• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان میں یہ وفاقی اور صوبائی میزانیوں کا موسم ہے۔ دہائیاں پہلے عوام وفاقی اور صوبائی وزرائے خزانہ کی تقاریر سننے کے لیے تمام کاموں سے خود کو فارغ کرکے ریڈیو اور ٹی وی کے گرد جمع ہوجاتے تھے۔بہت سے مقامات پر یہ تقاریر سننے کے لیے خاص اہتمام بھی کیا جاتا اور گلی ،محلّوں میں جمع ہوکر پیش کیے جانے والے اعداد وشمار بہت توجہ سے سنتے تھے۔ لیکن جوں جوں یہ میزانیے عوام کی روزمرہ زندگی میں کسی تبدیلی کا سبب بننے سے قاصر ہوتےگئے اور رحمت کے بجائے زحمت ثابت ہونے لگے تو عوام نے ان پر توجہ دینا کم کردی۔ رہی سہی کسر مِنی بجٹ کی نئی روایت نے پوری کردی۔اب عوام بس یہ دیکھتے ہیں کہ کون سی شئے ،مصنوع یا خدمات کتنی مہنگی ہوئیں اور کون سے نئے محاصل لگے۔

دوسری جانب ہر حکومت میزانیے میں عوام کو سہولت فراہم کرنے کے دعوے کرتی نظر آتی ہے اور ہر دور کی حزبِ اختلاف میزانیے کو عوام دشمن ثابت کرنے پر تُلی دکھائی دیتی ہے۔ اس سارے کھیل کی سب سے دل چسپ بات یہ ہے کہ اس میں اعدادوشمار کا ایسا گورکھ دھندا ہوتا ہےکہ عام آدمی کا سرچکرانے لگتا ہے۔ وفاقی اور صوبائی میزانیوں میں عوام کو یہ کہہ کر خوش کردیا جاتا ہے کہ ان پر کوئی نیا محصول عاید نہیں کیا گیا ہے، لیکن جب ان کی گردن ہاتھ گھما کر پکڑی جاتی ہے توان کے چودہ طبق روشن ہوجاتے ہیں ۔

حکومت کہتی ہے کہ نئے عاید کردہ محاصل سے عوام پر بوجھ نہیں پڑے گا، لیکن پاکستان کے نظامِ معیشت سے زرا سی بھی واقفیت رکھنے والا فرد بہ خوبی یہ جانتا ہے کہ ہمارا،سیٹھ،ساہوکار،بینکار،تاجر،وڈیرہ، دکان دار یا مل کا مالک کسی بھی نئے محصول کا بوجھ خود نہیں اٹھاتا بلکہ اس میں کچھ اضافہ کرکے اسے عوام کے کاندھوں پر ڈال دیتا ہے۔ اس طرح اس ملک میں ہر طرح کے بہ راہ راست یا بالواسطہ محصول کا بوجھ دراصل عوام ہی اٹھاتے ہیں۔

عام آدمی کی پتلی گردن مروڑ کر اس سے ہر قسم کا ٹیکس وصول کرلیا جاتا ہے پھر بھی کہا جاتا ہے کہ لوگ ٹیکس کم دیتے ہیں۔ ہاں جاگیردار وں کی زرعی آمدن پر ٹیکس لگانے کی ہمت کسی حکومت نے نہیں کی کیوں کہ ان میں سے بیش تر پارلیمان میں حکومت کے ساتھ بیٹھتے ہیں ۔ جان لیجیے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکس بالواسطہ یا ان ڈائریکٹ نظام سے حاصل ہو رہا ہے اور وہ تقریباً ہر پاکستانی ادا کر رہا ہے۔

حال ہی میں پیش کردہ وفاقی میزانیے کے مطابق رواں مالی سال میں کسانوں کو اکتّیس سو ارب روپے آمدن ہوئی جو گزشتہ سال تیئس سو ارب روپے تھی۔ گندم، گنے اورچاول کی پیداوار میں اضافہ ہواہے۔لیکن درحقیقت یہ اکتّیس یا تیئس سو ارب روپے کسانوں کی آمدن نہیں بلکہ جاگیرداروں کی جیب میں جانے والی رقم ہےجس پر وہ محصول ادانہیں کرتے۔

