آپ آف لائن ہیں
اتوار7؍ ربیع الاوّل1442ھ 25؍اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

ہیروئن اسمگلنگ کوشش،پاکستانی نژادبرطانوی شہری کو سزائے موت

راولپنڈی (شاہد سلطان، نمائندہ جنگ) انسداد منشیات کی خصوصی عدالت راولپنڈی ڈویژن کے جج سہیل ناصر نے سترہ کلو ہیروئن برمنگھم سمگل کرنے کی کوشش پر گرفتار پاکستانی نژاد برطانوی شہری کو سزائے موت، اس کی بیوی کو چار سال قید تاہم تینوں نابالغ بچوں کو عرصہ حوالات کی سزا سنا دی۔

شام پانچ بجے سنائے گئے فیصلے میں عدالت نے میاں بیوی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کیسے ماں باپ ہیں جنہیں اپنے بچوں کا بھی خیال نہیں اور ایک میں ہوں جو کیس کو پڑھنے کے بعد گزشتہ دو راتوں سے نیند پوری نہیں کر سکا کہ آخر ان بچوں کی بچت کیلئے کونسا راستہ نکالا جائے کیونکہ عدالتیں بھی بچوں کی پاسبان ہوتی ہیں۔

عدالت نے کہا کہ اس کیس کے مرکزی ملزم باپ کو اس لئے سزائے موت دی جا رہی ہے کہ اس نے اپنے مذموم عزائم کی تکمیل کیلئے اپنے نابالغ بچوں کو بھی آگ میں دھکیل دیا اور یہ کیسی ماں ہے جو ان پر شجر سایہ بننے کی بجائے تپتی دھوپ بن گئی ہے۔

معلوم ہوا ہے کہ اے این ایف نے گزشتہ سال تین ستمبر کو چھٹیاں گزار کر برمنگھم برطانیہ واپسی کیلئے صبح ساڑھے دس بجے ایئرپورٹ پہنچنے والے میرپور آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والے عابد منظور کو روک کر اس کے دو بیگوں سے چھ چھ کلو، اس کی اہلیہ امروزیہ بی بی کے بیگ سے دو کلو جبکہ بیٹی کرن عابد، بیٹے فیاض عابد اور بھتیجے احسان فاروق کے بیگ سے بڑی مہارت سے چھپائی گئی ایک ایک کلو ہیروئن برآمد کر کے ملزمان کو گرفتار کیا تھا ان کے ہمراہ ایک آٹھ سالہ بچہ بھی تھا۔

اس کیس میں بچوں اور میاں بیوی کا وکیل علیحدہ علیحدہ تھا، تینوں بچوں کا موقف تھا کہ ہمارا منشیات سے کوئی تعلق نہیں ہم علیحدہ سے ایئرپورٹ آئے اور سفر بھی علیحدہ ہی کرنا تھا لیکن ہمیں بلاوجہ پکڑ لیا گیا۔

عدالت نے جب چار روز میں کیس کا ٹرائل مکمل کر لیا تو میاں بیوی کے وکیل نے اعتراض کرتے ہوئے وقوعہ کے روز کی سی سی ٹی وی ویڈیو طلب کرنے کی درخواست دائر کر دی۔

گزشتہ روز جب بھری عدالت میں ویڈیو چلائی گئی تو پانچوں ملزم بین الاقوامی پرواز کیلئے داخلی راستے سے ایک ساتھ اندر آئے، ایک ساتھ سکینگ مشین پر رکے، ویڈیو میں تمام ملزمان کے پاس جو بیگ تھے پراسیکیوٹر نے وہی بیگ بطور مال مقدمہ عدالت میں پیش کئے ہوئے تھے۔

وکیل صفائی نے ویڈیو دیکھنے کے بعد لاجواب ہونے کی بجائے فوری یو ٹرن لیتے ہوئے کہا کہ اس ویڈیو کا فرانزک کروایا جائے کیونکہ ویڈیو میں لیڈی کانسٹیبل اور باقی کی کارروائی نظر نہیں آرہی۔

اہم خبریں سے مزید