آپ آف لائن ہیں
ہفتہ6؍ربیع الاوّل 1442ھ 24؍اکتوبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

کورونا کی وبا عالمی سطح پر پھیلی تو اس نے ایسی شکل اختیار کرلی کہ نہ بڑا دیکھا نہ بچہ، نہ امیر دیکھا نہ غریب، نہ کارکن دیکھا نہ لیڈر۔یہی کچھ بھارت میں بھی ہوا کہ وہاں پر روزانہ ہزاروں کی تعداد میں نہ صرف اِس وبا کے متاثرین سامنے آرہے ہیں بلکہ دنیا سے جا بھی رہے ہیں۔ اُن جانے والوں میں بھارت کے سابق صدر (راشٹر پتی) پرناب مکھرجی بھی شامل ہیں۔ پرناب مکھر جی کی دنیا سے رخصتی کی خبر پڑھ کے ان سے دو ملاقاتیں یاد آگئیں۔ ایک جب و ہ بطور وزیر خارجہ پاکستان آئے۔ ان کے دِل میں پاکستان کی حکمران جماعت کے قائدین سے ملاقات کے ساتھ ساتھ یہ خواہش بھی موجود تھی کہ وہ حزبِ اختلاف کی مرکزی قیادت کے ساتھ بھی ملاقات کریں۔ وہ میاں نواز شریف سے ملاقات کے متمنی تھے اور ان کی اس تمنا کو حقیقت میں بدلنے کی غرض سے اُس وقت پاکستان میں متعین بھارتی سفیر ستيہ برت پال نے مجھ سے رابطہ کیا کہ میاں نواز شریف سے ملاقات کا وقت طے کروا دیا جائے۔ پرناب مکھرجی اس سے قبل بھارت کے وزیر خارجہ رہ چکے تھے، جب ملاقات طے ہو گئی تو میاں نواز شریف نے اپنے ساتھ ملاقات میں اور کچھ افراد کے ہمراہ مجھے بھی شامل کرلیا۔ پرناب مکھرجی وقتِ مقررہ پر پنجاب ہاؤس اسلام آباد پہنچ گئے، اُن کے ہمراہ دیگر سینئر بھارتی حکام بھی موجود تھے۔ رسمی علیک سلیک میں

پرناب مکھرجی نے میاں نواز شریف کو یادکروایا کہ اس سے قبل ان کی ملاقات پیرس کے ایک ہوٹل کی لفٹ میں ہوئی تھی اور میاں نواز شریف کو بھی وہ ملاقات اور گفتگو یاد آگئی۔ اس کے بعد پرناب مکھرجی نے گفتگو کا آغاز یہاں سے کیاکہ دونوں ممالک کی عوام کی خوشحالی اسی میں پنہاں ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان خوشگوار اور پُرامن تعلقات مستقل بنیادوں پر قائم ہوں اور یہ تعلقات مستقل بنیادوں پر قائم کرنے کی غرض سے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات مکمل طور پر بحال ہونے چاہئیں، جب تجارتی تعلقات کی بحالی پر کام ہوگا تو ثقافتی تعلقات بھی اس کے ساتھ ساتھ بحال کرنا ہوں گے تاکہ دونوں ممالک کے عوام مجموعی طور پر پُرامن تعلقات کی طرف بڑھتے چلے جائیں۔ جو لوگ میاں نواز شریف سے مختلف اوقات میں ملتے رہے ہیں وہ اُن کے اِس مزاج سے اچھی طرح واقف ہیں کہ وہ دوسرےکی بات بہت توجہ اور تحمل سے سنتے ہیں، چاہے اس سے جتنا مرضی اختلافِ رائے رکھتے ہوں۔ جب پرناب مکھر جی اپنی گفتگوکر چکے اور بھارت پاکستان پُر امن تعلقات کی افادیت اپنی روشنی ڈال چکے تو میاں نواز شریف گویا ہوئے کہ اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ خطے میں پائیدار امن قائم ہونا چاہئے جس کے ثمرات عوام تک پہنچنا چاہئیں لیکن انہوں نے پرناب مکھرجی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا کہ یہ صرف تب ہی ممکن ہوگا جب بات لفظوں سے آگے بڑھ کر عمل کا روپ اختیار کرلے اور یہ عمل کا روپ صرف اسی وقت اختیار کرے گی جب کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق کشمیر کا فیصلہ ہوگا۔ اس بات کو سمجھنے کی غرض سے کہ پاکستان اور بھارت کے تعلقات مستقل کشیدگی میں کیوں تبدیل ہو گئے، ہمیں اُن واقعات کا جائزہ لینا ہوگا جن کی وجہ سے معاملات ایک خاص رفتار سےکشیدگی کی جانب بڑھتے چلے گئے۔ ہم سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ کشیدگی کی ابتدا اور انتہا دونوں میں یہ عمل کارفرما ہے کہ کشمیری عوام سے وہ وعدہ جو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی صورت میں کیا گیا تھا، وفا نہیں ہو سکا اور نتیجتاً کشیدگی بڑھتی چلی گئی، بہار اس وقت ہی آسکتی ہے جب خزاں کی وجوہات کا تدارک ہوگا اور یہ تدارک کرنا تنہا پاکستان کا فرض نہیں بلکہ بھارت اگر آج بھی اپنی اقوامِ متحدہ میں کی گئی اس گفتگو کا خود ہی احترام کرے، جو اس نے کشمیر پر وعدے کرتے وقت کی تھی تو جو کچھ آپ کہہ رہے ہیں ،وہ سب حاصل کیا جا سکتا ہے۔ میاں نواز شریف کی گفتگو کے دوران پرناب مکھرجی کے چہرے کے اتار چڑھاؤ بتارہے تھے کہ وہ اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ جو کچھ میاں نواز شریف کہہ رہے ہیں وہ درست ہے اور جو کچھ انہوں نے میاں نواز شریف سے کہا وہ سوائے خواب و خیال کے اور کچھ نہیں ۔ اسی شام انڈین ہاؤس اسلام آباد میں پرناب مکھرجی سے کچھ دیگر پاکستانیوں کے ہمراہ دوبارہ ملاقات ہوئی، اس ملاقات میں پرناب مکھرجی نے مجھے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ دونوں ممالک کو امن کی طرف بڑھنا چاہئے اور امن کی طرف بڑھنے کے لئے ہم میاں نواز شریف کی گفتگو کی افادیت کے قائل ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ بھارت اپنے عوام کو مستقل خواب و خیال کی حالت میں رکھنا چاہتا ہے اور پاکستان کی بدقسمتی یہ ہے کہ حق پر ہونے کے باوجود دنیا میں اپنے موقف پر پذیرائی حاصل نہیںکر سکا جو اس کےموقف کی پذیرائی ہونی چاہئے تھی۔ کھلی اور در پردہ آمریت نے دنیا کی نظروں میں پاکستان کو ایک ایسے ملک کے طور پر پیش کیا ہے کہ جس سے بھارت کی گفتگو زیادہ مضبوط تسلیم کی جاتی ہے۔ برسبیل تذکرہ بیان کرتا چلوں کہ 2012میں بھارت کے وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا پاکستان کے دورے پر آئے تو لاہور میں میاں شہباز شریف سے ان کی ملاقات ہوئی، ملاقات میں دیگر افراد کے ہمراہ میں بھی شامل تھا۔ بھارتی وزیر خارجہ نے وہی گفتگو کی جو پرناب مکھرجی نے چند برس قبل کی تھی اور میاں شہباز شریف نے بھی گفتگو کشمیر سے شروع کی اور کشمیر پر ہی ختم کی اور میں دیکھتا ہی رہ گیا کہ میاں شہباز شریف کی سوچ تو سوچ الفاظ بھی اپنے بڑے بھائی اور لیڈر میاں نواز شریف سے کتنے ہم آہنگ ہیں حالانکہ ان کے مخالفین کی سب سے بڑی خواہش یہی ہے کہ دونوں بھائی جدا ہو جائیں۔