حکومت کا یہ بھی کہنا ہے کہ تن خواہ دار طبقے پر کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا جائے گا اور طاقت ور گروہوں کو ملنے والی ٹیکس چھوٹ کا خاتمہ کیا جائے گا۔ مگر وہ چھوٹ کیسی کیسی ہیں اور ان کا خاتمہ کیسے ہوگا ؟

عوام کو یہ نہیں بتایا گیا ہے۔ جس قوم کے کروڑوں غریبوں کے پاس چائے سے روٹی کھانے کو پیسے نہیں ہیں اسے یہ بتایا گیا ہے کہ پھلوں کے رس پر عاید فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی ختم کی جا رہی ہے۔ غریب کے گھر کا ماہانہ کرایہ بڑھ گیا ہے ،لیکن جاگیر داروں کے لیے یہ سہولت فراہم کی گئی ہے کہ زرعی اجناس کے گوداموں کو ٹیکس چھوٹ دینے کی تجویز ہے۔

کورونا اور لاک ڈاون کی وجہ سے بہت سے روزگار تباہ ہوگئےاور بہت سے افراد نے آن لائن چھوٹا موٹا کاروبار شروع کیا تو پتا چلا کہ ای کامرس کو سیلز ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے کی تجویز ہے ۔ اس ضمن میں یہ نہیں بتایا گیا ہے کہ نیا محصول صرف بڑے کاروبارپر لاگو ہوگا یا چھوٹا موٹا کاروبار کرنے والے کی گردن بھی ناپی جائے گی۔

وفاقی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ اعلیٰ تعلیم کے لیے 66ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے۔ اس تجویز سے پتا چلتا ہے کہ ہم اپنے ساتھ کتنے مخلص ہیں۔ وزیرِ موصوف کا کہنا تھا کہ امیروں سے کہا جائے گا کہ اپنے حصے کا واجب الادا ٹیکس ادا کریں۔ یعنی جنہوں نے قانون کی نہ سنی انہیں محض درخواست کرکے راضی کرلیا جائے گا۔ البتہ ان کی جگہ اگر غریب ہوتا تو اس سے درخواست کرنے کے بجائے قانون کی طاقت استعمال کرنے کی دھمکی دی جاتی۔

ٹیکس فری ٹوئسٹ

حکومت نے اگلے مالی سال میں موجودہ سال کے مقابلے میں تیئس فی صد زیادہ ٹیکس حاصل کرنے کا ہدف رکھا ہے۔ یہ ہدف اگلے مالی سال میں 5800 ارب روپے رکھا گیا ہے۔ بس یہیں سے ٹیکس فری بجٹ کی کہانی میں ٹوئسٹ آتا ہے۔ ٹوئسٹ بھی ایسا کہ عوام کی کمر میں بل پڑ جائے گا۔ظاہر ہے کہ تیئس فی صد اضافے کا مسئلہ ہے۔

پاکستان میں تاریخی طور پر ملک کی مجموعی ٹیکس آمدن میں ڈائریکٹ اور اِن ڈائریکٹ ٹیکسز کا توازن بہت بگڑا ہوا ہے۔ ملک کی مجموعی محصولات میں زیادہ حصہ اِن ڈائریکٹ محاصل کی مد میں آتا ہے جو سیلز ٹیکس، کسٹم ڈیوٹی، فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی اور پٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی کی شکل میں خزانے میں جمع ہوتے ہیں۔

ملک میں ٹیکس ٹو جی ڈی پی کاتناسب نچلی سطح پر ہے جس کی وجہ بہ راہ راست محاصل کی مد میں کم رقم کا اکٹھا ہونا ہے۔ اگلے مالی سال میں بڑے ٹیکس ہدف کے حصول کے لیے حکومت کو سیلز ٹیکس اور کسٹم ڈیوٹی جیسے محاصل میں اضافہ کرنا پڑے گا جس کی قیمت ایک عام صارف کواشیامنہگے داموں خریدنے کی صورت میں چکانی پڑے گی۔

