آپ آف لائن ہیں
منگل 2ربیع الاول 1442ھ20؍اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

ریپ کے مجرموں کیلئے سزائے موت کا قانون لانے پر غور

انصار عباسی

اسلام آباد :… خواتین اور بچوں کے ساتھ ریپ میں ملوث افراد، جن کے کیسز میں سنگین پہلو زیادہ ہوتا ہو، کو سزائے موت دینے، اس مقصد کیلئے خصوصی عدالتیں بنانے، اور ایسے واقعات کو نا قابل مصالحت بنانے کیلئے حکومت موجودہ قوانین میں تبدیلیاں لانے پر غور کر رہی ہے۔ اس نئی قانون سازی اور تجاویز کی تیاری میں مصروف کابینہ کے ایک اہم رکن نے دی نیوز کو بتایا کہ کیمیائی طور پر نا مرد بنانے کی تجویز بھی موجود ہے لیکن اعتراض یہ ہے کہ اس عمل کے باوجود مجرم کی مجرمانہ ذہنیت کا علاج نہیں ہوگا، کیونکہ وہ کسی اور طرح سے لوگوں کو نقصان پہنچانے کیلئے آزاد پھر رہا ہوگا۔

کہا جاتا ہے کہ ان تجاویز میں سر عام پھانسی کا آپشن شامل نہیں ہے بلکہ یہ تجویز دی جا سکتی ہے کہ جیل میں مجرموں کو پھانسی دینے کا عمل ٹیلی ویژن پر دکھانے کا خیال معاشرے میں جرائم کے آگے بند باندھ سکتا ہے۔ تاہم، یہ واضح کیا گیا ہے کہ آئندہ چند روز میں ان تجاویز میں تبدیلی بھی آ سکتی ہے کیونکہ ایک سے دو روز میں پی ٹی آئی کے اندر ان پر بحث و مباحثہ ہوگا جس کے بعد انہیں پارلیمنٹ میں بحث کیلئے پیش کیا جائے گا تاکہ قانون کو اکثریت کے ساتھ منظور کیا جا سکے۔

ان تجاویز میں ریپ کو ناقابل مصالحت جرم بنانے پر بھی غور کیا جا رہا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ متعلقہ فریقین کے درمیان مقدمہ خارج کرنے کیلئے کوئی سمجھوتا نہیں ہو سکے گا۔ فی الوقت ریپ ایسا جرم نہیں ہے جس پر سزائے موت دی جا سکے۔ تجویز پیش کی جا رہی ہے کہ بچوں کے ساتھ ریپ کرنے والوں کو سزائے موت دی جائے اور ساتھ ہی خواتین کے ساتھ ریپ کے کیس میں اگر سنگین پہلو جڑے ہوں تو اس کیس میں بھی مجرم کو سزائے موت دینے کی تجویز ہے۔

ریپ کے دیگر کیسز میں اگر کسی مجرم کو عمر قید کی سزا سنائی جائے گی تو اس کا مطلب ہوگا کہ وہ تادم مرگ قید میں رہے گا۔ اگر ریپ کیس کے مجرم کو مخصوص برس تک قید کی سزا سنائی جائے تو اسے کسی طرح کی معافی نہیں مل سکے گی۔ ریپ کے سزا یافتہ مجرموں کو کسی طرح کی معافی یا سزا میں رعایت نہیں ملے گی۔

ایک اور تجویز یہ بھی ہے کہ ریپ کیسز کی تحقیقات گزیٹڈ افسر ترجیحاً خاتون افسر کریں گی۔ تیز رفتار ٹرائل کو یقینی بنانے کیلئے تجویز ہے کہ ریپ کیسز کیلئے اسپیشل کورٹس تشکیل دی جائیں۔ کہا جاتا ہے کہ ریپ کا شکار ہونے والا متاثرہ شخص عدالت میں پیش ہونے میں مشکلات کا سامنا کرتا ہے۔

اہم خبریں سے مزید