جنسی جرائم اور انسانی اسمگلنگ میں ملوث جیفری ایپسٹین کی ای میلز کے منظرِ عام پر آنے کے بعد دنیا بھر کے سیاسی اور سماجی حلقوں میں ہلچل مچ گئی ہے۔
جیفری ایپسٹین کی منظرِ عام پر آنے والی ای میلز میں سے ایک پاکستان کے قومی لباس شلوار قمیض کے بارے میں بھی ہے۔
جنسی جرائم میں ملوث مجرم کی حال ہی میں سامنے آنے والی ای میل سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ اس نے 2017ء میں آن لائن پاکستان سے 5 جوڑے آرڈر کیے تھے۔
جیفری ایپسٹین نے شلوار قمیض خریدنے کے لیے زبیر خان نامی ایک سپلائر کو آرڈر دیا تھا۔
جنسی جرائم میں ملوث مجرم نے اپنی ایک ای میل میں شلوار قمیض کی تعریف کی اور پوچھا کہ اس پینٹ کا نام کیا ہے؟ اس سوال پر اسے بتایا گیا کہ اس طرح کی پینٹ کو شلوار کہتے ہیں اور شرٹ کو کُرتا کہتے ہیں۔
جیفری ایپسٹین کو لباس کے بارے میں یہ بھی بتایا کہ اس لباس کو بھارت کی تقریبات میں بھی پہنا جا سکتا ہے۔
یہ جاننے کے بعد جنسی جرائم میں ملوث مجرم نے کہا کہ مجھے یہ پسند ہے اور میں ایسے 5 ملبوسات خریدنا چاہتا ہوں۔
یاد رہے کہ امریکی کروڑ پتی شخصیت جیفری ایپسٹین کا دنیا بھر کی مشہور اور سیاسی شخصیات سے تعلقات تھے، 2005ء میں جب فلوریڈا میں ایک کیس کے دوران اس پر ایک 14 سالہ لڑکی کو جنسی تعلقات کے لیے پیسے دینے کا الزام عائد ہوا تو اسے شاملِ تفتیش کیا گیا۔
بعد ازاں، 2006ء میں اسے جنسی زیادتی کے الزام میں گرفتار بھی کرلیا گیا اور گرفتاری کے بعد اس پر کئی نوعمر لڑکیوں کے ساتھ جنسی زیادتیوں کے الزامات لگائے گئے۔
جیفری ایپسٹین نے 2008ء میں ایک لڑکی کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے کا جرم خود قبول کیا جس کے نتیجے میں اسے 13 مہینے کی سزا سنائی گئی۔
اس پر جنسی زیادتی کے علاوہ انسانی اسمگلنگ کا الزام بھی لگایا گیا تھا لیکن کیس کی سماعت کا آغاز ہونے سے پہلے ہی اس نے 2019ء میں قید کے دوران جیل میں خود کشی کر لی تھی۔