پاکستان میں عموماً یہی ہوتا ہے کہ جب ٹیکس کی شرح بڑھائی جاتی ہے اور زیادہ ٹیکس وصول کیا جاتاہے تو سرمایہ دار یا صنعت کار قیمتیں بڑھا کر صارف سے یہ ٹیکس وصول کر لیتا ہے۔

پاکستان میں عمومی تاثر یہی ہے کہ ملک میں ٹیکس دینے والوں کی تعداد انتہائی کم ہے۔ ملک کے وزیر اعظم نے بھی یکم جون 2019کو قوم کے نام اپنے ایک ’’اہم‘‘ پیغام میں اس عمومی تاثر کو تقویت بخشتے ہوئے عوام کو آگاہ کیاتھا کہ بائیس کروڑ پاکستانیوں میں سے صرف ایک فی صد افراد ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ عمران خان کے مطابق درحقیقت یہ ایک فی صد ٹیکس دینے والے بائیس کروڑ پاکستانی عوام کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔

یہ بیان سن کر عام پاکستانیوں کے ذہنوں میں یہ سوال ضرور کلبلایا ہو گا کہ روزانہ کی بنیاد پر جو ٹیکس وہ پیٹرول، بجلی، گیس، موبائل فون کارڈ، الیکٹرانکس کی مصنوعات، الغرض ہر طرح کی اشیائے ضروریہ پر ادا کرتے ہیں وہ کس کھاتے میں جا رہا ہے؟

وہ لازماً یہ بھی سوچ رہے ہوں گے لیوی ٹیکس، ود ہولڈنگ ٹیکس، سیلز ٹیکس، فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی، کسٹم ڈیوٹی سمیت درجنوں دیگر ٹیکسز، جن سے ان کا روزانہ واسطہ پڑتا ہے وہ درحقیقت کیا ہیں؟ کیا یہ وہ ٹیکس نہیں جن کا ذکر وزیرِ اعظم کر رہے تھے؟

دراصل پاکستان میں محاصل کی مختلف درجہ بندیاں ہیںجن میں ڈائریکٹ ٹیکس (بلاواسطہ ٹیکس) اور ان ڈائریکٹ ٹیکس (بالواسطہ ٹیکس) کا تذکرہ ہم عام طورسے سنتے ہیں۔

بہ راہِ راست محاصل

پاکستان میں بہ راہِ راست یا ڈائریکٹ ٹیکسز میں آمدن پر لگنے والا ٹیکس، صوبائی زرعی ٹیکس اور پراپرٹی ٹیکس شامل ہیں۔ آمدن ٹیکس یعنی انکم ٹیکس عموماً تنخواہ دار اور کاروباری طبقہ دیتا ہے۔ آمدن ٹیکس کے حوالے سے حکومت نے عوام کو سہولت دینے کے لیے سالانہ آمدن کے حساب سے درجہ بندی کر رکھی ہے۔ مثال کے طورپر اس درجہ بندی کے تحت سالانہ فلاںلاکھ روپے تک کمانے والے افراد اس ٹیکس سے مستثی ہیں اور فلاں سے فلاں لاکھ روپے سالانہ کمانے والے افراد محض فلاں ہزار روپے ٹیکس دینے کے پابند ہیں۔

قوم کے نام مذکورہ پیغام میں وزیراعظم کا کہنا تھا کے پاکستان میں ٹیکس دینے والے صرف ایک فی صد لوگ بائیس کروڑ افراد کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔اور آٹھ سے بارہ لاکھ سالانہ آمدن والے افراد پر دوہزار روپے آمدن ٹیکس اور اس سے زیادہ کمانے والوں پر آمدن کے حساب سے بالترتیب پندرہ، بیس اور پچّیس فی صدتک ٹیکس لاگو کیا جاتا ہے۔

