آپ آف لائن ہیں
جمعہ12؍ربیع الاوّل 1442ھ 30؍اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

عالمی ادارۂ صحت اور ورلڈہارٹ فائونڈیشن کے باہمی تعاون سے دُنیا بَھر میں ہر سال29 ستمبر کا دِن’’عالمی یومِ قلب‘‘ کے طور پرمنایا جاتا ہے،جس کا مقصد دِل کے امراض سے متعلق معلومات ،روک تھام اور احتیاطی تدابیر سے شعور و آگہی عام کرنا ہے۔امسال جس تھیم کا انتخاب کیا گیا ہے، وہ "Use Heart To Beat Cardiovascular Diseases" ہے۔ یعنی ’’امراضِ قلب کی شکست کے لیے دِل کا استعمال کریں‘‘۔رواں برس یہ یوم اس لیے بھی اہمیت کا حامل ہے کہ کووڈ-19کی وجہ سے ہمارے معمولاتِ زندگی بہت تبدیل ہوچُکے ہیں۔

اگرچہ کئی مُمالک میں بشمول پاکستان لاک ڈاؤن ختم ہوچُکا ہے، مگر اس کے نتیجے میں جہاں معاشی، ذہنی، نفسیاتی اور دیگر غیر معمولی مسائل و کیفیات نے جنم لیا، وہیں جسمانی صحت بحال رکھنے کے لیے کی جانے والی سرگرمیوں مثلاً ورزش، تیزقدمی وغیرہ کے فقدان سے امراضِ قلب اور ہارٹ اٹیک کی شرح میں گزشتہ برس کی نسبت اضافہ ہواہے۔ اگر خدانخواستہ ذیابطیس اور بُلند فشارِخون کے مریض کورونا وائرس سے متاثر ہوجائیں، تو عام افراد کی نسبت ان میں ہارٹ فیلیئر (Heart Failure)کے امکانات بڑھ جاتے ہیں،لہٰذا اب اپنی اور اپنے پیاروں کی صحت کا خیال رکھنا پہلے سے بھی زیادہ ضروری ہو گیا ہے۔

عالمی ادارۂ صحت کی جانب سے جاری کردہ اعداد وشمار کے مطابق امراضِ قلب سےدُنیا بَھر میں ہر سال17.5ملین افراد جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔نیز،دُنیا بَھر میں ہونے والی31فی صد اموات کی سب سے بڑی وجہ بھی قلب کے عوارض ہی ہیں۔دِل کے عوارض لاحق ہونے کی وجوہ میں سرِ فہرست تمباکو نوشی، ذیابطیس، بُلند فشارِ خون، موٹاپا ، ذہنی دباؤ،دِل کی موروثی بیماریاں، ورزش نہ کرنا اور سہل پسندی شامل ہیں،جن میں اب کووڈ-19کو بھی شمار کیا جارہا ہے۔ یہ تمام اسباب مَرد و خواتین میں امراضِ قلب کی وجہ بنتے ہیں، لیکن دِل کے دورے کے امکانات مَردوں میں زیادہ پائے جاتے ہیں۔نیز، بچّے بھی عوارضِ قلب کا شکار ہوتے ہیں۔

تاہم، ان میں پیدایشی نقص جیسے دِل میں سوراخ،وی ایس ڈی (Ventricular Septal Defect)، اے ایس ڈی(Atrial Septal Defect) اور ٹی او ایف (Tetralogy Of  Fallot)،رنگ نیلا پڑجانا، دِل کا پیدایشی طور پر کم زور ہونا وغیرہ عام ہیں۔ ایسے بچّوں کے دِل کا آپریشن عمومی طور پر5سال کی عُمر تک ہوجانا چاہیے،جب کہ سرجری کے بعد بلوغت تک خاص خیال رکھنا چاہیے۔ خصوصاً انھیں کسی بھی قسم کے انفیکشن سے بچانا بہت ضروری ہے۔ ابھی مُلک سے کورونا وائرس کا خطرہ ٹلا نہیں ہے، لہٰذا ایسے بچّوں کو ہجوم اور اجتماعات سے دُور رکھا جائے۔نیز، دل کے اسپتال کی ٹیلی میڈیسن او پی ڈی سے باقاعدہ معائنہ کروایا جاتا رہے۔ 

