آپ آف لائن ہیں
اتوار7؍ ربیع الاوّل1442ھ 25؍اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

صحافی کا کام اخبار میں خبر دینا نہ کہ عدالت آنا ،جسٹس اطہر من اللہ

اسلام آباد (نمائندہ جنگ)چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ اطہر من اللہ نے سی ڈی اے میں ڈیپوٹیشن افسران کے خلاف درخواست پر سخت برہمی کااظہارکرتے ہوئے پٹیشنر کے وکیل کو ہدایت کی کہ درخواست گزار کو سمجھائیں بطورصحافی وہ اپنا فورم استعمال کریں ، سی ڈی اے افسران کے حوالہ سے اسے کیا مفاد ہے؟ گذشتہ روز فرخ نواز بھٹی کی درخواست پر سماعت کے دوران عدالت نے استفسارکیاکہ درخواست گزار کون ہے اور اس نے اور کتنی درخواستیں دائر ہیں؟ وکیل نے کہاکہ درخواست گزار صحافی ہے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ صحافی کا کام ہے اخبار میں خبر دینا نہ کہ عدالت آنا ، صحافی کے پاس زبر دست پلیٹ فارم ان کی جرنلزم ہے ۔ عدالت نے درخواست گزار کے وکیل کو دلائل سے روکتے ہوئے کہاکہ ایسے لگتاہے اس بنچ کے پاس ایک درجن کے قریب اس کی پٹیشنز زیر التواءہیں ، سی ڈی اے افسران کے حوالہ سے پٹیشنر کو کیا مفاد ہے؟ صحافی اپناکام کرے ، ہمیں بتا دیں ایسے درخواست گزار کی درخواستیں کیوں سننی چاہئیں؟ کیاپہلے زیر التواءکیسز نہیں نمٹانے چاہئیں؟ آپ جیسے

قابل وکلاءاور بارکی بھی ہمیں کیسز التواءختم کرنے میں مدد چاہئے ، اس پٹیشنر کی ایک درخواست منظور بھی کرچکے ہیں لیکن یہ تمام سی ڈی اے کے خلاف ہی کیوں آتی ہیں ، پٹیشنر اگر صحافی ہے تو اسے خود کہنا چاہئے کہ ایسی پٹیشنز نہ آئیں ، یہاں پر لوگوں کی اپیلیں زیر سماعت ہیں اور یہ عوامی مفاد کا کیس بھی نہیں ہے ، افسران کی تقرریاں و تبادلے ایگزیکٹو کا کام ہے ، یہ عدالت ایگزیکٹو معاملات میں مداخلت نہیں کرتی ، درخواست گزار کی ایک اور درخواست پر یہ عدالت آرڈر دے چکی ہے۔

اہم خبریں سے مزید