آپ آف لائن ہیں
ہفتہ8؍ صفر المظفّر 1442ھ 26؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

عمر اکمل کیس: پی سی بی کا کھیلوں کی عالمی ثالثی عدالت جانے کا فیصلہ

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے کرپشن کیس میں عمر اکمل کی سزا میں کمی سے متعلق کھیلوں کی عالمی ثالثی عدالت جانے کا فیصلہ کرلیا۔

اپنے ایک بیان میں پی سی بی کا کہنا ہے کہ وہ اینٹی کرپشن کوڈ کی خلاف ورزی کرنے پر عمر اکمل پر عائد پابندی میں کمی کے فیصلے کے خلاف سوئزرلینڈ کے شہر لوزین میں قائم کھیلوں کی عالمی ثالثی عدالت میں اپیل دائر کرے گا۔

پی سی بی کے مطابق یہ فیصلہ انڈیپینڈنٹ ایڈجوڈیکٹر کی جانب سے جاری کردہ تفصیلی فیصلے کا بغور جائزہ لینے کے بعد کیا گیا ہے۔

کرکٹ بورڈ کا موقف ہے کہ ہمدردانہ رویہ اختیار کرتے ہوئے عمر اکمل پر عائد پابندی کو 36 ماہ سے کم کرکے 18 ماہ تک محدود کیا گیا۔

پی سی بی اینٹی کرپشن کوڈ کی شق 7.5.4 کے تحت انڈیپینڈنٹ ایڈجوڈیکٹر کے فیصلے پر اپیل صرف کھیلوں کی عالمی ثالثی عدالت میں ہی کی جاسکتی ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کا کہنا ہے کہ پی سی بی انسداد بدعنوانی سے متعلق معاملات کو بہت سنجیدگی سے لیتا ہے اور وہ اس حوالے سے اپنی زیرو ٹالیرنس پالیسی کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

پی سی بی کا ماننا ہے کہ ملکی اور بین الاقوامی سطح پر انسداد بدعنوانی سے متعلق متعدد لیکچرز میں شرکت کرنے کے بعد عمر اکمل جیسا سینئر کرکٹر متعلقہ حکام کو رابطوں کے بارے میں آگاہ نہ کرنے کے نتائج سے بخوبی واقف تھا۔

کرکٹ بورڈ کا کہنا ہے کہ عمر اکمل جیسے قد آور کرکٹر پر پابندی عائد کرتے ہوئے کوئی فخر نہیں ہوتا، لیکن ایک معتبر اور قابل احترام ادارے کی حیثیت سے ہمیں اپنے تمام اسٹیک ہولڈرز کو ایک واضح پیغام پہنچانے کی ضرورت ہے کہ ایسے کسی شخص سے ہمدردری کا مظاہرہ نہیں کیا جائے گا جو قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرے گا۔

پی سی بی نے کہا ہے کہ کھیلوں میں بدعنوانی کے خلاف اپنے عزم کے تحت کھیلوں میں بدعنوانی کی روک تھام کے لیے قانون سازی سے متعلق مجوزہ مسودہ متعلقہ سرکاری حکام کو پیش کرچکا ہے، اس حوالے سے پاکستان میں موجودہ قانون سازی کا جائزہ بھی لیا ہے۔

کرکٹ بورڈ کا کہنا تھا کہ اس مسودے بدعنوانی، غیرقانونی جوڑ توڑ، شرط، میچ اور اسپاٹ فکسنگ میں ملوث افراد کے لیے سخت سزائیں تجویز کرنے کے ساتھ ساتھ اس طرح کے جرائم میں مدد کرنے والوں پر جرمانے عائد کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔

کھیلوں کی خبریں سے مزید