آپ آف لائن ہیں
جمعہ7؍صفر المظفّر 1442ھ 25؍ستمبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

آزادی کی اہمیت اور اسلاف کی قربانیاں

تحریر:علامہ امدادُ الحسن نعمانی۔۔۔بریڈ فورڈ


پاکستان کی آزادی اللہ تعالی کی نعمتوں میں سے ایک ایسی نعمت عظمی ٰہے جس کے حصول کیلئے انسان کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرتا۔ اس ریاست کو حاصل کرنے کیلئے ہمارے آباء و اجداد نے شہادتیں دیں اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے ہمیں تو یہ مُلک وراثت میں مل گیا کوئی قربانی نہیں دینا پڑی یاد رہے پاکستان وہ وطن عزیز ہے جو اس کے بنانے والوں کو خیرات میں نہیں ملا بلکہ پاکستان کی بنیادیں کھڑی کرنے کےلئے ہندوستان کے مسلمانوں کی ہڈیاں اینٹوں کی جگہ ، گوشت گارے کی جگہ اور خون پانی کی جگہ استعمال ہواہے۔ پاکستان کی آزادی اور اس کو بنانے والوں نےاتنی گراں قدر اور بیش قیمت قربانیاں دی ہیں کہ انسان تصور بھی نہیں کر سکتا آزادی کا اندازہ صرف وہی لگا سکتا ہے جس نے تعمیر پاکستان میں اپنا تن من دھن، عورتیں بچے بوڑھے اور جوان سب کچھ قربان کیا ہو ۔ پاکستان کی آزادی کےلئے لاکھوں مسلمانوں نے جام شہادت نوش کیا۔ کتنی ماؤں کے سامنے ان کے بہن بھائی والدین خاندان اور بچے قتل کر دئیے گئے۔ کتنی پاکدامن ماؤں بہنوں بیٹیوں نے نہروں اور کنوؤں میں چھلانگیں لگا کر جانیں قُربان کیں اور پاکستان کی خاطر بھاری قیمت ادا کی ۔ لاکھوں بچے یتیم ہوئے جو ساری زندگی اپنے والدین کی شفقت کےلئے ترستے رہے۔14اگست 1947ءکی تاریخ کو آزادئ پاکستان سے موسوم کیا جاتا ہے مسلمان خوش تھے کہ علیحدہ مُلک مل گیا لیکن ہندو سامراج نے مسلمانوں کو ختم کرنے کا پلان بنایا ہوا تھا آزادی سے پہلے آزادی کی تحریک میں تو قتل و غارت سمجھ میں آتی ہے لیکن تقسیم کا معاہدہ انجام پا جانے کے بعد ہجرت کرنے والے نہتے بے یارو مدد گار لوگوں کو قتل کرنا یہ نہیں سُنا تھا یہ سب مسلمانوں کی نسل کشی کیلئے ایک سوچا سمجھا منصوبہ تھا جس میں لاکھوں کی تعداد میں مسلمانوں کو تہہ تیغ کیا گیا وہ آزادی کی خوشی خون کی ہولی میں تبدیل ہو گئی جس کو ہم آج تک بھول نہیں پائے بہر حال مسلمانوں کے اتفاق جدوجہد اور قائداعظم اور اُن کے مُخلص ساتھیوں کے خلوص کی وجہ سے یہ عظیم سلطنت معرض وجودمیں آئی، شاطر ہندوؤں اور انگریزوں نے طرح طرح کی مکاریوں سے پاکستان کی مخالفت کی اس میں سر سید احمد خان کی دور اندیشی ، علامہ محمد اقبال کی سوچ و افکار ، قائداعظم کی ولولہ انگیز جدوجہد اور قائدانہ صلاحیت اور دوسرے اکابرین کی ایثار و قربانیاں شامل ہیں یہ وطن عزیز ہمارے اسلاف اور بزرگوں نے بہت قربانیوں اور شہادتوں سے حاصل کیا ہے یہ جو ہم آج آزادی سے آزاد مُلک میں رہ رہے ہیں اس آزادی کی ہمارے اسلاف نے بہت بڑی قیمتی ادا کی ہے شائد ہی کسی قوم نے اپنی آزادی کیلئے اتنی بڑی قیمت اداکی ہو ، آزادی شخصی ہویا قومی اس کے لیے قربانی دینی پڑتی ہے جب تک کوئی قوم آزادی کے لیے قربانی کی اہمیت سے واقف نہیں وہ قوم آزادی حاصل نہیں کرسکتی ، ہم نے بھی آزادی کیلئے اتنی بڑی قیمت چکائی ہے کہ دنیا میں کہیں بھی اس کی مثال نہیں ملتی ۔ مسلمانوں نے برصغیر ہندوپاک پر ایک ہزار سال سے زیادہ عرصہ حکومت کی مگر وہ انگریزوں کی غلامی سے نہ بچ سکے انگریزوں سے آزادی حاصل کرنے کے لیے کبھی انہیں پلاسی کے میدانوں میں اپنے جوہر دکھانے پڑے اور کبھی سرنگا پٹم کے کارزار میں کبھی میرٹھہ چھاؤنی میں اور کبھی لاہور و دہلی کے لال قلعے میں۔۔ تاریخ ان غازیوں اور شہیدوں کے عظیم کارناموں پر فخر کرتی رہے گی ۔ ہندوؤں کی مسلمانوں سے نفرت ،حسد ،بغض، تعصب ،بے رخی اور نظریاتی تفریق نے مسلمانوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے کر دیا اور علیحدہ ریاست بنانے اور سوچنے پر مجبورکردیا ۔ آزادی کی اہمیت سے کوئی انکار نہیں کیا جاسکتا دنیا کے جن خطوں میں لوگ غلامی کی زنجیر وں میں جکڑے ہوئے ہیں انہیں ہی آزادی کی قدر و اہمیت کا بہتر اندازہ ہوگا جیسے فلسطین ،مقبوضہ کشمیر سمیت دنیا کے دیگر حصوں میں غلامی اور ریاستی جبر و بربریت کا شکار قومیں آزادی کے لئے سراپا احتجاج ہیں اور آزاد وطن کے لئے جانوں کے نذرانے پیش کررہے ہیں مقبوضہ کشمیر کے مسلمان بھارتی افواج اور حکومت کے ظُلم وستم کے باوجود آزادی کی تحریک کے لئے برسر پیکار ہیں آفرین ہے ان لوگوں کے جذبات ہمت اور حوصلہ پر اور اُن بہادر ماؤں سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے ایسے دلیر سپوتوں کو جنم دیا ہے اللہ تعالی ان مظلوموں کی مدد اور نصرت فرمائے یہ بات دنیا جانتی ہے کہ کشمیر یوں کی آزادی میں بھارتی ظلمُ وستم اور جبر و بربریت کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں ۔مملکت خداداد پاکستان کا شمار دنیا کے آزاد اور اسلامی فلاحی ریاست میں ہوتاہے پاکستان میں تمام عقائد اور مذاہب سے تعلق رکھنے والی قوموں کو جس قدر آزادی حاصل ہے اس کی مثال نہیں ملتی یہاں پر بسنے والے تمام مذاہب اپنے عقائد کے مطابق خوشی کی زندگی بسر کررہے ہیں کہیں پر ریاستی جبر یا آزادی چھینے کا تصور نہیں اس کے برعکس بھارت کی بات کی جائے تو وہاں ہر مذہب اور مکتبۂ فکر کے لوگ غلامی کی زنجیر میں جکڑے ہوئے ہیں جس کی واضح مثال بھارت میں چلنے والی علیحدگی کی سینکڑوں تحریکیں ہیں جو بھارت سے آزادی چاہتے ہیں دنیا میں آزاد قومیں ہی ترقی اور کامیابی کی طرف گامزن ہو سکتی ہیں اسی آزاد ی کی وجہ سے ہی پاکستان جدید ٹیکنالوجی اور ایٹمی قوت میزائل سسٹم سے لیس ہے پاکستانی فوج کا دنیا کی اعلیٰ ترین اور مہارت یافتہ جنگی فورسزمیں شمار ہوتاہے تو اس کا راز ہی آزادی ہے آزادی کی اہمیت اُن لوگوں سے پوچھیں جن کے بچے، ماں باپ رشتہ دار عزیزو اقارب دوست احباب کو بے دردی سے آنکھوں کے سامنے قتل کیا جارہا ہے خاص کر ہندوستان ، مقبوضہ کشمیر، فلسطین ، یمن ، شام ،روہنگیا میں لقمہ اجل بن رہے ہیں جو قومیں آزاد فضاؤں میں سانس لینے کی عادی ہیں ان کی سوچ کبھی غلامانہ نہیں ہوتی ،ہمارے آباء واجداد نے ہندوستان میں اُس وقت متعصب ہندوؤں کی غلامانہ پالیسوں