آپ آف لائن ہیں
بدھ5؍ صفر المظفّر 1442ھ23؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

سوک سینٹر، محکمہ لینڈ کے دفتر میں فائرنگ، 2 افسران ہلاک

سوک سینٹر، محکمہ لینڈ کے دفتر میں فائرنگ، 2 افسران ہلاک


کراچی (اسٹاف رپورٹر، جنگ نیوز) سوک سینٹر میں واقع کے ڈی اے محکمہ لینڈ کے دفتر میں سرکاری افسران کا تنازع خونی تصادم میں تبدیل ہوگیا، مبینہ طور پر ایک دوسرے پر گولیاں چلادیں، ڈپٹی ڈائریکٹر لینڈگلستان جوہر وسیم عثمانی اوراسسٹنٹ ڈائریکٹر وسیم رضا ہلاک جبکہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر عبدالحفیظ زخمی ہوکر اسپتال پہنچ گئے۔

ایس ایس پی ایسٹ ساجد سدوزئی کے مطابق ابتدائی تفتیش کے مطابق واقعہ آپسی جھگڑے کا شاخسانہ ہے۔پولیس نے آفس سپرنٹنڈنٹ عمران شاہ کو حراست میں لے کر تفتیش شروع کردی۔ فائرنگ میں استعمال ہونے والا اسلحہ بھی فارنزک کیلئے بھیج دیا گیا۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق کمرے میں 6 افراد میٹنگ کیلئے جمع تھے، پھر تین افراد کو باہر نکال دیا گیا اور چند منٹوں بعد گولیاں چل گئیں۔ 

پولیس نے آفس سپرنٹنڈنٹ عمران شاہ کو حراست میں لے کر تفتیش شروع کردی ہے۔واردات میں استعمال ہونے والا اسلحہ فرانزک کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق نیو ٹاؤن تھانے کی حدود سوک سینٹر کے تیسرے فلور پر واقع کراچی ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے محکمہ لینڈ کے دفتر منگل کی سہ پہر فائرنگ کے نتیجے میں تین افراد زخمی ہو گئے،فائرنگ کے نتیجے میں بھگڈر مچ گئی اور خوف وہراس پھیل گیا۔

واقعہ کی اطلاع پر پولیس اور ریسکیو ادارے موقع پر پہنچے اور زخمی ہونے والے تینوں افراد کو اسٹیڈیم روڈ پر واقع نجی اسپتالوں میں منتقل کیا جہاں دوران علاج دو افراد 54سالہ محمد وسیم عثمانی ولد سلیم عثمانی اور53سالہ وسیم رضا ولدمحسن نقوی دم توڑ گئے جبکہ حفیظ الحسن لود حنیف کو طبی امداد دی جا رہی ہے۔

ایس ایس پی ایسٹ ساجد سدوزئی کے مطابق منگل کی سہ پہر 4بجے کے قریب سوک سینٹر کے تھرڈ فلور پر واقع کے ڈی اے بلڈنگ میں اسسٹنٹ ڈائیریکٹر محمد وسیم عثمانی کے دفتر میں فائرنگ کا واقعہ پیش آیا،جاں بحق اور زخمی ہونے والے تینوں افراد کے ڈی اے کے ملازم ہیں۔ 

انہوں نے بتایا کہ پولیس کو جائے وقوعہ سے زخمی ہونے والے 54سالہ حفیظ الحسن ولد حنیف کے قریب سے ایک پستول اور پانچ خول بھی ملے ہیں جس سے بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ فائرنگ اسی کی جانب سے کی گئی ،انہوں نے بتایا کہ موقعہ واردات سے ایک مشکوک شخص سید عمران شاہ جو کہ واقعہ سے 10سے 15منٹ قبل کمرہ واردات سے باہر آیا تھا کو پولیس نے حراست میں لیکر تفتیش شروع کر دی ہے۔

جاں بحق ہونے والے وسیم رضا محکمہ لینڈ میں ایڈیشنل اسسٹنٹ ڈائیریکٹر جبکہ محمد وسیم عثمانی اسسٹنٹ ڈائریکٹر تھے،زخمی ہونے والا حفیظ ولد محمد حنیف سپریٹینڈنٹ ہے اور اسکے سینے میں گولی لگی ہے ،انہوں نے بتایا کہ زخمی کی حالت اب خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔

دوسری جانب سوک سینٹر کے اندر اس واقعہ نے سیکورٹی کے نظام کی قلعی کھول دی ہے،اس سے قبل بھی سوک سینٹر میں فائرنگ کے واقعات پیش آ چکے ہیں،عمارت میں لگے اسکینرز اور کیمروں کے باوجود اسلحہ اندر آیا اور استعمال بھی ہوا،عمارت کے احاطے اور مرکزی عمارت میں گارڈز کی موجودگی کے باوجود اس طرح کا واقعہ پیش آیا جس نے عمارت کی سیکورٹی اقدمات پر کئی سوال کھڑے کر دیئے ہیں۔ 

کے ڈی اے سوک سینٹر میں پیش آنے والے فائرنگ کے واقعہ کی اصل وجہ فوری سامنے نہ آسکی افسران اور اسٹاف مختلف مفروضوں پر بات کرتے رہےکچھ کا کہنا تھا کہ لین دین کا معاملہ ہوسکتاہے یہ بات بھی سامنے آئی کہ ایک ماتحت ملازم کےتبادلے کا معاملہ جھگڑے کاسبب بنا جبکہ پولیس کی تفتیش جاری ہے، اس سلسے میں جنگ نے ڈائریکٹر جنرل کے ڈی اے آصف اکرام وجہ معلوم کرنے کے لئے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ بند کمرے میں پیش آیا کمرے میں صرف تین لوگ تھے جن میں میں سے دو ہلاک ہوگئے تیسرا زخمی اور بے ہوش ہے۔ 

تاہم اس کی حالت خطرے سے باہر ہےجب تک وہ ہوش میں نہیں آجاتا صیح صورتحال سامنے نہیں آ سکے گی کیونکہ بے ہوش متاثرہ شخص ہونے کے ساتھ گواہ بھی ہے چوتھا فرد جسے پولیس نے تحویل میں لیا ہے اسے فائرنگ کے واقعے سے قبل کمرے سے نکال دیا گیا تھا بند کمرے میں کیا ہوا یہ کہنا قبل از وقت ہو گا پولیس کی تفتیش مکمل ہونے کے بعد ہی صورتحال سامنے آسکے گی۔ 

ایک سال قبل جولائی 2019ء میں بھی سوک سینٹر میں فائرنگ کا واقعہ پیش آیا تھا اور سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی میں ہونے والی فائرنگ کے نتیجے میں مزدور رہنماء اشرف شاہ جاں بحق ہوگئے تھے، سوک سینٹر میں 18 مختلف محکموں کے دفاتر ہیں اور تقریباً 8ہزار ملازمین کام کرتے ہیں10سے 15 ہزار افراد روزانہ سوک سینٹر آتے ہیں۔ 

گیٹس پر سیکورٹی گارڈز تعینات ہونے کے ساتھ عمارت کے اندر جانے کے لئے واک تھرو گیٹ بھی نصب ہیں لیکن بڑی تعداد میں لوگوں کی آمدورفت کے باعث کم تعداد میں تعینات سیکورٹی گارڈز کے لئے ہر فرد کی جامہ تلاشی ممکن نہیں ہوتی سوک سینٹر آنے والی بعض شخصیات کے سا تھ اسلحہ بردار پرائیویٹ گارڈ بھی اندر عمارت میں آتے ہیں تاہم ملازمین کا آزادانہ اندر اسلحہ لے کر جانانہ صرف تشویشناک ہے بلکہ اسے نہ روکا گیا تو آئندہ بھی کوئی ایسا سانحہ پیش آسکتا ہے ۔ 

فائرنگ کا مقدمہ نیوٹائون تھانے میں جاں بحق ہونے والے افسر وسیم عثمانی کےبھائی کی مدعیت میں مقدمہ درج کرلیا گیا۔ جبکہ دوسری فائرنگ کرنیوالےملزم حفیظ کرنیوالےملزم حفیظ کابیان قلمبندکرلیاگیا۔

پولیس کے مطابق ملزم حفیظ نے بیان دیا ہے کہ کافی عرصے سے دونوں افسران سےکام مانگ رہاتھاجو نہیں دےرہےتھے، متعدد بارکام نہ دینےپرمایوس ہوا،پستول گھرسےلایاتھا،دونوں نےکمرےمیں پکڑنےکی کوشش کی توپستول نکال لی،ملزم کاکہنا ہے کہ دونوں افسران نےپکڑاتوگولیاں چل گئیں،اندازہ نہیں تھااتنےفائرہوجائیں گے۔

اہم خبریں سے مزید