• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

یورپی یونین نےایران پرنئی امریکی پابندیوں کو مسترد کردیا، امریکہ جےسی پی اواے کے تحت نئی پابندیاں عائد نہیں کرسکتا، جوزپ بوریل

 برسلز( حافظ انیب راشد ) یورپین یونین نے ایران پر نئی امریکی پابندیوں کے اعلان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ( JCPOA) جے سی پی او اے کے تحت ان پابندیوں پر پابندی جاری رہے گی۔ یورپین یونین کی جانب سے یہ اعلان یورپین خارجہ امور کے سربراہ جوزپ بوریل نے آج جاری کردہ اپنے اعلامیے میں کیا ۔ انہوں نے کہا کہ وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کردہ قرارداد 2231 کے تحت اقوام متحدہ کی" اسنیپ بیک میکانزم " کے بارے میں نام نہاد پابندیوں کے امریکی اعلان کو نوٹ کر رہے ہیں ۔ انہوں نے اس حوالے سے اپنے 20 اگست اور JCPOA کے جوائنٹ کمیشن کے یکم ستمبر 2020 کو ہونے والے اجلاس کے بعد جاری کردہ اپنے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے 8 مئی 2018 کے بعد یکطرفہ طور پر جے سی پی او اے میں اپنی شرکت روک دی تھی اور اس کی کسی بھی سرگرمی میں حصہ لینا بند کر دیا تھا۔ اس ساری صورتحال میں اسے ایران کو ایٹمی قوت بننے سے روکنے کیلئے تیار کردہ JCPOA کی شریک ریاست نہیں سمجھا جاسکتا ۔ وہ خود اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 کے تحت جے سی پی او اے کے وعدوں کے خاتمے کا اعلان اور نئی پابندیاں عائد نہیں کرسکتا ۔ یاد رہے کہ یورپین خارجہ امور کے سربراہ جوزپ بوریل اس جوائنٹ کمیشن کے کو آرڈینیٹر ہیں جس نے ایران کے ساتھ اپنا جوہری پروگرام معطل کرنے کی صورت میں اس پر سے معاشی پابندیاں اٹھائی تھیں ۔ اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ جوائنٹ کمیشن کے کو آرڈینیٹر کی حیثیت سے میں اس معاہدے کے تحفظ اور مکمل نفاذ کو یقینی بنانے کیلئے ہر ممکن کوشش کرتا رہوں گا ۔ انہوں نے مزید یاد دلایا کہ جے سی پی او اے بین الا قوامی جوہری عدم پھیلاؤ کی روک تھام کا ایک اہم ستون ہے ۔ جس نے ایران کے ساتھ اس معاہدے کے ذریعے علاقائی اور عالمی سلامتی کو جامع انداز میں ایڈریس کیا ہے۔ انہوں نے تمام فریقین سے اپیل کی کہ وہ اس معاہدے کو برقرار رکھنے کے لئے اپنی پوری کوشش کریں اور کسی بھی ایسی کاروائی سے باز رہیں جو موجودہ صورتحال کو خراب کرنے کا سبب بنے۔ یاد رہے کہ گذشتہ روز امریکہ نے ایراکے خلاف یکطرفہ طور پر نئی پابندیاں عائد کرتے ہوئے مزید دھمکی دی تھی کہ امریکہ اقوام متحدہ کے ان رکن ملکوں کے خلاف بھی ایکشن لے گا جو ان پابندیوں کی پاسداری نہیں کریں گے۔ 

تازہ ترین