آپ آف لائن ہیں
جمعرات13؍ صفر المظفّر 1442ھ یکم اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

پاکستان کی سب سے بڑی کامیابی ایٹمی قوت بننا تھا، شہبازشریف

پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف  کا بیان


پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کا 14 اگست کے موقع پر کہنا ہے کہ ایٹمی قوت بننے کے سفر میں تمام پاکستانیوں کی قربانیاں شامل ہیں، پاکستان کی سب سے بڑی کامیابی ایٹمی قوت بننا تھا۔

میاں محمد شہبازشریف نے اپنے بیان میں تمام پاکستان کو یوم آزادی کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایٹمی طاقت ہونے کی وجہ سے آج کوئی پاکستان کو میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا، آج پاکستان ایٹمی طاقت ہے تو بدقسمتی سے دوسرے ہاتھ میں کشکول ہے، میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ کشکول اور ایٹمی طاقت اکٹھا نہیں چل سکتے، ہم نےاس لیےپاکستان نہیں بنایاکہ ہم کشکول اٹھائیں۔

شہبازشریف نے کہا ہے کہ وقت کی اہم ضرورت ہے کہ کشکول کو توڑ دیا جائے ، کمبل کی طرح یہ کشکول ہماری معیشت پر لیپٹا ہوا ہے ، کسی نے ہم پر یہ کشکول مسلط نہیں کیا یہ ہماری نااہلی ہے ، ہم اس کشکول کو توڑ سکتے ہیں شرط صرف یہ ہے کہ ہم خود کو اہل بنائیں ، وہ قومیں آزاد نہیں ہوتیں جو معاشی طور پر آزاد نہ ہوں ۔

انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ حکومت نااہل ہے ، آج 14 اگست ہے کوئی ایسی بات نہیں کرنا چاہتا، بی آرٹی کاکل پشاورمیں افتتاح کیا گیا، میں اس بحث میں نہیں پڑتاکہ وہ مکمل ہے یا نہیں، میں آج ایسی بات کرکے کسی کو تکلیف نہیں پہنچانا چاہتا

شہباز شریف نے کہا کہ آئی ایم ایف کے بجٹ میں آج حکومت ملازمین کی تنخواہ میں اضافہ تک نہ کرسکی، کورونا وبا میں مہنگائی زمین پر آنی چاہیے تھی آج آسمان سے باتیں کررہی ہے ، چینی کی قیمت بلند ترین سطح پر چلی گئی ہے ، مہنگائی نے لوگوں کی جیبیں خالی کرلی ہیں ۔

شہبازشریف نے کہا ہے کہ لوگ دوائی اور علاج کے بغیر سسک سسک کر جان دے رہے ہیں، نوازشریف کے دور میں کس طرح اسپتالوں میں ادویات مفت ملتی تھیں، نوازشریف کے دور میں اسپتالوں میں سی ٹی اسکین مفت تھا، آج اسپتالوں میں مفت دوائی اور سی ٹی اسکین ختم کردیے گئے ، ہیپاٹائٹس کے مریضوں کے لیے اسپتال بنائے گئے مفت ادوایات دی جاتی تھیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ 2013 تک بیس بیس گھنٹے لوڈشیڈنگ ہوتی تھی ، 2018 سے پہلے ہی لوڈشیڈنگ ختم کردی گئی تھی ،

آج اتنی بجلی موجود ہے کہ ہرکاروبار چل سکے ، آج اگر بجلی بند ہورہی ہے تو حکومت کی نااہلی ہے ، ہم نے کبھی یہ نہیں کہا تھا کہ بس اوپر سے نہیں نیچھے سے جانی چاہیے تھی ، میٹرو بناکر پوری دنیا کو حیران کردیا تھا۔

شہبازشریف نے کہا کہ ہم نے 72 سال میں جو کیا پاکستان کے لیے قربانی دینے والوں کی روح تڑپ رہی ہوگی، پاکستان کے لیے خون دینے والوں نے فلاحی ریاست کے لیے قربانی دی تھی، اس لیے قربانی نہیں دی تھی کہ ملک میں نیب نیازی گٹھ جوڑ ہوگا، دو سال ہوگئے یہ ہمارے خلاف ایک دھیلے کی کرپشن ثابت نہیں کرسکے، میرے خلاف ایک دھیلے کی کرپشن کے ثبوت ہیں تو استعفا دے کر گھر چلا جاؤں گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ن لیگ کا وہ کونسا منصوبہ ہے جس میں کرپشن ہوئی ہو، احتساب کے نام پر انتقام کی لہر ملک کے لیے خطرناک ہے ، اتنقام کی سیاست کو ختم کرکے مل کر ملک کو آگے لے کرجانا ہوگا۔

اُن کا کشمیر سے متعلق بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ کشمیر میں ظلم کا بازار گرم ہے ہر روز کشمیریوں کو شہید کیا جارہاہے ، مقبوضہ کشمیرمیں دن رات نہتےکشمیریوں کوقتل کیاجارہاہے۔

انہوں نے کہا کہ سرکاری منصوبےمیں ہماری کوئی بھی کرپشن ثابت نہیں کرسکے، اگریہ کرپشن ثابت کردیں تواستعفا دے کر گھر چلاجاؤں گا، احتساب کےنام پر انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، آج بیورو کریسی نے کام کرنا چھوڑ دیا ہے، اگر پاکستان کو کامیاب کرنا ہے تو جھوٹے الزامات کی سیاست کو دفن کرنا ہوگا۔

شہبازشریف نے کہا کہ شفاف احتساب کا عمل لانا ہوگا، سیاسی اداروں کو بھی مضبوط کرناہوگا، 73سال گزر گئے، آج بنگلہ دیش، سری لنکا، افغانستان کہاں پر ہیں اور ہم کہاں پر ہیں۔

قومی خبریں سے مزید