رکنِ اسمبلی عالیہ کامران نے بلوچستان کے مسئلے کو بات چیت سے حل کرنے کا مشورہ دے دیا۔
قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بتایا گیا کہ 177 دہشت گرد مارے گئے، یہ بھی بتایا جائے کہ کیا 12 یا 14 اضلاع ان کے کنٹرول میں ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ خدا کے لیے بلوچستان کے بچوں کو بچائیں، بات چیت سے مسائل حل کیجیے۔
رکنِ اسمبلی ایم کیو ایم صوفیہ سعید نے ایوان میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں ہونے والے تمام حملوں کی مذمت کرتی ہوں، سوال کیا گیا کہ ہمارے ادارے دیر سے کیوں پہنچتے ہیں؟ کیا یہ دیکھ بھال ہماری ذمے داری نہیں، اس کے لیے مؤثر بلدیاتی اداروں کی ضرورت ہے۔