اور دوہرے معیار سے تنگ آکر پاکستان بنانے کا عہد کیا تھا اور قائد اعظم محمد علی جناح کی قیادت میں برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں نے تحریک آزادئ پاکستان کی بنیاد رکھی اور دو قومی نظریے کی بنیاد پر مسلمانوں میں مذہبی ،سیاسی ،معاشی ،سماجی ،تعلیمی اور دیگر میدانوں میں شعور اجاگر کرکے آزادی کی تحریک کو کامیاب بنایا جس کی بدولت آج ہم ایک آزاد اور خودمختار اسلامی ریاست میں آزاد قوم کی حیثیت سے زندگی گزار رہے ہیں جو کہ ہمارے بزرگوں اور آباء و اجدا د کی لازوال قربانیوں اور جدوجہد کا نتیجہ ہے آج پاکستان دنیا کے نقشے پر ایٹمی پاور ہے تو یہ سب ہمارے بزرگوں کی قربانیوں اور کوششوں کا ثمر ہے تحریک آزادی میں شاعر مشرق علامہ اقبال نے آزادی کا جو خواب دیکھا تھا قائد اعظم محمد علی جناح نےاُس کو عملی جامہ پہنایا ، قیام پاکستان کے دوران ہمارے بزرگوں،جوانوں ،ماؤں ،بہنوں بیٹیوں نے جو قربانیاں دی ہیں انہی کی بدولت آج پاکستان دنیا کے نقشے پر ایک آزاد مملکت کی حیثیت سے اُبھر رہا ہے جن ناگفتہ بہ اور نامساعد حالات میں ہندوستان سے مسلمانوں نے قائد اعظم محمد علی جناح کی قیادت میں پاکستان ہجرت کی وہ انتہائی تکلیف دہ مراحل اور دلخراش مناظر تھے اُن کو الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں جہاں کلہاڑیوں برچھیو ں اور تلواروں سے ذبح کیا گیا ہو ،ماؤں، بہنوں ،بیٹیوں کی عزتوں اور عصمتوں کو برباد کیا گیا ہو ،گھر بار،خاندان ،اپنی جمع پونجی اور مال و اسباب چھوڑ کر مسلمانوں نے ہجرت کی تو سفاک ہندواور سکھ مسلمانوں کے راستے میں رکاوٹ بن گئے اور مسلمانوں پر طرح طرح کے ظلم کے پہاڑ گرائے گئے ہزاروں خاندان اُجڑ گئے گھر بار لٹ گیا مگر مسلمان اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹے خون کی ندیاں بہا ئی گئی ہندو ؤں سکھوں اور انگریزوں نے پلان کے تحت مسلمانوں پر قتل و غارت گری کی اور درندگی کا مظاہرہ کیا لیکن پھر بھی مسلمان قوت ایمانی کی وجہ سے ثابت قدم رہے ،ہمارے ُان بزرگوں ،شہیدوں اور غازیوں نے اپنے خون سے پاکستان کی تحریک کو سیراب کیا ہے اُن کی قربانیوں کی وجہ سے ہی آخر کار 14 اگست 1947کو دنیا کے نقشے پر پاکستان کا قیام معرض وجود میں آیا ہم اپنے بزرگوں اور قیام پاکستان کے شہیدوں کو سلام محبت و عقیدت پیش کرتے ہیں کی جن کی عظیم قربانیوں اور جدوجہد کی بدولت آج ہم آزادوطن میں زندگی بسر کررہے ہیں اور ہمیں اپنے شہیدوں غازیوں اور بزرگوں کی قربانیوں کے احسان مند ہیں ،جو قومیں اپنے شہدا ء اور مشاہیر کو یاد رکھتی ہیں وہ ہمیشہ تاریخ میں زندہ و جاوید رہتی ہیں اگر ہم اپنے بزرگوں اور شہدا ء کو بھول جائیں تو ہماری آنے والی نسلیں اور تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرےگی اسی لئےپاکستانی قوم بھی 73 بر س بیت جانے کے باوجود اپنے محسنوں کو یاد کرتی ہے اور کراچی کے ساحل سے لے کر سیاچن کے دامن تک پورا ملک جشن آزادی منانے میں مصروف ہے اور اپنے محسنین کیلئے دعا گو بھی ہے ۔

یورپ سے سے مزید