ہمارے ہاں کے تجزیہ کار اور ماہرین کی خواہش ہے کہ دنیا راتوں رات بدل جائے، تاہم ایسا ہونا ممکن نہیں۔وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ ہم جس عالمی طاقت کے ساتھ نتھی ہیں، وہ کسی طرح سُپر پاور بن جائے اور یوں ہم بھی ایک بڑے اور طاقت وَر مُلک میں بدل جائیں ۔یعنی ہم ترقّی بھی اپنے بل پر نہیں، بلکہ کسی اور کے کندھوں پر چڑھ کر کرنا چاہتے ہیں۔درحقیقت ،ہم ابھی تک خوابوں کی دنیا سے باہر ہی نہیں نکلے۔ بلاشبہ، چین ہمارا قریب ترین دوست ہے اور ہمیں ہرفورم پر سپورٹ بھی کرتا ہے، لیکن چین کے آگے بڑھنے کی بھی ایک حد ہے۔وہ کوئی چھلانگ نہیں مار سکتا۔اُسے سُپر پاور کی شرائط پوری کرنے کے لیے ابھی کم ازکم بیس سال لگیں گے اور اُس کی قیادت یہ سب جانتی ہے۔چین کی مدبّر قیادت جنگ اور اس کی تباہی کے اثرات سے بخوبی واقف ہے۔وہ اپنی اصل طاقت یعنی اقتصادی قوّت کو کبھی اس پر قربان نہیں کرے گی۔چاہے یہ ہانگ کانگ ہو یا نائین ڈاٹ کا معاملہ۔
جاپان سے تنازع ہو، لداخ پر بھارت سے کش مکش یا پھر امریکا سے ٹریڈ وار۔چین کو سُپر پاور کسی اور کی خواہش یا خواب نہیں بنائے گا ،بلکہ اُس کی قیادت کی دُور اندیشی اور عوام کی شب و روز محنت ہی سے اُسے یہ مقام حاصل ہوسکتا ہے۔حال ہی میں بنگلا دیش کی وزیرِ اعظم، حسینہ واجد سے وزیرِ اعظم، عمران خان کی ٹیلی فون پر پندرہ منٹ تک بات ہوئی، جس سے یہ نتیجہ نکالا گیا کہ ہم نے جنوبی ایشیا میں ایک نئے بلاک کی بنیاد رکھ دی ہے اور یہ ایک بڑا بریک تھرو ہے۔تُرکی میں آیا صوفیا کو پھر سے مسجد میں تبدیل کردیا گیا۔اردگان کے اِس قدم کو ہمارے تجزیہ کار اندرونی سیاست کی بجائے کوئی ایسا بڑا بین الاقوامی قدم بتانے کی کوشش کر رہے ہیں، جس کا شاید خود تُرکی میں بھی کسی کو خیال تک نہ ہو۔ اِس سلسلے میں 1920ء اور 1923 ء میں ہونے والے ایک سو سالہ معاہدۂ سوئیز اورمعاہدۂ لوسین کا بہت ذکر ہورہا ہے ۔
وزیرِ اعظم، عمران خان نے تُرکی، جو مغربی کونے پر واقع ہے اور ملائیشیا کے ساتھ، جو مشرقی کونے پر ہے، مل کر ایک مسلم پریشر گروپ بنانے کی کوشش کی تھی، لیکن اس کے مشرقی کھلاڑی اور جدید ملائیشیا کے بانی، مہاتیر محمّد اب گم نام ہوچُکے ہیں۔شاید تجزیہ کار بھول جاتے ہیں کہ ابھی دنیا کورونا سے نبرد آزما ہے۔ وہ ویکسین اور دوا ایجاد کرکے اور معیشتوں کو بحال کر کے اپنے عوام کا اعتماد بحال کر رہے ہیں۔اِس معاملے میں کسی سیاست کی کوئی گنجائش نہیں۔ وہ ہماری طرح کورونا کو بھول کر دوسرے بکھیڑوں میں نہیں الجھے کہ اُنہیں انسانی صحت وجان سب سے محترم ہے، جس کے لیے وہ اپنے عوام کے آگے جواب دہ ہیں۔پھر یہ کہ اُن کی عوام بھی شعور رکھتے ہیں کہ کس مسئلے کو کس جگہ رکھا جائے ۔ہمارے اردگرد کچھ بھی نہیں بدلا۔بھارت اسی طرح موجود ہے اور روزافزوں اس کی اقتصادی قوّت میں اضافہ ہورہا ہے۔ افغانستان کا معاملہ اُسی طرح حل کی طرف بڑھ رہا ہے، جیسے امریکا چاہتا ہے، بلکہ اب تو روس، چین اور ایران بھی وہی کچھ سوچ رہے ہیں، کیوں کہ اُن کو بھی کورونا نے بے حال کردیا ہے۔مِڈل ایسٹ میں تیل کی گرتی قیمتوں اور کورونا کے اثرات بدتر ہوتے جارہے ہیں۔جس تعداد میں افرادی قوّت فارغ کی جارہی ہے، وہ پاکستان کے لیے چیلنج ہے۔اور اس پر یہ سوال کہ’’ ہماری معیشت کہاں جارہی ہے؟کیا اس کے بل پر کوئی بڑا علاقائی اور بین الاقوامی کردار ادا کیا جاسکتا ہے؟‘‘ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
عالمی صُورتِ حال کو دیکھا جائے، تو وہ کورونا کے آخری فیز میں داخل ہوچُکی ہے۔سردیوں میں دوسری اور تیسری لہر کی باتیں ہو رہی ہیں، لیکن یہ درحقیقت عوام کو احتیاط پر راغب کرنے کے لیے ہیں، کیوں کہ لاک ڈائون کے عرصے میں ان ممالک نے طبّی تجربات،ادویہ، انفرااسٹرکچر اور ویکسین کے حصول کے لیے کئی مراحل طے کر لیے ہیں، جن سے کسی بڑے خطرے کا اندیشہ بہت کم ہو چُکا ہے۔معیشت کی بحالی اولیت اختیار کرتی جارہی ہے، اِسی لیے لاک ڈائون میں بھی نرمی ہو رہی ہے، لیکن سخت احتیاط کے ساتھ۔ فتح کے جشن کہیں بھی نہیں اور نہ بڑے بڑے بیانات کہ ساری دنیا ہماری تعریف کر رہی ہے ۔
یہ چلن اپنے مُلک ہی میں ہے، جہاں بیماری بھی سیاست بن جاتی ہے۔لاہور میڈیکل یونی ورسٹی کے ماہر اور وائس چانسلر، ڈاکٹر جاوید اکرام کا کہنا درست ہے کہ’’ بدقسمتی سے ڈاکٹرز کا کام دوسروں نے سنبھال لیا ہے۔‘‘برطانیہ اور امریکا میں کورونا وائرس کی ویکسین شاید ستمبر تک مارکیٹ میں کروڑوں کی تعداد میں آجائے ۔یہ مغربی دنیا کو وہ اعتماد دے گی، جس کے بعد معیشت کی بحالی پر عمل کوئی مشکل کام نہ ہوگا، لیکن فی الوقت امریکا اور یورپ یک جا ہوکر چین پر دبائو بڑھا رہے ہیں۔اُنہوں نے ووہان سے کورونا کی شروعات کے الزام کو چین کی ساکھ خراب کرنے، تجارتی اور سیاسی میدان میں نقصان پہنچانے کے لیے استعمال کیا۔اِسی لیے چین نے بھی جوابی طور پر جارحانہ رویّہ اپنایا ہوا ہے، تاہم وہ کسی بھی تصادم سے گریزاں ہے۔امریکا کی جانب سے اس پر تابڑ توڑ تجارتی حملے ہورہے ہیں، پابندیاں لگ رہی ہیں، حد تو یہ کہ سفارت خانے تک بند ہو رہے ہیں۔چین بھی ایسا ہی کر رہا ہے، لیکن تمام کھڑکیاں، دروازے آنے جانے کے لیے کُھلے ہیں۔چین، اصل فیصلہ امریکی الیکشن کے بعد کرے گا، جب کہ امریکا کا فیصلہ ویکسین کرے گی۔امریکی میڈیا حسبِ سابق جوبائیڈن کے مقابلے میں صدر ٹرمپ کی پوزیشن کم زور بتا رہا ہے، لیکن کورونا کی ویکسین صُورتِ حال کو یک سَر تبدیل کرسکتی ہے۔
