آپ آف لائن ہیں
منگل11؍صفر المظفّر 1442ھ 29؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان امن معاہدے کا عمل میں آنا مشرق وسطیٰ ہی نہیں پوری عالمی صورت حال کے تناظر میں بلاشبہ غیرمعمولی اہمیت کا حامل واقعہ ہے۔ مشترکہ اعلامیے کے مطابق دونوں ممالک اگلے ہفتے سفارت خانوں کے قیام،سرمایہ کاری، سیاحت،براہ راست پروازوں ،سیکوریٹی، ٹیکنالوجی، توانائی، ثقافت اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے متعلق معاہدے کریں گے ۔اس پیش رفت میں صدرٹرمپ نے کلیدی کردار ادا کیا جس کی صراحت مشترکہ اعلامیے میں یوں کی گئی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ، اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو اور ابوظہبی کے ولی عہد اور متحدہ عرب امارات کے ڈپٹی سپریم کمانڈر شیخ محمد بن زید نے گزشتہ روز گفتگو کی جس میں متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان مکمل تعلقات کے قیام پر اتفاق کیا گیا ۔ اعلامیے میں مشرق وسطیٰ کے لیے اسٹرٹیجک ایجنڈا لانے کا بھی ذکر ہے اور صدر ٹرمپ نے یہ نویدبھی سنائی ہے کہ خطے میں اسرائیل اوردیگر مسلم عرب ملکوں کے مابین مزید سفارتی کامیابیاں متوقع ہیں جبکہ اماراتی سفارت خانے نے فلسطینیوں کو یہ تسلی بھی دی ہے کہ یواے ای ہمیشہ ان کا مضبوط حمایتی رہے گا۔ ابوظہبی کے رہنما شیخ زید النہیان کی جانب سے یہ دعویٰ بھی سامنے آیا ہے کہ فلسطینی علاقوں کا مزید انضمام روکنے کے لیے اسرائیل سے

معاہدہ طے پاگیا ہے لیکن اسرائیلی وزیر اعظم نے کسی لحاظ اورمروت کے بغیر فوری طور پر اس کی تردید کرتے ہوئے کہہ دیا ہے کہ اسرائیل زمین کے حقوق سے کبھی دستبردار نہیں ہوگا جس سے اس گمان کو تقویت ملتی ہے کہ جس طرح مصر اور اردن سے اسرائیل کے امن معاہدے فلسطینیوں کے حقوق کے حوالے سے کسی مثبت پیش رفت کا ذریعہ نہیں بن سکے اسی طرح امارات اور اسرائیل کا سمجھوتہ بھی فلسطینیوں کے ساتھ ہونے والے ظلم اور ناانصافی کے ازالے میں نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوگا۔ بظاہر یہی وجہ ہے کہ فلسطین کے صدر محمود عباس نے اسرائیل امارات معاہدہ مسترد کرتے ہوئے اسے فلسطینی عوام کے خلاف’’ جارحیت‘‘ اور ان کے مقصد سے ’’غداری‘‘ قرار دیا ہے اور عرب لیگ کا اجلاس بلاکر اس میں اس معاہدے اور اس سے رونما ہونے والی صورت حال پر غور کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ جہاں تک اصل معاملے کا تعلق ہے تو یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ فلسطینیوں کی سرزمین پر اسرائیل کا قیام سرے سے کوئی قانونی اور اخلاقی جواز نہیں رکھتا۔ حتیٰ کہ اسرائیل کے بانی بھی اس کا ناجائز ہونا تسلیم کرتے ہیں۔ اسرائیل کے پہلے وزیر اعظم ڈیوڈ بن گوریان عالمی یہودی کانگریس کے صدر ناہم گولڈ مین کولکھے گئے اپنے تاریخی اہمیت کے حامل خط میں اس سچائی کا برملا اعتراف کرتے ہوئے کہتے ہیں ’’اگر میں کوئی عرب لیڈر ہوتا تو اسرائیل سے کبھی سمجھوتہ نہ کرتا۔یہ ایک فطری بات ہے ۔ ہم نے اُن سے اُن کا ملک چھینا ہے۔ اگرچہ یہ درست ہے کہ ہمارا تعلق اسرائیل سے ہے لیکن یہ دوہزار سال پہلے کی بات ہے۔ فلسطینیوں کا بھلا اس سے کیا واسطہ۔ ہاں دنیا میں یہودی مخالف تحریک، نازی، ہٹلر ، آش وِٹز سب رہے ہیں، مگر کیا اس کے ذمہ دار فلسطینی ہیں؟وہ صرف ایک چیز دیکھتے ہیں: ہم یہاں آئے اور ہم نے ان کا ملک چرا لیا۔آخر وہ اس چیز کو کیوں قبول کریں؟‘۔ امریکی محققین پروفیسر جان میئر شیمر اور پروفیسر اسٹیفن والٹ نے اپنی کتاب ’’دی اسرائیل لابی اینڈ یوایس فارن پالیسی‘‘ میں یہ خط نقل کیا ہے۔امن بلاشبہ انسانیت کی ضرورت ہے لیکن حقیقی امن کے لیے انصاف لازم ہے اس کے بغیر قائم ہونے والا امن جس کی لاٹھی اس کی بھینس کے مترادف اور ظلم کے تسلسل ہی کا دوسرا نام ہوتا ہے۔ پاکستانی حکومت اور عوام پہلے دن سے مظلوم فلسطینی عوام کے ساتھ ہیں، ان کی مرضی کے خلاف کوئی فیصلہ نہ ماضی میں اُن کے لیے قابل قبول تھا نہ آئندہ ہوگا۔