آپ آف لائن ہیں
جمعرات13؍ صفر المظفّر 1442ھ یکم اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

کراچی میں درخت لگانے، نالوں سے قبضہ ختم کرانے کا حکم

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری نے کراچی میں تجاوزات سے متعلق مقدمے کی سماعت کے دوران نالوں سے قبضہ ختم کرانے اور شہر میں درخت لگانے کا حکم دے دیا۔

کراچی میں تجاوزات سے متعلق سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں مقدمے کی سماعت ہوئی جس کے دوران چیف جسٹس پاکستان گلزار احمد نے سوال کیا کہ اردو بازار میں نالے پر تجاوزات کا کیا ہوا؟ اردو بازار میں نالے پر دکانیں بنی ہوئی ہیں وہ کیوں نہیں گراتے؟

کمشنر کراچی افتخار شالوانی نے جواب دیا کہ اردو بازار میں نالے پر سے تجاوزات ہٹا دی گئی ہیں، کارروائی کر رہے ہیں، تھوڑی تجاوزات رہ گئی ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ باتھ آئی لینڈ میں نالے پر گھر بن گیا ہے، بنگلے کے ساتھ لان وغیرہ بن گیا ہے، گلاس ٹاور کے ساتھ نالے پر بھی قبضہ ہے۔

سپریم کورٹ نے انہیں حکم دیا کہ باتھ آئی لینڈ کے نالے پر ہوئے قبضے کو ختم کرائیں، باتھ آئی لینڈ سے آگے جائیں تو وہاں ایک کالج نے نالے پر قبضہ کر لیا ہے۔

یہ بھی پڑھیئے: سندھ حکومت مکمل ناکام ہو چکی، چیف جسٹس پاکستان

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ سارے درخت کاٹ دیئے، شہر میں درخت ہی نہیں ہیں، خالد بن ولید روڈ پر تو بڑا ظلم ہوا ہے، وہاں کوئی درخت ہی نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ کلفٹن برج کے ساتھ درخت کاٹ دیئے، پتہ نہیں درختوں سے کیا خطرہ ہے، درخت ختم کر دیں گے تو لوگ کیسے رہیں گے؟

چیف جسٹس پاکستان گلزار احمد نے حکم دیا کہ کراچی میں درخت بھی لگائیں، خالد بن ولید روڈ، کلفٹن روڈ پر سارے درخت کاٹ دیئے گئے ہیں، امریکی ایمبیسی کو اس سے نہ جانے کس بات کا خطرہ تھا۔

قومی خبریں سے مزید