آپ آف لائن ہیں
اتوار9؍صفر المظفّر 1442ھ 27؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

آزاد مورخ چشمِ نم کے ساتھ مملکتِ خداداد کے زمینی حقائق کا مشاہدہ کررہا ہے جب بھی اسے موقع ملا وہ تاریخ رقم کرتے ہوئے برملا کہے گا کہ جبر کے ہاتھوں انصاف کا دن دیہاڑے قتل ہوا تو تین دفعہ منتخب ہونے والے وزیراعظم کو پابندِ سلاسل کرکے لاکھوں نہیں کروڑوں دلوں پر چھریاں چلائی گئیں۔ مطالبے پر جب زبانِ خلق کا ماجرا احاطہ تحریر میں آئیگا تو روزِ روشن کی مانند آشکار ہو جائے گا کہ کس طرح کس سے سب کچھ چھین کر بھی وہ کچھ بھی نہ چھین پائے۔ نئے حکم کے اجراء کے بعد بادِ خفیف اور متحرک اور سرکش لہروں کو اُبھرنے اور انتشار پھیلانے پر نہ صرف پابندی عائد کرکے انکی رفتار کی حد بندی کردی گئی بلکہ بادِ نسیم کے تحرک کو بھی ساکت کرنے کا نقارہ بجادیا گیا۔ سب آندھیوں کو دم بخود ہو کر اوقات میں رہنے کا الٹی میٹم بھی جاری کردیا گیا لیکن نیوٹن کے تیسرے قانون کے عین مطابق معاشرتی سپرنگ پر جتنا جبر کرکے دبائو بڑھایا گیا اس میں اسی قدر مخفی توانائی جمع ہونا شروع ہو گئی اور ہوتی چلی گئی۔ ریت کی فصیلوں پر کاغذ کے محل بنانے والے نہیں جانتے کہ یہ ایک آندھی کی مار ہوتے ہیں۔

لہریں کبھی بھی مسلسل دریا میں چپ چاپ بہہ نہیں سکتی ہیں۔ دنیا بھر کے گلستانوں کا حال دیکھ لیں، یہ یک رنگی نہیں ہو سکتے۔ انہوں نے مجوزہ گلستان میں بس ایک رنگ کے ہی پھول لگا کر نتیجہ دیکھ لیا ہے اور یہ کرنے والے کس قدر مضطرب ہیں۔ اپنے اسی اضطراب پر قابو پانے کیلئے وہ ہر روز نئے فیصلے کرنے پر مجبور ہیں۔ کوئی تو انکو بتائے کہ ہوائیں اور لہریں کسی کے تابع نہیں ہو سکتی ہیں۔ ہوائیں حاکموں کی مٹھیوں میں بند نہیں ہو سکتی ہیں، انہیں ہتھکڑی لگا کر قید خانوں میں نہیں رکھا جا سکتا ہے۔ لہریں زبردستی روکی جائیں تو دریا کتنا بھی پُرسکون ظاہر ہو، اندر سے سخت بے تاب ہوتا ہے جس کا اگلا نتیجہ طاقتور سیلابی ریلا ہوتا ہے جو سب کچھ بہا کر لے جاتا ہے۔ انہوں نے محبتوں کے دیپ کو بغاو ت کا راگ بنایا۔ ایک پھول کو آگ بنایا۔ وہ بندشوں کو کھلم کھلا چیلنج کیا کرتا تھا۔ سہولتوں کو چھوڑنے کا عزم اس میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ وہ لاتعداد بار خوابوں کو سچ کر دکھانے کی سعی کر ڈالتا تھا۔ آرزوئوں کو ہمجولی بنانا اس کا طرہ تھا چاہے انکی منزل کتنی ہی دور کیوں نہ ہوتی۔

