لوٹن (جنگ نیوز) عقیدہ ختم نبوت کو شریعت مطہرہ کی رو سے بنیادی اور اساسی حیثیت حاصل ہے، جس کے بغیر کوئی عبادت و ریاضت محبوب و مقبول نہیں۔ عقیدہ ختم نبوت عقائد اسلامیہ کا اہم رکن ہے جو قرآن و حدیث، آثار صحابہ اور اجماع امت سے ثابت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی مکرم سیدالانبیاء وا لمرسلین رحمت اللعالمینﷺ پر سلسلہ نبوت ختم کردیا ہے۔ وحی نبوت کا نزول ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بند ہوگیا ہے، نبی پاکﷺ کی آمد پر قصر نبوت مکمل ہوگیا۔ اب ہر محب اسلام اور کلمہ گو کا فرض اولین ہے کہ اس راسخ سچے عقیدہ ختم نبوت کی حفاظت کرتے ہوئے تمام دوسرے مسائل پر ترجیح دیتے ہوئے اپنے کریم آقا علیہ السلام سے اپنی عقیدت و محبت کا اظہار کرتے ہوئے ایک وفادار امتی ہونے کا حق ادا کرے۔ ان خیالات کا اظہار علما و مشائخ نے پیر سید غلام معین الحق گیلانی سجادہ نشین گولڑہ شریف کی سرپرستی اور پیر سید مہر فرید الحق گیلانی کی صدارت میں دربار غوثیہ مہریہ گولڑہ شریف میں25اگست یوم فتح مبین کے موقع پر120ویں سالانہ ’’خاتم النبیینﷺ ‘‘کانفرنس جس کا انعقاد ایوان مہر علی شاہ کے زیراہتمام کیا گیا تھا، سے خطاب میں کیا۔ کانفرنس میں آن لائن سوشل میڈیا کے ذریعےلاکھوں لوگوں نے شرکت کی، کوویڈ19سے حفاظت کے پیش نظر اس کانفرنس میں اندرون و بیرونی ملک سے علمائے کرام نے آن لائن بھی شرکت کی جب کہ ممتاز اور نامور مذہبی اسکالرز نے دربار مقدس پر سیدی اعلیٰ حضرت رئیس المجد دین پیر مہر علی شاہ کے پہلو میں بیٹھ کر خطابات کیے۔ علمائے کرام نے تاجدار گولڑہ کی علمی و روحانی خدمات باالخصوص عقیدہ ختم نبوت کے حوالے سے تاریخ ساز کردار ادا کرنے اسے زبردست خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ25اگست1900ء کو اللہ کریم نے آپ کو فتح مبین سے نوازا تھا اور آپ نے فتنہ ’منکرین ختم نبوت‘ پر ضرب کاری لگائی تھی جو تاریخ کا ایک روشن باب ہے۔ علمائے کرام نے مجدد تعلیمات مہریہ پیر سید غلام معین الحق گیلانی سجادہ نشین دربار عالیہ غوثیہ مہریہ گولڑہ شریف کو خراج تحسین پیش کیا جو تسلسل کے ساتھ اس دن پر کانفرنس کا انعقاد کرکے اپنے اسلاف کے پاکیزہ مشن پر کاربند ہیں۔ جگر گوشہ مجدد تعلیمات مہریہ پیر سید مہر فرید الحق گیلانی نے صدارتی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ عظیم الشان کانفرنس عشرہ محرم الحرام کی مقدس اور بابرکت ساعتوں میں منعقد ہورہی ہے جس سے یہ شعور ملتا ہے کہ اگر مقام اہلبیتؓ کی سمجھ آجائے تو عقیدہ ختم نبوت کو سمجھنا آسان ہوجاتا ہے، یعنی وہ امام حسینؓ جنت مقام جو دین بھی ہیں، دین پناہ بھی ہیں اور بنائے لا الہ بھی ہیں اور شبیہ مصطفیﷺ بھی ہیں اور جنہوں نے دین کو بچانے کے لیے گھر کا گھر لٹا دیا اور نیزے کی نوک پر چڑھ کر قرآن سنایا اور وہ نبوت کا ارفع و اعلیٰ منصب نہ پاسکے تو پھر منکرین ختم نبوت اور ان جیسے دوسرے کس کھیت کی مولی ہیں۔ انہوں نے بڑے واضح انداز میں کہا کہ سارے جہان کو عظمتوں کی معراج نبی پاکﷺ کے گھرانے سے ملی، اگر گھر والے منصب نبوت پر فائز نہ ہوں تو کسی اور کے لیے اس کا دعویٰ کہاں روا ہوسکتا ہے۔ مرکزی جماعت اہلسنت یوکے اینڈ اوورسیز ٹرسٹ کے بانی اور سرپرست اعلیٰ مفکر اسلام علامہ ڈاکٹر پیر سید عبدالقادر گیلانی نے کہا کہ قرآن آخری کتاب، اسلام آخری مذہب اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے آخری نبی اور رسول ہیں اور یہ پوری امت مسلمہ کا اجماعی عقیدہ ہے، اس کا انکار کرنے والا کوئی فرد ہو یا جماعت اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اعلیٰ حضرت رئیس المجد دین پیر سید مہر علی شاہ گلشن رسالت کے وہ مہکتے ہوئے پھول ہیں جن کی خوشبو نے ایک جہان کو معطر کر رکھا ہے۔ آپ نے اپنے علمی اور روحانی فیض سے فتح مبین حاصل کی اور تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام نے آپ کی قیادت و سیادت کو تسلیم کیا۔مرکزی جماعت اہل سنت یوکے اینڈ اوورسیز ٹرسٹ کے مرکزی جنرل سیکرٹری خطیب ملت علامہ قاضی عبدالعزیز چشتی نے کہا کہ عقیدہ ختم نبوت کا تحفظ ہر مسلمان پر فرض ہے،یہ عقیدہ اتنا نازک اور حساس ہے کہ اگر ذرا سا بھی اس میں شک و شبہ کا گردوغبار پڑ جائے اور اس کے تحفظ کے سلسلے میں ذرا سی کمزوری، کوتاہی یا لاپروائی برتی جائے تو آدمی ایمان کی لازوال دولت سے محروم ہوسکتا ہے۔ یہ عقیدہ اپنی اہمیت کے اعتبار سے ایمان کی معراج ہے، یہی وہ راسخ عقیدہ ہے جس پر ہر مسلمان تن من دھن سب کچھ قربان کرسکتا ہے اور یہی اسلامی غیرت و حمیت کا تقاضا ہے، اعلیٰ حضرت پیر سید مہر علی شاہ کو جو علمی اور روحانی فیض مولیٰ علی شیر خدا کی بارگاہ سے ملا تھا اس کے زور پر آپ نے فتنہ منکرین ختم نبوت پر ضرب کاری لگائی اور آپ کی فتح مبین تاریخ کا ایک روشن اور درخشاں باب ہے۔ دیگرعلمائے کرام نے کہا کہ تاجدار گولڑہ سر زمین پاک و ہند میں تحریک ختم نبوت کے سالار اور مورث اعلیٰ ہیں۔ کانفرنس کا آغاز زینت القراء قاری غلام مصطفی نے کیا جب کہ نظامت اسلام آبادکے خطیب علامہ شیخ عبدالحمید نے سرانجام دئیے۔ علامہ سید شاہ گیلانی گردیزی (کراچی) علامہ حافظ شکیل الحق (یوکے) علامہ سید صداقت حسین بخاری (اسلام آباد) علامہ مفتی محمد اشرف چشتی، علامہ جی اے حق (بہاول پور) علامہ ڈاکٹر محمد آصف ہزاروی، (وزیر آباد)، علامہ مفتی عمیر محمود صدیقی (کراچی) نوجوان اسکالر رحمت اللہ، علامہ مفتی خدا بخش گولڑوی، علامہ مفتی سمیع الحق گولڑی نے بھی مانفرنس سے خطاب کیا۔ دربار کے قوالوں نے ہدیہ نعت پیش کیا جب کہ حضرت پیر سید مسعود الحق گیلانی، پیر ید جواد الحق گیلانی نے خصوصی شرکت کی ۔ آخر میں پیر سید مہر فرید الحق گیلانی نے دعا کروائی۔