آپ آف لائن ہیں
جمعہ12؍ربیع الاوّل 1442ھ 30؍اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

ابھی جو آپ پڑھیں گے اُسے کالم سمجھ کر نہ پڑھیں بلکہ یہ سمجھیں کہ ایک بائولا شخص ہے، جس کے منہ میں جو آتا ہے کہتا جا رہا ہے چنانچہ اس کی باتیں ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکال دیں۔ دراصل لاہور سیالکوٹ موٹروے پر ایک خاتون کے ساتھ جو درندوں جیسا سلوک کیا گیا ہے، اُس کے بعد سے میں ہوش و حواس کھو چکا ہوں، میرے کانوں میں ڈولفن فورس کے اُس اہلکار کی باتیں ہتھوڑے کی طرح ضرب لگا رہی ہیں جو اُس نے جائے سانحہ کی صورتحال دیکھ کر کہیں۔ ایک عورت اپنے بچوں کو اپنے بازوؤں میں سمیٹے، نیم بےہوش پڑی ہے، وہ جب اُس ڈولفن فورس کے اہلکار کو اپنی جانب آتے دیکھتی ہے تو چیخنا شروع کر دیتی ہے، یہ اُسے کہتا ہے کہ بہن میں اُن ظالموں میں سے نہیں ہوں، میرا تعلق پولیس سے ہے اور سانحہ کی رپورٹ ملنے پر یہاں تک پہنچا ہوں مگر اسے یقین نہیں آتا اور وہ چیختی چلی جاتی ہے تاہم وہ بالآخر اسے یقین دلانے میں کامیاب ہو جاتا ہے، جس پر وہ زاروقطار روتے ہوئے کہتی ہیں کہ اگر تم میرے ہمدرد ہو تو تمہیں خدا اور اُس کے رسولؐ کا واسطہ ہے کہ مجھے گولی مار دو، یہ اہلکار اُسے تسلیاں دیتا ہے مگر وہ اصرار کرتی ہے کہ اُسے گولی مار دی جائے۔ اہلکار بتاتا ہے کہ ایسے مواقع پر پولیس کے ضوابط مطابق وقوعہ کی تصویریں لینا ضروری ہے لیکن وہ خاتون جس حالت میں میں کھڑی نظر آ رہی تھی، اُسے اُسکی تصویری اُتارنے کا حوصلہ ہی نہیں ہوا۔ اُس ساری سچویشن میں وہ سب کچھ موجود تھا جو اس خاتون کے ساتھ درندوں نے کیا تھا۔