یہ ذہن میں رہے کہ اِس وقت چین، روس اور یورپ میں قوم پرست لیڈرشپ عروج پر ہے۔شی جن پنگ اور پیوٹن تو اپنی تاحیات صدارت مضبوط کرچُکے ہیں۔برطانیہ میں بورس جانسن بھی ایسے ہی خیالات کے مالک ہیں۔ اُنہوں نے بریگزٹ پر آخری حد تک جانے کو ترجیح دی اور برطانوی عوام سے بھاری مینڈیٹ لیا۔حکم ران مجبور ہیں کہ وہ عوام کی صحت اور معیشت کو ہر مسئلے پر اوّلیت دیں۔اور یقیناً وقت کا بھی یہی تقاضا ہے کہ بیرونی مسائل کی بجائے پہلے گھر کو درست کر لیا جائے۔وگرنہ نظام ،یعنی جمہوریت کو زک پہنچنے کا خطرہ ہے، کیوں کہ اوّلین مہینوں میں چین کے سخت لاک ڈائون کا چرچا رہا، لیکن پھر امریکا اور یورپ نے اپنی ٹیکنالوجی کی مدد سے ویکسین اور دوا سے صُورتِ حال بدل ڈالی۔اِسی لیے ماہرین کا خیال ہے کہ اس مقام تک پہنچنے میں چین کو وقت لگے گا ۔اس کی ٹیکنالوجی امریکا کے برابر آتے آتے وقت لے گی۔امریکی الیکشن میں کسی بڑے معرکے کے آثار نظر نہیں آتے، تاہم ویکسین اورکورونا اہم ترین موضوعات رہیں گے۔
تُرکی، پاکستان کا بہترین ہی نہیں، بلکہ بہت قریبی دوست ہے، لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ ہے کہ وہاں طیب اردوان کی سیاست اب بدل چُکی ہے۔ وہ اقتدار میں رہنے کے لیے پارلیمانی سے صدارتی نظام کی طرف جاچُکے ہیں ۔مشکل یہ ہے کہ تُرکی کی معیشت کم زور ہوتی جارہی ہے۔اُردوان کے شروع کے دنوں کی تیزی اب معدوم ہوچُکی ہے۔ لیرا ایک جھٹکے میں 36 فی صد گر گیا۔نیز،کُردوں کی بغاوت بھی ایک مسلسل سَر درد ہے، جب کہ شام کا مسئلہ جُوں کا تُوں ہے ۔30 لاکھ سے زاید شامی مہاجرین، شامی سرحد سے اندرونِ شہر تک پھیل کر تُرک معیشت پر بوجھ بن چُکے ہیں۔کورونا کے بعد اب ان مہاجرین کے لیے اقوامِ متحدہ اور یورپ سے کسی بڑے امدادی پیکیج کی بھی اُمید نہیں۔اِسی لیے صدر اُردوان کو اندرونِ مُلک ایسے اقدامات کرنے پڑ رہے ہیں، جن سے اُن کی مقبولیت قائم رہے۔خود تُرکی میں یہ بحث عام ہے کہ آیا صوفیا مذہبی سے زیادہ شاید سیاسی فیصلہ ہے ۔یہ سوال بھی بار بار اُٹھ رہا ہے کہ کیا تُرکی مسلم لیڈرشپ کاخواہاں ہے؟
اِس سلسلے میں معاہدۂ لوسین کا خاص طور پر ذکر کیا جارہا ہے، جو اپنی ایک سو سالہ مدّت اگست 2023ء میں پوری کرے گا۔اسی کے تحت تُرک عثمانی سلطنت صوبوں اور مملکتوں میں تبدیل ہوئی، جن میں سعودی عرب،مِصر،شام ،عراق، اُردن، فلسطین اور دیگر چھوٹی عرب مملکتیں شامل ہیں۔تُرکی کو جمہوریہ بنانے کا فیصلہ خود’’ ینگ تُرک انقلاب ‘‘نے کیا اور کمال اتاتُرک اُس کے رہنما تھے۔دوم، اُس وقت تک تُرکی اور عرب دنیا کی دشمنی ایک طرف اوردوسری طرف ایران، تُرک مخالفت عرج پر تھی۔سب ایک دوسرے سے نفرت کی آگ میں جَل رہے تھے۔یہ سوال کہ اس میں اغیار کی سازشوں کا کتنا ہاتھ تھا اور نااہل تُرک سلطانوں کا کیا کردار رہا، ایک طویل تاریخی بحث ہے۔
