جس میں کہا گیا کہ آپ نے بطور صدر پاکستان اثر انداز ہو کر قرض کی رقوم فرنٹ کمپنیوں کو جاری کروائیں، آپ نے بدنیتی سے اپنی فرنٹ کمپنی پارتھینون کو ڈیڑھ ارب روپے کا قرضہ دلوایا، آپ پارک لین کمپنی کے ڈائریکٹر تھے اور جعل سازی کا منصوبہ بنایا۔

آصف زرداری پر عائد فرد جرم میں مزید کہا گیا کہ آپ نے فراڈ سے حاصل ہونے والی رقم اپنے مقاصد کیلئے استعمال کی، یہ رقم جعلی بینک اکاؤنٹس میں بھجوائی گئی۔

احتساب عدالت کے جج محمد اعظم خان نے کراچی میں پراسیکیوٹر کو آصف زرداری کے دستخط اور انگوٹھوں کے نشانات لے کر بھجوانے کی ہدایت کی، تاہم سابق صدر نے فرد جرم کی صحت سے انکار کردیا اور کہا کہ مجھے بھی 30 سال ہوگئے ہیں ایسے کیسز لڑتے لڑتے اس پر جج نے ریمارکس میں کہاکہ پھر تو آپ کو فرد جرم عائد کرنے پر اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔

سابق صدر پر فرد جرم عائد کرنے سے قبل پارک لین ریفرنس میں شریک ملزم اقبال خان نوری نے جج احتساب عدالت سے ریفرنس سے بریت اور اپنے موکل سے ملاقات کرانے کی درخواست کی جبکہ شریک ملزم طٰحہ رضا کے وکیل نے بھی اپنے موکل سے ملاقات کی درخواست دائر کی۔

وکیل طحہ رضا نے عدالت میں کہا کہ میرے موکل کا اس ریفرنس میں کوئی کردار نہیں، فرد جرم سے پہلے ملاقات کی اجازت دی جائے، جس پر ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب سردار مظفر عباسی نے کہا کہ چارج فریم ہوگا تو پتہ چل جائے گا۔

وکیل طٰحہ رضا نے پراسیکیوٹر جنرل نیبپر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ مجھ سے بات نا کریں بلکہ کورٹ کو ایڈریس کریں۔

اس پر احتساب عدالت کے جج محمد اعظم خان نے کہا کہ ہم آج چارج فریم کردیتے ہیں اور ملزمان سے ملاقات کی اجازت بھی دے دیتے ہیں۔

پارک لین ریفرنس میں آصف ذرداری کے شریک ملزم خواجہ انور مجید پر بھی بذریعہ وڈیو لنک فرد جرم عائد کی گئی، جبکہ ملزمان شیرعلی، فاروق عبداللہ، محمد سلیم فیصل، محمد حنیف پر بھی فرد جرم عائد ہوئی ہے۔

پارک لین ریفرنس میں آصف ذرداری کےشریک ملزمان نے بھی صحت جرم سے انکار کر دیا ہے۔

آصف علی زرداری ایک بار پھر وڈیو لنک پر آگئے اور کہا کہ میں کچھ کہنا چاہتا ہوں، جج احتساب عدالت نے کہا کہ آپ کچھ بھی کہہ سکتے ہیں۔

سابق صدر نے کہا کہ میں نے پاکستان کو اٹھارویں ترمیم دی اس لیے یہ مقدمات بنائے جا رہے ہیں، مجھ پر دباؤ ڈالنے کے لیے یہ کیس بنائے جا رہے ہیں، عدالتوں کو غیرجانبدار رہ کر فیصلہ دینا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ سیاسی بدنامی کے لیے ڈرامہ رچایا جارہا ہے، جج احتساب عدالت نے کہا کہ اسی لیے ہم نے یکم ستمبر کو گواہوں کو بلایا ہے، دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے گا۔

آصف زرداری نے کہا کہ عدالت اصولوں پر چلے تو بہتر ہے، جج احتساب عدالت اعظم خان نے کہا کہ ہم انشاءاللہ اصول پر ہی چلیں گے، قانون سب کیلئے برابر ہے۔

قومی خبریں سے مزید