ہمارے ملک میں تن خواہ دار طبقے کا ٹیکس ان کے ادارے، جہاں وہ نوکری کر رہے ہوتے ہیں، خود ہی کاٹ لیتے ہیں۔ اسے ٹیکس ایٹ سورس کہا جاتا ہے ۔ کاروباری افراد، جن کی سالانہ آمدن بارہ لاکھ روپے تک ہے، ان کے لیے ٹیکس کی شرح وہی ہے جو تن خواہ دار طبقے کے لیے ہے۔ بارہ تا چوبیس لاکھ روپے سالانہ آمدن والے افراد پر پانچ فی صد ٹیکس لاگو ہوتا ہے۔ اس کی زیادہ سے زیادہ شرح اُنتیس فی صد ہےجو پچاس لاکھ سالانہ کمانے والے افراد پر لاگو ہوتی ہے۔کاروباری افراد سے یہ ٹیکس تب لیا جاتا ہے جب وہ ایف بی آر میں اپنے سالانہ گوشوارے جمع کراتے ہوں، ورنہ ان کا شمار ان پاکستانیوں میں ہوتا ہے جو ٹیکس ادا نہیں کرتے۔

پراپرٹی ٹیکس کے حوالے سے بھی حکومت نے مختلف درجہ بندیاں کر رکھی ہیں اور وفاقی اور صوبائی سطح پر ان کی شرح مختلف ہے۔ پراپرٹی کی نوعیت پر بھی مختلف شرح عاید ہوتی ہے۔ اگر پراپرٹی ٹیکس کو آسان الفاظ میں بیان کیا جائے تو اگر آپ کو اپنی پراپرٹی سے حاصل ہونے والی آمدن دو لاکھ روپے تک ہے تو آپ ٹیکس سے مستثیٰ ہیں۔ عاید ہونے والے پراپرٹی ٹیکس کی زیادہ سے زیادہ شرح پچّیس فی صد ہے۔اسی طرح صوبائی زرعی ٹیکس کی بھی مختلف درجہ بندیاں ہیں اور ہر صوبے کے لحاظ سے عاید ٹیکس کی شرح علیحدہ ہوتی ہے۔

بالواسطہ محاصل

بالواسطہ یا ان ڈائریکٹ محاصل وہ ہیں جو تقریباً ہر پاکستانی ادا کرتا ہے اور حکومت مختلف ضروریات زندگی کی اشیا پر ان کا اطلاق کرکے عوام کی جیب پر بوجھ ڈالتی ہے ۔ان میں عام فہم جنرل سیلز ٹیکس، فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی، سیلز ٹیکس آن سروسز، کسٹم ڈیوٹی اور متعدد لیویز ٹیکس شامل ہیں۔

ملک میں لاگو سیلز ٹیکس کی زیادہ سے زیادہ شرح 17فی صدہے۔ فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی عمومی شرح 10 فی صد ہے۔ فیڈرل ایکسائزڈیوٹی تمام نہیں بلکہ مخصوص اشیا پر لاگو ہوتی ہے، مثلاً سگریٹ وغیرہ پر۔اس کے بعد ایک اور ٹیکس سیلز ٹیکس آن سروسز ہے جو صوبائی سطح پر نافذ کیا جاتا ہے اور اس کی شرح کا تعین بھی صوبے کرتے ہیں مگر اس ٹیکس کی عمومی شرح 16 فی صد ہے۔ کسٹم ڈیوٹی ٹیکس کی شرح کا تعین درآمدی مصنوعات کی نوعیت اور تعداد پر ہوتا ہے۔عام استعمال کی جن چیزوں پر یہ لاگو ہوتا ہے ان میں امپورٹڈ چاکلیٹ، گاڑیاں اور الیکٹرونکس کا سامان شامل ہےجن پر 20 فی صد شرح عاید ہوتی ہے۔

ان محاصل کے بعد مختلف اقسام کی ٹیکس لیویز اور سرچارج ٹیکس عاید کیے جاتے ہیں جو عموماً پیٹرول، سی این جی، ایل این جی، بجلی اور گیس کے بل اورٹیلی فون کے بل میں شامل کر کے عاید کی جاتی ہیں۔ ان کی شرح کا تعین حکومت وقتا فوقتا کرتی ہے۔