میں اِس وقت سے بائولا ہو چکا ہوں اور مرنے کے بعد سزا و جزاء کے جو پیمانے ہمیں بتائے جاتے ہیں، اُن میں سے بدترین گناہ گاروں کے لئے جو سزائیں بتائی جاتی ہیں، اس سے کہیں زیادہ عذاب اُن درندوں کو اسی دنیا میں دیا جائے۔ پہلے اُن کا ایک ہاتھ کاٹا جائے اور وہ پورا دن تڑپتے رہیں۔ دوسرے دن اُن کا دوسرا ہاتھ کاٹا جائے، اُس سے اگلے روز اُن کی ایک ٹانگ اور اُس سے اگلے روز اُن کی دوسری ٹانگ بھی کاٹ دی جائے۔ پھر وقفے وقفے کے بعد ان کے دوسرے اعضاء کان، ناک، زبان، آنکھیں وغیرہ کاٹ کر شہر کے چوراہے میں لٹکا دیا جائے مگر انہیں زندہ رکھنے کے لئے تمام ماہرینِ طب کی خدمات حاصل کی جائیں۔ اگر یہ ممکن ہو تو ہر آنے جانے والا اُن پر تھوکتا ہوا وہاں سے سے گزرے اور اُن غلیظوں کو ٹائلٹ کے طور پر بھی استعمال کیا جائے اگر انہیں زندہ رکھنا ممکن نہ ہو اور لگتا بھی یہی ہے تو پھر اُن کے باقی ماندہ حصوں سمیت اُنہیں بھوکے کتوں کے سامنے ڈال دیا جائے۔ ممکن ہے اُس کے بعد مجھے اور مجھ ایسے لاکھوں بےچین، مضطرب اور مغموم پاکستانیوں کو سکون کی نیند آ سکے۔یہ تو ایک بائولے کی باتیں تھیں مگر ابھی تک ہوا کیا ہے، ہوا یہ ہے کہ ہفتہ کے روز پوری پنجاب حکومت نے پریس کانفرنس کی جس میں بتایا گیا کہ فرانزک کے ذریعے ملزموں کا سراغ لگا لیا گیا ہے اور پولیس اُنہیں گرفتار کرنے اُن کے علاقے کی طرف روانہ ہو گئی ہے اور پھر خبر یہ آتی ہے کہ مجرم اپنی فیملی سمیت وہاں سے فرار ہو گیا ہے۔ اب اِس پر کیا تبصرہ کیا جائے۔ پوری دنیا میں کہرام مچا ہوا ہے اور ملزم اپنی فیملی سمیت تمام تھانوں، جگہ جگہ لگے ناکوں اور پورے شہر کے لوگوں کی آنکھوں میں مرچیں ڈال کر وہاں سے فرار ہونے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ عابد نامی مجرم پہلے سے اس طرح کے کئی مقدموں میں اشتہاری قرار دیا جا چکا ہے اور ایک عرصے سے ضمانت پر مزید کئی وارداتوں میں مشغول ہے۔ اگر پنجاب میں شہباز شریف نے فرانزک سسٹم قائم نہ کیا ہوتا تو پولیس اِن مجرموں کی نشاندہی بھی نہیں کر سکتی تھی۔ ایک اطلاع کے مطابق پولیس فرانزک والوں سے یہ مطالبہ کر رہی تھی کہ جائے سانحہ کے قرب و جوار میں واقع سینکڑوں رہائشیوں کا فرانزک ٹیسٹ کیا جائے، جو نہایت مضحکہ خیز بات تھی۔ بہرحال پندرہ، بیس افراد کے انتخاب کے بعد یہ مسئلہ حل ہوگیا۔ اُس کے بعد پولیس کا فرض تھا کہ مجرموں کے ناموں کی کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوتی مگر یہ خبر اُن تک پہنچا دی گئی اور وہ فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ کیسے فرار ہوئے، اس کی تحقیق کی بھی ضرورت ہے۔ ویسے ممکن ہے ابھی تک کسی کی گرفتاری کا دعویٰ کیا جا چکا ہو۔

میں نے یہ کالم دل کی بھڑاس نکالنے کے لئے لکھا ہے۔ ہونا وہی ہے جو اِس سے پہلے اِس نوعیت کے سینکڑوں مجرموں کے ساتھ ہوا ہے۔ اس وقت فضاء میں ایک نہیں کئی زینب چیخ و پکار ہار کر رہی ہیں۔ تین تین سالہ بچیوں کی چیخیں سنائی دے رہی ہیں لیکن قانون نافذ کرنے والے ادارے بہرے ہیں، اندھے ہیں، گونگے ہیں۔ یہ سماعت، گویائی، بینائی سب کام کرنا چھوڑ دیتی ہیں جب جبیں بھر دی جائیں۔ اب تو اللہ میاں سے گزارش کرنا پڑے گی کہ وہ آسمان سے اُتر کر زمین پر آئے اور انصاف قائم کرے۔ اُسے آسمانوں پر بھی یہ سب آہ و بکا سنائی دیتی ہے، میں جانتا ہوں مگر باؤلا ہوں اس لئے یہ بہکی بہکی باتیں کر رہا ہوں۔ میں جانتا ہوں اس بائولے کی کسی بات پر عمل نہیں ہوا، نہ ہوگا لیکن آج چین کی نیند تو سو سکوں گا۔