بہرحال اِس ٹوٹ پھوٹ کا نتیجہ’’ قومی مسلم اسٹیٹس‘‘ کی شکل میں سامنے آیا، جسے اب ان ممالک کے عوام اور دنیا تسلیم کرچُکی ہے۔کیا ایک سو سال بعد کسی معاہدے کے ختم ہونے سے لوگ اپنا موجودہ قومی تشخّص بھولنے کو تیار ہوجائیں گے؟ایسا ممکن نہیں۔ گزشتہ سالوں میں ایران،سعودی عرب بالادستی کی خون ریز جنگ چلتی رہی ہے۔ صرف شام میں پانچ لاکھ مسلمان اس کی بھینٹ چڑھ چُکے ہیں ،جو شاید مسلم اُمّہ بھول چُکی ہے، حالاں کہ بحران تو اب بھی جاری ہے اور صدر اسد بھی وہیں ہیں۔یمن کا تنازع مسلسل خون بہا رہا ہے ۔ لبنان میں ایران اپنے اثر ورسوخ سے دست بردار ہونے کو تیار نہیں۔ایسے میں کسی لوسین معاہدے کے ختم ہونے سے کیا فرق پڑے گا؟خوابوں اور حقیقتوں کی دنیائیں اور ہیں ،جن کی بین الاقوامی سیاست میں بالکل جگہ نہیں کہ یہ مفادات اور ٹھوس معاشی حقیقتوں پر چلتی ہے۔
وزیرِ اعظم، عمران خان نے بنگلا دیش کی وزیرِ اعظم، حسینہ واجد سے پندرہ منٹ تک ٹیلی فون پر بات کی، جس میں اُنہوں نے بنگلا دیش میں طوفان سے ہونے والی تباہی پر افسوس کا اظہار کیا۔یہ عمران خان کے آنے کے بعد دونوں مُلکوں کے درمیان حکم ران سطح پر پہلی بات چیت تھی، جو دونوں مُلکوں اور جنوبی ایشیا کے لیے خوش آیند ہے۔بنگلا دیش بھی ہماری طرح چین کے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے میں شریک ہے اور چین وہاں خاصی سرمایہ کاری کررہا ہے ۔یقیناً شی جن پنگ کے فلیگ شپ منصوبے پر پاک، بنگلا دیش ایک ہی پیج پر ہیں، لیکن یہ منصوبہ دو طرفہ نہیں، بلکہ چین کا ملٹی لیٹرل پراجیکٹ ہے، جس میں ہر مُلک اس کا شریک ہے۔اس میں برما بھی شامل ہے، جہاں روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ بدترین ظلم اور نسل کُشی ہورہی ہے، جب کہ چین اقوامِ متحدہ میں برما حکومت کا ساتھ دے رہا ہے۔سری لنکا بھی منصوبے کا حصّہ ہے۔ البتہ بھارت بوجوہ اس سے الگ ہے۔ درحقیقت بھارت، چین سے اقتصادی مقابلہ کررہا ہے، اِس لیے وہ اس کے کسی ذیلی منصوبے کا حصّہ نہیں بننا چاہتا۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس ایک کال سے پاکستان، بنگلا دیش میں برف پگھل گئی؟ یاد رہے، سارک کانفرنس ملتوی کروانے میں ڈھاکا نے دہلی کا ساتھ دیا تھا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ بنگلا دیش بنانے میں بھارت کا سیاسی اور فوجی کردار فیصلہ کُن رہا ۔وہ شیخ مجیب کے ساتھ کھڑا رہا۔شیخ مجیب موجودہ وزیرِ اعظم، حسینہ واجد کے والد اور بنگلا دیش کے بانی تھے۔
جب شیخ مجیب کو فوجی انقلاب میں قتل کردیا گیا، تو اس کے ساتھ ہی ان کی ساری فیملی کو بھی ختم کردیا گیا،صرف حسینہ واجد بچیں، کیوں کہ وہ یورپ میں تھیں۔ اُنہوں نے اُس وقت کی بھارتی وزیرِ اعظم، اندرا گاندھی سے مدد اور پناہ کی درخواست کی، جس پر اُنھیں نہ صرف پناہ دی گئی، بلکہ اُن کے شوہر کو بھارتی ایٹمی ادارے میں اہم عہدے سے بھی نوازا گیا۔ اسلام آباد نے اُس وقت کیا پوزیشن لی؟ وہ تاریخ کا حصّہ ہے۔ہمیں یہ بھی غور کرنا چاہیے کہ سارک کو لائٹ لے کر ہم سے کیا غلطی ہوئی۔شاید اسی لیے ماہرین کہتے ہیں ڈپلومیسی میں جذبات کا دخل نہ ہونے کے برابر ہے۔کل کے فیصلے، آج کرنے پڑتے ہیں۔
