آپ آف لائن ہیں
منگل4؍صفر المظفّر 1442ھ 22؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

گیس میٹر ہٹانے کی تحقیقات اور ذمہ داروں کیخلاف کارروائی کی جائے،وفاقی محتسب

کوئٹہ( این این آئی)وفاقی محتسب کے اعلامیہ کے مطابق کوئٹہ کے رہائشی شمس اللہ نے 27 دسمبر 2019 ء کو وفاقی محتسب کو درخواست دی کہ وہ ایک غریب شخص ہے ، معمولی تنخواہ پر اس کا گزر بسر ہے ۔ وہ SSGC کا کسٹمر ہے اور اپنا بل باقاعدگی سے ادا کرتا ہے لیکن بل ادائیگی کے باوجود گیس حکام نے بغیر کسی نوٹس اور پیشگی اطلاع کے انکا میٹر اتار لیا اور پھر جرمانہ کیساتھ اسکو گیس کا بل بھیج دیا۔اس نے شکایت کی کہ گیس حکام نہ تو میٹر اتارنے کی اطلاع دی اور نہ نوٹس ملا اور نہ ہی میٹر کو ان کے سامنے چیک کرایا گیا۔ یہ تمام من مانی کارروائی گیس حکام بغیر کسی انجینئر اور ایکسپرٹ کرتے ہیں ۔ ڈیلی ویجز پر مامور لوگ انتہائی بے دردی سے میٹر اتار کر پھینکتے ہیں نہ ہی میٹر سیل کیا جاتا ہے اور نہ ہی قاعدے کے مطابق میٹر کو لیبارٹری بھجوایا جاتا ہے اس پر مزید ظلم یہ کہ وہ اپنی مرضی سے میٹر ٹیمپرڈ لکھ کر بھاری جرمانہ لگا دیتے ہیں ۔مسمی شمس اللہ نے مزید بتایا کہ اس کو گیس حکام نے مبلغ 31734 روپے کا جرمانہ کیا جو ناجائز ہے۔اس سلسلہ میں اس نے وفاقی محتسب سے رجوع کیا اور اپنے ساتھ زیادتی کا ازالہ کرنے کی استدعا کی۔ وفاقی محتسب نے بر وقت کارروائی عمل میں لاکر گیس حکام کو ہدایت کی کہ اس سلسلے میں باقاعدہ رپورٹ پیش کی جائے ۔گیس حکام کی رپورٹ پر یہ نتیجہ اخذ

کیا گیا کہ گیس حکام نے کنٹریکٹ پالیسی اور اوگرا رولز کی خلاف ورزی کی ہے اور شکایت کنندہ پر ناجائز غیر قانونی جرمانہ عائد کیا ہے۔میٹر اتارنے اور لیبارٹری میں ٹیسٹ کرنے کا سلسلہ اوگرا رولز کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پایہ تکمیل تک پہنچایا گیا۔ان حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے وفاقی محتسب نے گیس حکام کو احکامات صادر کیے کہ غیر قانونی طور پر میٹر ہٹانے کی تحقیقات کی جائیں اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جائے اور غیر قانونی جرمانہ بھی قواعد کے مطابق ختم کیا جائے ۔ اس طرح وفاقی محتسب نے ایک غریب سرکاری ملازم کی داد رسی کی جس پر مسمی شمس اللہ نے وفاقی محتسب کے اقدامات کو سراہا۔  

کوئٹہ سے مزید