ایک اور ٹیکس جو عام صارف کی جیب پر بھاری پڑتا ہے وہ ودہولڈنگ ٹیکس ہے جس کی کم از کم شرح 10 فی صدہے۔ اسی طرح بینک سے نقد رقم نکلوانے پر بھی حکومت نے ٹیکس نافذ کر رکھاہے جس کے مطابق ایسے افراد جو فائلرز ہیں ان کے لیے اس میں چھوٹ دی گئی ہے۔ نان فائلرز کے لیے پچاس ہزارسے زیادہ رقم نکلوانے پر0.7فی صداور رقم ٹرانسفر کرنے پر0.6فی صد ٹیکس کٹوتی کی جاتی ہے۔اس طرح ملک میں زیادہ تر محاصل بالواسطہ نظام سے حاصل ہوتے ہیں اور وہ تقریباً ہر پاکستانی ادا کر رہا ہے۔

اس بجٹ میں نئے ٹیکس تو نہیں لگے، لیکن پرانے ٹیکس ضرور بڑھا دیے گئے ہیں۔ پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی میں ایک سو ساٹھ ارب کا اضافہ کردیا گیاہے، جس کا بوجھ اشیائے خورونوش سے لے کر ہر شعبے پر پڑے گا۔ آئندہ مالی سال کے لیے ایف بی آر کا ٹیکس ٹارگٹ اٹھاون کھرب انتیس ارب روپے ہے۔ نان فائلرز کے لیے بجلی منہگی کردی گئی ہے اور پچیس ہزارروپے کے بل پر ساڑھے سات فی صد ودہولڈنگ ٹیکس دینا ہوگا۔ایل این جی، سگریٹ، چاکلیٹ، میک اپ کے سامان، شیمپو، پرفیومز، درآمدی خوراک اور سونے کے زیورات پر ڈیوٹیز میں اضافہ کیا گیا ہے۔تاہم تن خواہ دار طبقے کےلیے انکم ٹیکس سلیب میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔

اقتصادی ماہرین کے مطابق ملک میں بہت سے بہ راہ راست محاصل بھی بالواسطہ محاصل کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔اہم بات یہ ہے کہ ود ہولڈنگ ٹیکسز کی مد میں اکٹھا ہونے ہونے والی رقم کا تقریباً بہتّر فی صد بہ راہ راست محاصل کی مد میں ہوتا ہے۔ اسی طرح اور بھی بہت سے ایسے بالواسطہ محاصل ہیں جو حکومت مختلف صورتوں میں عوام کی جیب سے نکلواتی ہے اور پھر بھی یہ تاثر دیتی ہے کہ ملک میں کوئی ٹیکس نہیں دیتا۔حقیقت یہ ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکس، بالواسطہ نظام سے حاصل ہو رہا ہے اور وہ تقریباً ہر پاکستانی ادا کر رہا ہے۔

گوشوارے جمع کرانے والے

ملک میں سالانہ ٹیکس گوشوارے جمع کرانے والوں کی کل تعداد تقریباً بیس لاکھ ہے۔ تاہم حکومت کی کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ پاکستانیوں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔ ماہرینِ اقتصادیات کہتے ہیں کہ وہ سرکاری لوگوں کے اس بیان سے متفق نہیں ہیں کہ پاکستان میں صرف ایک فی صد لوگ ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ سرکاری لوگ اس بارے میں بہت زیادہ غلط اعداد و شمار بتاتے ہیں جن سے اتفاق نہیں کیا جاسکتا۔ سرکاری لوگوں کو یہ کہنا چاہیے کہ ٹیکس فائلرز کی تعداد کم ہے نہ کہ ٹیکس دینے والوں کی۔