کورونا نے افغان امن مذاکرات کو بہت سُست کردیا ہے، پھر بھی امریکا بڑی کام یابی سے اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ کو ایک پیج پر لا چُکا ہے، جب کہ پاکستان، طالبان کے معاملے میں اس کا اہم ترین سہولت کار ہے ۔قطر معاہدے کے بعد طالبان کے پاس اب وہ جواز بڑی حد تک ختم ہو چکا ہے، جس کے تحت وہ گزشتہ پندرہ سولہ برسوں سے غیر مُلکی فوجوں کے خلاف جارحانہ کارروائی کر رہے تھے۔نیز،غنی اور عبداللہ کے ملاپ نے اُن کے لیے وہ دراڑ بھی ختم کردی، جس کے ذریعے وہ موجودہ حکومت کو کم زور کرسکتے تھے۔ کورونا نے اس میں ایک اور عنصر شامل کردیا ۔وہ عام آبادی کے لیے صحت کی سہولتیں ہیں، جو طالبان کے پاس سرے سے موجود ہی نہیں، اِس لیے خود انہیں حکومتی طبّی سہولتوں پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے۔اِس وقت امریکا کوئی دبائو ڈالنا چاہیے گا اور نہ ہی طالبان کوئی بڑی جارحیت کی پوزیشن میں ہیں۔اِس لیے امریکا، طالبان اور افغان حکومت کو کسی نہ کسی سیاسی حل کی طرف بڑھنا ہی پڑے گا۔
کیا ایسے میں بین الاقوامی اور علاقائی حالات میں کوئی بڑی تبدیلی ممکن ہے؟شاید بیانات میں تو ہو، لیکن گرائونڈ پر بالکل نہیں۔وزیرِ اعظم مُلک کی بدترین معاشی صُورتِ حال سے خبردار کرتے رہے ہیں ۔وہ اپنی ہر تقریر میں بھوک، بے روز گاری اور گرتی معیشت سے عوام کو آگاہ کرتے ہیں۔موجودہ حکومت نے قرضوں کی اقساط موخر کروائیں اور مزید قرضے حاصل کیے، یہ قابلِ تحسین عمل ہے، لیکن اس کے باوجود حالات کی سختی نے قومی معیشت کو 2018ء میں5.8 کے شرح ترقّی سے گرا کر منفی 4پر پہنچا دیا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کرنٹ اکاونٹ خسارے میں غیرمعمولی کام یابی حاصل کی گئی، لیکن دوسرے معاشی عوامل کا دبائو بہت بڑ ی آزمائش ہے۔علاوہ ازیں، عوام کے لیے منہگائی اور بے روز گاری سب سے بڑی مصیبت بنی ہوئی ہے۔ ماہرِ معیشت، ڈاکٹر سلیم فرّخ کے مطابق’’اب اِس کم زور معیشت کو سنبھالنا، موجودہ حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے، جو دو سال سے زیادہ کا عرصہ پورا کرچُکی ہے۔
معیشت کی گاڑی کے کسی ایک اسکرو کو اُدھر ٹائیٹ کردیا یا کسی پُرزے کو اِدھر ڈھیلا کردیا۔‘‘ ماہرین کے مطابق قومی سمت کا تعیّن کیے بغیر مسائل حل نہیں ہو پائیں گے، جس پر قوم کو کم ازکم بیس سال کام کرنا ہوگا۔ دنیا بھر میں معیشتیں سِمٹ رہی ہیں۔لہٰذا، جب تک عالمی معیشت زور نہیں پکڑتی، اُس وقت تک کسی بڑی اقتصادی سرگرمی کے امکانات بہت کم ہیں۔اس لیے بہتر یہی ہے کہ چھوٹے منصوبوں پر کام کا آغاز کرکے معیشت کا پہیّہ چلایا جائے اور روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں ۔عالمی سیاست کے لیے بہت وقت پڑا ہے۔یہ طے ہے کہ’’ اِک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے۔‘‘