آپ آف لائن ہیں
ہفتہ12؍ربیع الثانی 1442ھ 28؍نومبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

یہ واقعہ 16دسمبر 2012کا ہے، وقت ہے رات ساڑھے نو بجے کا اور مقام ہے نئی دہلی۔ 23سالہ جیوتی سنگھ اپنے ایک مرد دوست کے ہمراہ سینما سے فلم دیکھ کر نکلی ہے ۔ گھر واپس جانے کے لئے دونوں ایک بس میں سوار ہوتے ہیں جس میں ڈرائیور سمیت پہلے سے چھ افراد موجود ہیں۔ تھوڑی دیر بعد جیوتی سنگھ اور اُس کے دوست کو احساس ہوتا ہے کہ بس اپنے مقررہ راستے پر چلنے کے بجائے کسی دوسری طرف نکل گئی ہے، جیوتی کا دوست جب ڈرائیور سے اِس بارے میں پوچھتا ہے تو جواب میں وہ سب نوجوان اِن دونوں کو طعنے دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ تم دونوں رات کے وقت اکیلے کیوں گھوم رہے تھے! جیوتی کا دوست اِنہیں بس روکنے کے لئے کہتا ہے مگر وہ مار مار کر اسے بیہوش کر دیتے ہیں اور اِس کے بعد جیوتی کو کھینچ کر بس کے پچھلے حصے میں لے جاتے ہیں اور لوہے کی راڈ سے اُس پر ایسا تشدد کرتے ہیں جس کی تفصیل بتائی نہیں جا سکتی اور پھر اُس کا گینگ ریپ کرتے ہیں، اِس دوران بس ڈرائیور اطمینان سے بس چلاتا رہتا ہے۔ گیارہ بجے کے قریب یہ درندے اِن دونوں کو بس سے باہر پھینک کر فرار ہو جاتے ہیں۔ سڑک پر کوئی راہ گیر انہیں نیم مُردہ زخمی حالت میں دیکھ کر پولیس کو اطلاع دیتا ہے جس کے بعد دونوں کو اسپتال منتقل کر دیا جاتا ہے۔ ایک ہفتے کے اندر جیوتی کے پانچ آپریشن ہوتے ہیں، اُس کی باقی ماندہ زخمی انتڑیاں نکالی جاتی ہیں، 27دسمبر کو جیوتی کو ہوائی ایمبولنس کے ذریعے سنگاپور کے اسپتال پہنچایا جاتا ہے مگر وہ جانبر نہیں ہو پاتی اور دو دن بعد اُس کی موت واقع ہو جاتی ہے۔ اِس واقعے سے پورا ہندوستان لرز اُٹھتا ہے، دہلی سے لے کر چنائی تک اور کوچی سے لے کر ممبئی تک لوگ شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے احتجاج کرتے ہیں، تمام چھ کے چھ مجرمان کو گرفتار کر لیا جاتا ہے ، مقدمے کے دوران ایک مجرم خودکشی کر لیتا ہے جبکہ نابالغ لڑکے کو تین سال کی قید ہوتی ہے۔ باقی چار مجرموں کو 20مارچ 2020کو پھانسی پر لٹکا دیا جاتا ہے۔ یہ واقعہ جس قدر خوفناک تھا اُس کے اثرات بھی اتنے ہی دور رس مرتب ہوئے، بھارت کی بہت سی ریاستوں نے خواتین کی حفاظت کے لئے خصوصی قوانین بنائے، انڈین پینل کوڈ اور قانون شہادت میں ترامیم کی گئیں، پولیس اصلاحات کی گئیں جن کے نتیجے میںبہت سی مثبت تبدیلیاں ہوئیں۔ بھارت سے ریپ ختم نہیں ہوا مگر اِس واقعے نے ریپ سے متعلق کلچر کو تھوڑا بہت ہی سہی مگر تبدیل ضرور کیا۔