کیا محاصل کا یہ نظام پائے دار ہے؟

ہمارے محاصل جمع کرنےکے موجودہ نظام کے بارےمیں ماہرین کا کہنا ہے کہ اندرونی اور بیرونی قرضے معیشت کے استحکام کےلیے کوئی پائے دار حل ہر گز نہیں ہیں۔ بلکہ یہ وقت گزاری کے لیے اٹھایا جانے والا منہگا اقدام ہے۔ ماضی میں کم و بیش ہر حکومت کو مجبوراًعالمی مالیاتی اداروں سے رجوع کرنا پڑا۔ آئی ایم ایف کی کڑی شرائط کی ناگواری اور ان شرائط کے منفی اثرات سے عوام بلبلا اٹھتے ہیں، مخالفین حکومت پر تنقید کے تیر برساتے نہیں تھکتے، لیکن تلخ حقیقت یہ ہے پاکستان کی کم و بیش تمام حکومتیںایک غیر لچک دار ٹیکس سسٹم اور اس نظام میں بہ راہِ راست محاصل سے زیادہ بالواسطہ محاصل پر انحصار کرتی رہی ہیں جس سے معیشت کی طویل المیعاد نشو و نما پر منفی اثرات مرتب ہوتے رہے ہیں۔

اسی لگے بندھے ٹیکس کے نظام کا کمال ہے کہ دس ،پندرہ برسوں کا مجموعی ریکارڈ دیکھیں تو محصولات کا ساٹھ فی صد یا اس سے بھی زیادہ حصہ بالواسطہ ٹیکسز سے اکٹھا کیاجاتا رہا ہے۔ ان میں سب سے زیادہ انحصار ود ہولڈنگ ٹیکس پر ہوتا ہے جو ادائیگی کے مرحلے پر ہی منہا کرلیا جاتاہے۔ ود ہولڈنگ ٹیکسوں کا نفاذ اور اس سے محصولات کی وصولی حکومتی مشینری کے لیے قدرے آسان ہوتی ہے لیکن اس کے معیشت، پیداوار اور کاروباری مسابقت پر بہت منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں جو بالعموم منہگائی اور پیداواری لاگت میں اضافے کی شکل میں سامنے آتے ہیں۔ اس کے باوجود ماضی میں جب بھی ٹیکس کے نظام اور ٹیکس مشینری میں اصلاحات کا ڈول ڈالا گیا ، اصلاحات کا خواب تشنہ ہی رہا۔

جامع نظام کی ضرورت

ترقی یافتہ ممالک ہوں یا ہم جیسے ترقی پذیر ممالک، خوشی خوشی ٹیکس دینے پر آمادہ افراد کم ہی ملتے ہیں۔ چناں چہ کسی بھی مضبوط معیشت کے لیے ضروری ہے کہ محاصل کا ایسا جامع نظام ترتیب دیا جائے جس میں اس کی شرح، بالواسطہ اور بلاواسطہ ٹیکس کے تناسب میں توازن ، ٹیکس نیٹ کی وسعت اور ناگزیر شعبوں کے لیے عارضی رعایت یا مکمل استثنیٰ جیسے اقدامات کے ذریعے اقتصادی نشو ونما، ملازمتوں، سرمایہ کاری اور بچتوں کو فروغ مل سکے۔

ایسے نظام کے ذریعے حکومت نہ صرف محاصل کواپنے مالی وسائل میںاضافے کے لیے استعمال کر نےکے قابل ہوتی ہے بلکہ محاصل کی وصولی کے طریقہ کار کے ذریعے اقتصادی ناہم واری کم کرنے، علاقائی عدم توازن دور کرنے، سرمایہ کاری کے فروغ، ملازمتوں کے امکانات میں وسعت، وسائل کی تقسیمِ نو اور معیشت کے کئی شعبوں میں منفی رجحانات مثلاً سٹہ بازی ، قیمتوں پر مصنوعی گٹھ جوڑ ، طلب اور رسدکے توازن کو درہم برہم کرنے، ذخیرہ اندوزی وغیرہ کی حوصلہ شکنی کے لیے بھی استعمال کر سکتی ہے۔