اگرچہ مَردوں کی نسبت خواتین عوارضِ قلب میں کم مبتلا ہوتی ہیں، مگر ان میں سے زیادہ تر کو ریومیٹک ہارٹ ڈیززی وجہ سے نوجوانی ہی میں دِل کے آپریشن کے مرحلے سے گزرنا پڑتا ہے کہ اس میں دِل کے والوز متاثر ہوجاتےہیں۔ پھر حاملہ خواتین میں سے جو جسمانی طور پر کم زور ہوں، اُن میں دِل کی کم زوری (Peri Partum Cardiomyopathy) ایک بہت تکلیف دہ بیماری ثابت ہوتی ہے کہ اس مرض کی وجہ سے دورانِ حمل اور حمل کے بعد بھی متاثرہ ماں کے دِل کے پٹّھے کم زور ہو جاتے ہیں۔ حمل میں ہونے والی بیماریاں جیسے ذیا بطیس، بُلند فشارِ خون، خون کی کمی، ذہنی دباؤ اور 35سال سے زائد عُمر اس مرض کی پیچیدگی کے اسباب بنتے ہیں۔ اگر کوئی حاملہ دِل کی کم زوری کا شکار ہو تو زچگی کے لیے کسی ایسے اسپتال لے جایا جائے، جہاں ماہرِامراضِ قلب کی موجودگی اور زیر نگرانی یہ مرحلہ طے ہوسکے۔حاملہ خواتین میں خون گاڑھا ہونے کی شرح بھی زیادہ پائی جاتی ہے اور یہ خون عموماً رگوں اور ٹانگ کی وریدوں میں جم جاتا ہے۔ اسے طبّی اصطلاح میں Deep Vein Thrombosis کہتے ہیں۔ 

اگر یہ خون خدانخواستہ سانس کی بڑی شریانوں(Pulmonary Arteries) میں جم جائے، تو جان لیوا بھی ہو سکتا ہے۔ اس پیچیدگی سے بچنے کے لیے زیادہ سے زیادہ پانی پیئں، حمل کے آخری 3ماہ میں چلنے پھرنے والے کام زیادہ کریں اورچہل قدمی بھی معمول کا حصّہ بنالیں۔کووڈ-19سے حاملہ خواتین کے متاثرہ ہونے کی شرح عام مریضوں کے مقابلے میں کم ہے۔ مجموعی طور پر خواتین میں صرف 1.3فی صد شدید بیماری یعنیSevere Covid Long Device میں مبتلا دیکھی گئیں۔نیز، ان میں کورونا وائرس کے علاج کے لیے استعمال کی جانے والی ادویہ بھی زیادہ مؤثر ثابت ہوئیں۔

بلاشبہ دِل ہی زندگی کی ڈور سنبھالے ہوئے ہے،لہٰذا دِل کے امراض میں مبتلا افراد ڈاکٹرز کی ہدایت پرمکمل طور پر عمل کریں اور معمولی سی بھی تکلیف ہرگزنظر انداز نہ کریں۔ عارضۂ قلب کے وہ مریض، جن کی سی اے بی جی (Coronary Artery Bypass Grafting) یا دِل کی سرجری ہوئی ہو، وہ معالج کی تجویز کردہ ادویہ باقاعدگی سے استعمال کریں۔ نیز، متوازن غذا کا استعمال اور سات سے آٹھ گھنٹے سونا لازم ہے۔مصنوعی دِل کے والو یا Prosthetic Heart Valves کے مریض مہینے میں ایک بار بلڈ ٹیسٹ ضرور کروائیں۔

اصل میں یہ مریض خون پتلا کرنے کی ادویہ استعمال کرتے ہیں اور خون کو ایک مناسب حد تک ہی پتلا رکھا جاتا ہے۔عموماً خون کاٹارگٹ آئی این آر2.5سے3.0 ہونا چاہیے۔امراضِ قلب سے محفوظ رہنے کے لیے ضروری ہے کہ ان سے سے متعلق مکمل معلومات حاصل ہوں، تاکہ احتیاطی تدابیر پر عمل کیا جاسکے اور زندگی گزارنے کے بہتر رویّے اور طریقے اپنائے جاسکیں۔ 

پھر صحت مند ماحول بھی ضروری ہے،کیوں کہ ہمارے ارد گرد رہنے والے افراد اور عوامل بھی دِل کی صحت مندی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔سو،اپنے دِل کی آواز ضرور سُنیں۔وہ اس طرح کہ اگر آپ پہلے سے دِل کے کسی عارضے کا شکار ہیں مثلاً ہارٹ فیلیئر، والوز کی بیماریوں وغیرہ کے یا کبھی اٹیک ہوچُکا ہے، تو باقاعدگی سے اپنا طبّی معائنہ کروائیں۔ موسمی پھل، سبزیاں اور سلاد، آپ کے دِل کے لیے فاسٹ فوڈز اور بازاری کھانوں سے کہیں بہتر ہیں اور فارغ بیٹھ کر ڈیجیٹل ڈایوئسز کے استعمال پر وقت ضایع کرنے سے بہت بہتر ہے کہ ورزش کریں یا پیدل چلنا شروع کردیں۔

(مضمون نگار، پاکستان ائیر فورس اسپتال، اسلام آباد میں بطوراسسٹنٹ پروفیسر، کارڈیالوجی خدمات انجام دے رہی ہیں، جب کہ پری وینٹیو کارڈیالوجی اور پریگنینسی اینڈ ہارٹ ڈیزیز انٹروینشنل کارڈیالوجی اُن کے خاص موضوعات ہیں)