آپ آف لائن ہیں
جمعہ12؍ربیع الاوّل 1442ھ 30؍اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

مصباح رانی

لفظ’’توتا‘‘سُنتے ہی ذہن میں ایک ایسا پرندہ آجاتا ہے، جس کے پَر ہرے اور چونچ سُرخ ہو، لیکن آج ہم ایسے توتوں کا ذکر کر رہے ہیں، جو ہمارے اردگرد ہی پائے جاتے ہیں اور خاصی تعداد میں پائے جاتے ہیں۔

ایک زمانہ تھا، جب بچّے تعلیمی اداروں میں صرف علم حاصل کرنے جاتے تھے ۔اساتذہ بھی خُوب توجّہ سے پڑھاتےاور نالائق سے نالائق طلبہ کو بھی کسی نہ کسی حد تک قابل بنا دیتے تھے۔ بچّوں کے نزدیک اپنے استاد کی عزّت مقدّم تھی۔ اگر استاد کبھی سزا دے بھی دیتے، تو گھرجاتے ہوئے ہچکچاتےکہ اگرگھر والوں کو خبر ہو گی کہ آج اسکول میں مار پڑی ہے، تو بہت ڈانٹ ڈپٹ ہوگی اور کی بھی جاتی تھی۔دَورِ حاضر میں ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ معیارِ تعلیم بُلند ہوتا، مگر افسوس کہ جو معیار تھا، وہ بھی نہ رہا کہ اب ہمارے تعلیمی نظام میں نصاب کو بھی محض رَٹ لینے کا کلچر عام ہوچُکا ہے۔ 

اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ انگریزی ہماری قومی زبان نہیں،پھر ہماری مادری زبانیں بھی مختلف ہیں اور جب بچّوں کو غیر زبانوں میں تعلیم دی جاتی ہے، تو وہ باوجود پوری کوشش کے بھی علم کو اُس طور سینوں میں نہیں اُتار پاتے، جیسا اُترنا چاہیے۔ یوں امتحانات میں پاس ہونے کے لیے سوچے سمجھے بغیر بس سبق رَٹ لیا جاتا ہے، جو علم حاصل کرنا نہیں، بلکہ رٹّا لگانا کہلاتا ہے۔ بالکل ایسے ہی جیسے توتے چند جملے رَٹ لیتے ہیں اور پھر بغیر سوچے سمجھے اُنھیں دہراتے رہتے ہیں۔

ہر والدین کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کا بچّہ اپنے ہم جماعتوں سے زیادہ نمبر حاصل کرے۔ یہ خواہش قطعاً نا جائزنہیں۔لیکن اس کی تکمیل کے لیے بچّے پر غیر معمولی دباؤ نہ ڈالا جائے،کیوں کہ غیر معمولی دباؤ سے نہ صرف شخصیت پر انتہائی منفی اثرات مرتّب ہوتے ہیں، بلکہ بچّےسمجھ کر پڑھنے کی بجائے رَٹ کر یاد کرنے کے عادی ہوجاتے ہیں۔اور افسوس ناک امر یہ کہ پرائمری اسکولز سے لے کر یونی ورسٹیز تک کے طلبہ کی اکثریت امتحانات میں زیادہ سے زیادہ نمبرز حاصل کرنے کے لیے رٹّے ہی کا سہارا لے رہی ہے۔بچّوں کو یوں پڑھتا دیکھ کروالدین خوش ہوجاتے ہیں کہ ان کے بچّے خُوب دِل لگا کر پڑھ رہے ہیں۔

مگر سچ تو یہ ہے کہ ہم اپنے ہاتھوں اپنی نسل کو علم کا متلاشی نہیں،بلکہ رٹّو توتا بنا رہے ہیں۔ ذراسوچیے، کیا ہم اپنے بچّوں کو ایسی تعلیم دلوا کر اپنا اور مُلک و قوم کا نقصان نہیں کر رہے ؟اس سے پہلے کہ وقت ہاتھ سے ریت کی طرح پھسل جائے، ہمیں بچّوں کو ’’توتا‘‘ بنانے کی بجائے ’’قابل‘‘ بنانے کے بارے میں سوچنا چاہیے اور اس ضمن میں ہم سب کو مل جل کر کوششیں کرنا ہوں گی۔ جیسے حکومت کو چاہیے کہ دورِ جدید کے مطابق مُلک بَھر میں اپنی قومی زبان میں یک ساں تعلیمی نظام رائج کرے اور انگریزی بطور زبان پڑھائی جائے۔ اس کے ساتھ ہی سرکاری اور نجی اسکولز کے اساتذہ کی تربیّت بھی کی جائے کہ اساتذہ کی اکثریت طلبہ کو کچھ سمجھانے کے لیے درکار محنت سے کتراتی ہے۔ 

اسی طرح والدین بھی اپنے بچّوں کی توجّہ زیادہ سے زیادہ نمبر لینے پرنہیں، بلکہ سمجھ کر پڑھنے پر مرکوز کروائیں کہ آج کے بچّے ہی ہمارا کل ہیں اور ترقّی اُن ہی اقوام کا مقدّر بنتی ہے، جو علم سے بہرہ وَر ہوں، نہ کہ جن کا انحصار محض ڈگری کے لیے تعلیم کے حصول پر ہو۔ یاد رکھیے، جو تعلیم ذہنوں کو روشن کرے، اُسی سے معاشرے میں روشنی پھیلتی ہے کہ آدمی کی شناخت ڈاکٹر، انجینئر اور کسی پیشے کی تو ہو،لیکن وہ ایک اچھا انسان نہ ہو، تو سب کچھ بےکار ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ تعلیم حاصل کرنے کا اصل مقصد رَٹ کر ڈگری حاصل کرنا نہیں،بلکہ زندگی کو بامقصد بنانے کے ساتھ تمیز اور تہذیب سیکھنا بھی ہے ۔