معیشت کی مضبوطی میں ٹیکس کے ڈھانچے کے لیے یہ بھی بہت ضروری ہے کہ ٹیکس کا نظام ہمہ گیر ہو، ٹیکس نیٹ وسیع ہو، اس کے تناسب میں کھپت کی بنیاد پر اور بلاو اسطہ ٹیکسز کا تناسب زیادہ ہو تاکہ زیادہ کمانے اور وسائل کے حامل افراد بھی اسی حساب سے محاصل ادا کریں نہ کہ بالواسطہ محاصل کی آڑ میں بہت کم ٹیکس دے کر بچ نکلیں۔

ہماری نظام کی ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ محاصل کے نظام میں بدعنوانی ، غیر دستاویزی معیشت کے پھیلتے ہوئے حجم ،محاصل کی ادائیگی سے گریزکے رجحانات اور بنیادی اصلاحات سے مسلسل چشم پوشی نے ہمیں اس حال تک پہنچا دیاہے کہ بائیس کروڑ کی آبادی میں فائلرزکی تعداد بہت کم ہے۔ماہرین کے بہ قول پاکستان کی مضبوط معیشت کےلیےمحاصل کو متوازن انداز میں نئے سرے سے ترتیب دینے ، بے لاگ انداز میں اس کے اطلاق ، ہمہ گیر ، شفاف اور کرپشن سے پاک نظام کی طرف پیش رفت ایک اختیاری فیصلہ نہیںبلکہ اب یہ اقتصادی استحکام کی ناگزیر ضرورت ہے۔

ملک کو درپیش اقتصادی چیلنجز سے نمٹنے کےلیے ٹیکس کا نظام دیگر ترقی یافتہ اور ترقی پذید ممالک کی طرح ایک مؤثر ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کا ہنر سیکھنے اور اسے رو بہ عمل لانے کے لیے سیاسی و انتظامی پختگی اختیار کرنے کے سوا ہمارے پاس کوئی اور چارہ نہیں۔ پھر یہ کہ نئے پاکستان کے لیے ٹیکس کا نیا اور عادلانہ نظام ضروری ہے جو دولت کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنا کر امیر اور غریب کے درمیان بڑھتے ہوئے فرق کو کم کرے۔ہمارا موجودہ ٹیکس سسٹم غیرمتوازن اور زمینی حقائق سے متصادم ہے جسکی وجہ سے غربت مسلسل بڑھ رہی ہے جو ملکی سلامتی کا مسئلہ بن سکتا ہے۔

 ملکی نظام چلانے کے لیے بالواسطہ محاصل پر انحصار تقریبا ً90 فی صد تک پہنچ چکا ہے جس کی وجہ سے عوام غربت کی دلدل میں دھنس رہے ہیں۔ اس کے علاوہ دیگر سنگین معاشرتی مسائل بھی جنم لے رہے ہیں۔ ٹیکس کے نظام کی توجہ اشرافیہ کے وسائل میں مسلسل اضافے کے بجائے بہ راہ راست محاصل کے ذریعے عوام کی فلاح اور دولت کی منصفانہ تقسیم ہونی چاہیے تاکہ تمام وسائل ایک چھوٹی سی اقلیت کی طرف منتقل ہونے کا سلسلہ بند کیا جا سکے اور عوام کے مسائل میں کمی لائی جا سکے۔

ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ محاصل کے نظام کی بہتری کے لیے مقامی ماہرین پر انحصار کیا جائے، کیوں کہ غیر ملکی ماہرین، جنہیں ملکی حالات کا ادراک نہیں ہوتا، ان کی سفارشات پر عمل درامد کرنے سے نظام کو مزید پے چیدہ بنانےکے علاوہ کوئی نتیجہ حاصل نہیں کیا جا سکا ہے ۔ حکومت کو ٹیکس گزار اور ٹیکس حکام کے درمیان بد اعتمادی کی فضا ختم کرنا ہو گی جس کے نتیجے میں ٹیکس نیٹ پھیلے گا اور ملک عدم مساوات کی عالمی درجہ بندی میں 152 ممالک میں 139 ویں نمبر سے اوپر جائے گا۔ اب یہ ضروری ہوچکا ہے کہ حکومت تمام شعبوں پر منصفانہ ٹیکس عاید کرے تاکہ ملکی ترقی کا عمل تیز ہو سکے۔