دنیا کا بڑے سے بڑا واقعہ بھی ہمیشہ شہ سرخیوں میں نہیں رہتا۔ ہر واقعے کی ایک ’شیلف لائف‘ ہوتی ہے جس کے بعد وہ ختم ہو جاتا ہے۔ موٹروے گینگ ریپ کا واقعہ بھی چند ماہ یا چند ہفتوں بعد معدوم ہو جائے گا، یہ قدرتی امر ہے، اصل بات یہ ہے کہ ہم اِس واقعے سے سبق سیکھ کر کیا اقدامات کرتے ہیں۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ سر عام پھانسی اِس کا حل ہے، کسی کی تجویز ہے کہ ایسے مجرموں کو شرعی سزائیں دینی چاہئیں اور کوئی یہ سمجھتا ہے کہ یہ سب فحاشی اور عریانی کی وجہ سے ہوتا ہے۔ ہو سکتا ہے ایسا ہی ہو مگر یہ جاننے کا کوئی پیمانہ بھی ہونا چاہئے اور یہ پیمانہ ایک ادارے نے بنا رکھا ہے، نام ہے ادارہ برائے خواتین، امن اور تحفظ(GIWPS)۔ اِس ادارے کے 2019کے اشاریے کے مطابق خواتین کے لئے پہلے پانچ بہترین ممالک میں ناروے، سوئٹزر لینڈ، ڈنمارک، فن لینڈ اور آئس لینڈ شامل ہیں۔ آخری اطلاعات ملنے تک اِن میں سے کسی ملک میں سر عام پھانسی کا رواج نہیں، کہیں شرعی سزائیں نہیں دی جاتیں اور عریانی اور فحاشی کو مورد الزام نہیں ٹھہرایا جاتا۔ اِس کے برعکس بدترین پانچ ممالک میں یمن، افغانستان، شام، پاکستان اور جنوبی سوڈان شامل ہیں، بدقسمتی سے یہ پانچوں مسلم اکثریتی ممالک ہیں۔ جس ادارے نے یہ اشاریہ مرتب کیا ہے وہ امریکہ میں ہے لہٰذا تعصب کا شبہ کیا جا سکتا ہے مگر انہی امریکی اداروں کی رپورٹوں کو ہم چوم چاٹ کر پیش کرتے ہیں جب وہ اپنے ہی ملک کے اعداد و شمار مرتب کرکے بتاتی ہیں کہ اُن کی جامعات میں کتنی لڑکیوں کے ساتھ دراز دستی کے واقعات پیش آئے۔ اِس اشاریے پر ہم جتنی بھی تنقید کر لیں مگر ہم میں سے ہر شخص یہ جانتا ہے کہ قندھار اور ہیلسنکی میں سے اگر کسی ایک شہر کا انتخاب کرنا پڑے تو اپنی بہن بیٹی کے لئے ہم کس شہر کو ترجیح دیں گے! جو مغربی ممالک اِس اشاریے میں اوپر ہیں وہاں خواتین اِس لئے خود کو محفوظ سمجھتی ہیں کیونکہ اِن ممالک نے طویل عرصے کی جدوجہد کے بعد اپنے ملک میں ایسا ماحول پیدا کیا ہے جس میں عورت کو بھیڑ، بکری یا دوسرے درجے کا شہری سمجھنے کے بجائے مرد کی طرح مکمل انسان سمجھا جاتا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ مغرب میں اب عورت کی تذلیل نہیں ہوتی، وہاں کی آزادی اب نت نئے جرائم کو جنم دے رہی ہے جو تاحال ہم تک نہیں پہنچے۔

سوال یہ ہے کہ ہم کیا کریں؟ جواب یہ ہے کہ ہمیں ریپ کلچر کو ختم کرنا ہوگا۔ یہ ریپ کلچر کیا ہے؟ یہ وہ مائنڈ سیٹ ہے جو کہتا ہے کہ عورت رات کو گھر سے باہر کیوں نکلی، اُس کے کپڑے ٹھیک نہیں تھے، وہ اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ فلم دیکھنے کیوں گئی، یہ عورتیں گھر کیوں نہیں بیٹھتیں، مردوں کی طرح بےشرمی کی باتیں کیوں کرتی ہیں، وغیرہ۔ اِس مائنڈ سیٹ کو ختم کرنے کے بجائے ہمارے پاس ہر بات کا ایک ہی علاج ہے ’سر عام پھانسی‘۔ سوال یہ ہے کہ اگر سر عام پھانسی سے بھی ریپ نہ رکے تو کیا اگلا مرحلے میں مجرموں کو سر عام کھولتے ہوئے تیل میں ڈالا جائے گا یا اُن کے اعضا کاٹے جائیں گے؟

تازہ ترین