کوئی بیٹی اپنے باپ کو سیاسی بھنور میں پھنسا کیسے دیکھ سکتی تھی۔ مریم نواز وہ بیٹی ہے جس نے اقامے کے نام پر قومی لیڈر میاں محمد نواز شریف کے خلاف کی گئی غیراخلاقی سازش کا پول کھولتے ہوئے ناقابلِ تردید وڈیو دنیا کے سامنے ر کھ دی۔ جونہی یہ وڈیو سامنے آئی تو عوام پر یہ عیاں ہو گیا کہ کسطرح انکے محبوب قائد اور تین بار منتخب وزیراعظم کو سزا دلوائی گئی۔ اپنے والد کی بےگناہی کا ثبوت دنیا کے سامنے لانا مریم نواز کا جرم ٹھہرایا گیا جس کے بعد اسکی زباں بندی مشن شروع ہوگیا جس پر کامیابی سے عمل درآمد جاری ہے۔ غیرمنتخب ارکانِ کابینہ غیرسیاسی شخص کی گھنٹوں بےسروپا تقرریں نشر کروائی جاتی رہیں، مریم نواز کی ریلیاں بلیک آئوٹ کروا دی گئیں۔ مریم وہ بیٹی ہے جس پر ہزار ظلم کئے گئے مگر مخالفین اس شخص کو نہ توڑ سکے۔ اسے والد کے سامنے گرفتار کیا گیا، ایک والد کے لئے بیٹی کی گرفتاری سے بڑا ظلم نہیں مگر نواز شریف نے وہ ظلم بھی برداشت کیا۔

اس کی رگوں میں نواز شریف کا خون ہے، جھوٹے کیسوں سے اسے ڈرایا نہیں جا سکتا۔ تم تھک جاؤ گے مگر اس کے حوصلے پست نہیں ہوں گے۔ تختِ اقتدار والو سن لو ایک ذات اوپر بھی بیٹھی ہے، وہ ضرور انصاف کرے گی اور مریم نواز سرخرو ہوں گی، بالکل اسی طرح جسطرح نواز شریف کے خلاف فیصلہ کرنے والا جج خود مان گیا کہ میں نے نواز شریف کے ساتھ ناانصافی کی، نواز شریف نے اپنا معاملہ اللہ پر چھوڑا اور اللہ نے اس دنیا میں ان کو سرخرو کر دیا۔ نیب کو غیرجانبدار دکھانے کیلئے وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کو بھی فضول نوٹس بھجوا دیا گیا ہے جس کا کچھ بھی نہیں بنے گا۔ اگر انہیں بلانا ہی تھا تو شراب کے لائسنس کے اجرا جیسا معمولی واقعہ وجہ نہ بناتے بلکہ چینی اور آٹا اسکینڈل میں بلاتے۔ عثمان بزدار کو نوٹس تو صرف توازن ظاہر کرنے کیلئے جاری کیا گیا۔ ان کا اصل ٹارگٹ تو مریم نواز کو بلانا تھا تاکہ انہیں کمزور کیا جا سکے۔ یہ ساری پولیٹکل مینجمنٹ ہے۔ ملکی صورتحال پر میں تو صرف یہی کہوں گی بقول شاعر:

جینا مشکل ہے کہ آسان ذرا دیکھ تو لو

لوگ لگتے ہیں پریشان ذرا دیکھ تو لو

ان چراغوں تلے ایسے اندھیرے کیوں ہیں

تم بھی رہ جائو گے حیران ذرا دیکھ تو لو

اٹھا کے ہاتھوں سے تم نے چھوڑا

چلو نادانستہ تم نے توڑا

اب الٹا نہ ہم سے تو نہ یہ پوچھو کہ

شیشہ یہ پاش پاش کیوں ہے

تم یہ کہتے ہو کہ میں غیرہوں پھر بھی شاید

نکل آئے کوئی پہچان ذرا دیکھ تو لو

کوئی اگر پوچھتا یہ ہم سے

بتاتے ہم گرتو کیا بتاتے

بھلا ہو سب کا یہ نہ پوچھا کہ

دل پہ ایسی خراش کیوں ہے

پھر مقررکوئی سرگرم سر منبر ہے

کس کے ہے قتل کا سامان ذرا دیکھ تو لو

یہ نیا شہر تو ہے خوب بسایا تم نے

کیوں پرانا ہوا ویران ذرا دیکھ تو لو؟

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)