آئی ٹی کی فیلڈ میں تہلکہ مچا دینے والی دنیا کی کم عمر ترین مائیکرو سافٹ سرٹیفائیڈ پروفیشنل ارفع کریم رندھاوا دنیا سے رخصت ہو جانے کے بعد بھی قوم کے دلوں میں زندہ ہیں۔
گزشتہ روز ارفع کریم رندھاوا کی 31 ویں سالگرہ تھی اور اس موقع پر ان کے والد امجد کریم رندھاوا اپنی بیٹی کو یاد کر کے جذباتی ہو گئے۔
اُنہوں نے سوشل میڈیا ویب سائٹ فیس بک پر اپنی پوسٹ میں بیٹی کی زندگی کے یادگار لمحات کی کچھ تصاویر شیئر کیں۔
ارفع کریم کے والد نے بیٹی کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے کیپشن میں لکھا کہ میری پیاری ارفع، آج تم31 برس کی ہوتیں، یہ جملہ لکھتے ہوئے ہاتھ نہیں کانپتا بلکہ دل کانپ جاتا ہے کیونکہ باپ کے لیے برس گننا آسان ہوتا ہے، خالی پن گننا نہیں۔
اُنہوں نے لکھا کہ تمہاری جدائی کے بعد زندگی سیدھی لکیر نہیں رہی بلکہ ہر دن ایک نیا سوال تھا، کبھی خود سے، کبھی تقدیر سے اور اکثر خاموش آسمان سے، بہت کچھ سہنا پڑا، وہ دکھ بھی جو لفظوں میں نہیں سموتے، وہ فیصلے بھی جو تنہائی میں کرنے پڑے اور وہ ذمے داریاں بھی جو آنسو پونچھ کر اٹھانی پڑیں۔
ارفع کریم کے والد نے لکھا کہ مگر میں نے ہارنا نہیں سیکھا، تم ہمارے لیے آزمائش نہیں تھیں بلکہ اس بات کی طرف اشارہ تھیں کہ علم عبادت ہے، سادگی طاقت ہے اور خلوص سب سے بڑی ذہانت ہے۔
اُنہوں نے لکھا کہ تمہاری کمی نے ہمیں توڑا ضرور مگر بکھرنے نہیں دیا اور اسی درد کی وجہ سے ارفع کریم فاؤنڈیشن نے جنم لیا اور یہ کوئی ادارہ نہیں بلکہ ایک عہد ہے کہ جو چراغ تم نے جلایا تھا وہ بجھنے نہیں دیا جائے گا، ان شاء اللّٰہ۔
ارفع کریم کے والد نے لکھا ہے کہ اگرچہ زندگی نے بہت امتحان لیے مگر میرا پندار سلامت ہے، اس لیے نہیں کہ میں مضبوط ہوں بلکہ اس لیے کہ تم سچی تھیں۔
اُنہوں نے قرآن پاک کی سورۃ الرعد کی آیت نمبر 17 کا حوالہ دیا ہے جس کا ترجمہ ہے کہ ’اور جو چیز لوگوں کے لیے نفع بخش ہوتی ہے، وہی زمین پر باقی رہتی ہے‘۔
ارفع کریم کے والد نے بیٹی کے لیے دعا کرتے ہوئے لکھا کہ سکون سے رہو، میری بچی! تمہارا نام اب ایک ذمے داری ہے، تمہاری زندگی ایک سمت ہے اور تمہاری یاد ایک امانت ہے جسے ہم ثابت قدمی سے نبھا رہے ہیں۔
اُنہوں نے مزید لکھا کہ اے اللّٰہ! میری ارفع کو اپنی رحمت کے اُس حصے میں جگہ دے جہاں نہ وقت کی گرفت ہو، نہ حساب کی سختی، اُس کے مختصر مگر بامعنی سفر کو قبول فرما اور اُس کے نام سے جڑی ہر نیکی کو اُس کے لیے صدقۂ جاریہ بنا دے۔
ارفع کریم کے والد نے پوسٹ کے آخر میں لکھا ہے کہ اے ربِ کریم! مجھے یہ حوصلہ عطا فرما کہ میں دکھ میں بھی شکوہ نہ کروں، امتحان میں بھی کمزور نہ پڑوں اور اُس امانت کا حق ادا کرتا رہوں جو تو نے مجھے ایک باپ ہونے کی صورت میں سونپی، آمین۔