آپ آف لائن ہیں
جمعہ12؍ربیع الاوّل 1442ھ 30؍اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

بچوں کو اسکرین اور گیجٹز سے دُور رکھیں

آج کل کے بچے اپنا زیادہ سے زیادہ وقت گھر پر پلے اسٹیشن ،ویڈیو گیمز، موبائل فونز اور ٹیپ لیٹ پر گیم کھیلتے ہوئے گزارتے ہیں ۔یہ عمل ان کی صحت پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے ۔ والدین کو چاہیے انہیںگھر سے باہر کھیلنے کاعادی بنائیں۔صحت مند رہنے کے لیے بھی بچوں کو باہر کھیلنا چاہیے۔ان کو اسکرین اور گیجٹز سے دور رکھنے کے لیے ایسا کرنا ضروری ہے ۔

اگر ہم اردگرد نظر دوڑائیں تو ہمیں گھر میں رہنے اور گھر سے باہر کھیلنے والے بچوں کی صحت میں واضح فرق نظر آئے گا ۔ان سے نا صرف ان کو جسمانی طور پر فائدہ ہوتا ہےبلکہ لوگوں سے کس طر ح بات کرنی ہے،کس کے ساتھ کیسا رویہ اختیار کرنا ہے اور اس کے علاوہ ان کے اندر سستی اور کاہلی بھی ختم ہوتی ہے۔

صحت ونشو ونما

جسمانی سر گرمیوں کے لیے سب سے بہتر ہے کہ اپنے بچوں کو باہر کھیلنے کے لیے لے کر جائیں ۔ان کو کھیل کے ساتھ ساتھ مختلف ایکسرسائز اورایر وبکس کا بھی عادی بنائیں ۔اس طر ح ان کی ہڈیاں اور پٹھے لچک دار اور مضبو ط ہوتے ہیں ۔یہ عمل ان کو موٹاپے اور دل کی بیماریوں اور دیگرا مراض سے بھی محفوظ رکھتا ہے ۔باہر کھیلنےسے بچوں کے دماغ کی نشوونما بھی ہوتی ہے اوربھاگ دوڑ کرنے سے بچوں میں توانائی پیدا ہوتی ہے ۔

سماجی مہارت

ہر بچے کو یہ جاننا ضروری ہے کہ دوسرے لوگوں کے ساتھ کیسا سلوک کرنا ہے اور مل کر کس طر ح کام کرنا ہے ۔جب بچے گھر سے باہر نکلتے ہیں اور دوسرے بچوں سے ملتے ہیں تو ان میں ایک دوسرے سے بات کرنے کا موقعہ ملتا ہے اس طر ح ان میںخوداعتمادی بھی پیدا ہو تی ہے ۔ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنا سیکھتے ہیں ،آپس میں محبت سے پیش آتے ہیں اورمل جل کر رہتے ہیں ۔لڑائی جھگڑے سے نمنٹے کا کام بھی آسانی سے انجام دیتے ہیں۔

تخلیقی صلاحیت

باہر کھیلنے سے بچوں میں متعدد چیزوں کو سیکھنے کی صلاحیت میں اضافہ ہو تا ہے ۔کھیل کودکے ذریعے بچوں کو نئی معلومات اور چیزوں کی مہارت میں بھی مدد ملتی ہے ۔تعلیم کو کتابوں تک محدود نہیں رکھنا چاہیے بلکہ ان میں دل چسپی بڑھانے کے لیے سرگرمیاں اور بچوں کے کھلونے بھی شامل کرنے چاہیے۔

یہ عمل ان کے تخیل میں اضافہ کرکے بچوں کی تخلیقی صلاحیتوں کو بڑھاتا ہے ۔گھر کے اندر رہنا بچوں کے ذہنوں کو محدود کردیتا ہے اور وہ اس سے آگے سوچنے کے قابل نہیں رہتے ۔باہر نکل کر ان کو نت نئی چیزیں دیکھنے کو ملتی ہیں ،جس سے ان کی سوچ کے نئی زوایے کھلتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ وہ تعلیم میں بھی نمایاں کار کر دگی کا مظاہرہ کرتے ہیں ۔

خوشی میں اضافہ

عام طور پر یہی دیکھا جا تا ہے کہ بچے باہر جانے سے خوش ہوتے ہیں ۔جب وہ خوش ہوتے ہیں تو ان میں مثبت سوچ پیدا ہوتی ہے ۔آج کل بچوں میں تشویش اور ڈپریشن بڑھ رہا ہے۔ اس سے دور رکھنے کے لیے بچوں کوباہر کھیلنے کے لیے بھیجنا ضروری ہے۔بچے ہمارا مستقبل ہیں ان کا فعال اور ہوشیار ہونا ضروری ہے ،انہیں ماحول کی دیکھ بھال کرنے کے لیے سیکھنے کی ضرورت ہے۔